110

ایران: چالیس دن میں بیس ہزار سے زائد گرفتاریاں


لاہور: جدوجہد رپورٹ


ایران میں بغاوت اور احتجاجی تحریک کو چالیس روز مکمل ہو چکے ہیں۔ پیر کو  انتالیس روز مکمل ہونے پر ملک بھر کی درجنوں جامعات میں بھرپور مظاہرے منعقد کئے گئے۔

اب تک ملک بھرمیں بیس ہزار سے زائد گرفتاریاں کی جا چکی ہیں۔ اکیس سالہ نگین عبدالمالکی، جو ہمدان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بائیوکیمیکل انجینئرنگ کی طالبہ تھیں، بھی سکیورٹی فورسز کے بہیمانہ تشدد کے باعث ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

’ویمن کمیٹی آف ایران‘ کے مطابق ایرانی مزاحمت کی طرف سے حاصل کردہ ایک انتہائی خفیہ دستاویز میں ایرانی پاسداران کے کمانڈر ان چیف نے بغاوت کے پہلے دو ہفتوں کے دوران بیس ہزار چار سو پینتالیس گرفتاریوں کی رپورٹ سپریم لیڈ خامنہ ای کو ارسال کی ہے۔

حسین سلامی کی رپورٹ کے مطابق فورسز نے 9 ہزار 654 افراد کو گرفتار کیا، اسٹیٹ سکیورٹی فورس نے 9545 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ وزارت انٹیلی جنس نے 1246 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد میں 42 فیصد کی عمریں 20 سال سے کم تھیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گرفتار کئے گئے بہت سے لوگ پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن سے منسلک تھے۔

سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ایک ماہ کے دوران صرف تہران میں مظاہروں میں شرکت کرنے والے کم از کم 6000 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ایک اور سرکاری ویب سائٹ نے بھی ملک بھر میں حالیہ بدامنی میں کم از کم 20 ہزار سے زائد افراد کی گرفتاری رپورٹ کی ہے۔

پیر کے روز تہران میں خواتین نے سٹی تھیٹر میٹرو اسٹیشن میں ’مرگ بر خامنہ ای‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے ریلی نکالی۔

 مظاہرین حکومت کا تختہ الٹنے اور کرپٹ نظام حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ طلبہ نے حکومتی ترجمان کو یونیورسٹی چھوڑنے پر بھی مجبور کر دیا۔

تہران کے طلبہ نے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی، سکول فارن لینگویجز اینڈ لٹریچر اور تہران یونیورسٹی کے سکول آف سائیکالوجی اینڈ ایجوکیشنل سائنسز، آزاد یونیورسٹی کی مغربی برانچ، علامیہ یونیورسٹی کے سکول آف اکنامکس، از زہرا یونیورسٹی، تہران یونیورسٹی سکول آف مینجمنٹ، خرزمی یونیورسٹی، امیر کبیر یونیورسٹی اور آزاد یونیورسٹی سکول آف میڈیکل سائنسز میں احتجاج کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں