چترال میں مرغابیوں کے شکار پر پابندی عائد


ڈپٹی کمیشنر لوئر چترال نے ایک اہم اجلاس میں  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلچ ݰوتار ریاست پاکستان کی ملکیت ہے۔

 اس لئے ائندہ اس کو شکار  گاہ کے لئے استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔  کوئی بھی فرد اس مقام پر مرغابیوں کے لئے تالاب بنا سکتا ہے اور نہ شکار کر سکتا ہے ۔


رپورٹ: کریم اللہ


چترال بھر میں مرغابیوں کے شکار کیلئے مشہور مقام بلچ ݰوتار کو ریاست پاکستان کی ملکیت  قرار دے کر شکار پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔

 ڈپٹی کمشنر لوئر چترال انوار الحق کی زیر صدارت   ایک اہم اجلاس منعقد ہوا میں تمام ڈیپارٹمنٹ کے آفیسران موجود تھے۔

چترال بھر میں مرغابیوں کے شکار کیلئے مشہور مقام بلچ ݰوتار کو ریاست پاکستان کی ملکیت  قرار دے کر شکار پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔

 

 اس لئے ائندہ اس کو شکار  گاہ کے لئے استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔

 کوئی بھی فرد اس مقام پر مرغابیوں کے لئے تالاب بنا سکتا ہے اور نہ شکار کر سکتا ہے ۔

چترال میں مرغابیوں کے شکار کے لئے تعمیر شدہ مصنوعی تالابوں کا منظر۔

 انہوں نے کہا  کہ کسی کو اگر اس فیصلے کی خلاف ورزی کرتے دیکھا گیا تو ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں  لیا جائے گا ۔

ڈپٹی کمیشنر لوئر چترال نے کہا کہ بلچ ݰوتار ریاست پاکستان کی ملکیت ہے۔

 اس لئے ائندہ اس کو شکار  گاہ کے لئے استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔

 کوئی بھی فرد اس مقام پر مرغابیوں کے لئے تالاب بنا سکتا ہے اور نہ شکار کر سکتا ہے ۔

 

واضح رہے  کہ بلچ ݰوتار چترال بھر میں مرغابیوں کے شکار کے لئے مشہور ہے ۔

 سالانہ ہزاروں مرغابی موسم سرما میں اس مقام پر لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔

ڈپٹی کمشنر چترال کا فیصلہ مرغابیوں کی جان بخشی کیلئے اچھی اور شکاریوں کیلئے بری خبر ہے ۔

سماجی رابطوں کے ذرائع میں اس فیصلے پر ملا جلا رد عمل دیکھا گیا ہے۔

موسم سرما میں مرغابیاں بڑی تعداد میں جھنڈ کی شکل میں سائبیریا سے چترال میں داخل ہوتے ہیں

شکار کے شوقین حضرات اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ان کا موقف ہے کہ چونکہ مرغابیاں صرف موسم سرما  میں سائبریا سے چترال کا رخ کرتے ہیں ان کے شکار پر پابندی عائد کرنا غیر منطقی فعل ہے۔

پرندوں کے شکار کے مخالفین اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں ان کا موقف ہے کہ چترال میں موسمی پرندوں کا قتل عام اور نسل کشی ہورہی ہے جس پر پابندی لگانے سے ان پرندوں کی نسل کشی رک سکتی ہے۔

اس کے برعکس پرندوں کے شکار کے مخالفین اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں ان کا موقف ہے کہ چترال میں موسمی پرندوں کا قتل عام اور نسل کشی ہورہی ہے جس پر پابندی لگانے سے ان پرندوں کی نسل کشی رک سکتی ہے۔

چترال میں دریا کے کنارے بنائے گئے ان تالابوں میں جب مرغابی اترتے ہیں تو شکاری بندوق تان لیتے ہیں۔

ان کا موقف یہ بھی ہے کہ مرغابیاں سمیت سارے مقامی و مہاجر پرندے ہماری ماحولیات کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جبکہ علاقے کی خوبصورتی میں ان پرندوں کی اہمیت مسلمہ ہے لہذا پورے اپر و لوئر چترال میں ہر قسم کے شکار پر پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں