96

پی ٹی آئی حکومت میں سرکاری ملازمتین کوڑیوں کے دام بک رہی ہے ۔ سلیم خان


رپورٹ: کریم اللہ


جو عوامی نمائندے دن دو بجے تک سوئے رہے اور ملاقاتی چار چار گھنٹے ان کے صحن میں خوار ہوتے رہے وہ کیا خاک عوامی خدمت کا دعوی کریں گے، چیرمین تحصیل کونسل چترال شہزادہ امان الرحمن اپنی حکومت کے ساڑھے نو سالوں کی کارکردگی عوام کو دکھا دیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق صوبائی وزیر سلیم خان نے چیرمین تحصیل کونسل چترال شہزادہ امان الرحمن کے دئیے گئے بیان کے جواب میں کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  چیرمین تحصیل کونسل چترال امان الرحمن کے میرے خلاف بیان دیکھ کر حیرت ہوئی۔ گزشتہ 9 مہینوں سے وہ تحصیل کے چیئرمین ہیں مگر ابھی تک غلطی سے بھی تحصیل کونسل چترال کا اجلاس طلب نہیں کرسکا۔ وہ کیا خاک عوام کے مسائل حل کریں گے۔

ظل سبحانی دن 2 بجے سے پہلے اٹھتے نہیں ہے۔ جب اٹھتے ہے تو کسی سے ملنا گوارا نہیں کرتے ہیں گرم چشمہ، کریم آباد اور ارکاری سے آئے ہوئے لوگ روانہ پانچ پانچ گھنٹے گرم چشمہ میں ان کے گھر میں چنار کے نیچے بیٹھ کر تھک ہار کر واپس جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ارکاری سے آئے ہوئے ایک خاتون انتہائی مایوس ہو کر فریاد کر رہا تھا کہ میں تین دنوں سے روانہ اس چنار کے درخت کے نیچے بیٹھ کر واپس اپنے رشتہ دار کے گھر جاتا ہوں مگر آمان الرحمن اپنے گھر پر موجود ہو کر بھی ہم سے ملنے کا گوارہ نہیں کرتا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں کریم آباد سے آئے ہوئے معززین کا ایک وفد چار گھنٹے ان کے گھر کے باہر انتظار کرکے بھی ان سے نہ مل سکے۔ کیا عوامی نمائندے ایسے ہوتے ہیں۔؟

سلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ ظل سبحانی دن 2 بجے سے پہلے اٹھتے نہیں ہے۔ جب اٹھتے ہے تو کسی سے ملنا گوارا نہیں کرتے ہیں گرم چشمہ، کریم آباد اور ارکاری سے آئے ہوئے لوگ روانہ پانچ پانچ گھنٹے گرم چشمہ میں ان کے گھر میں چنار کے نیچے بیٹھ کر تھک ہار کر واپس جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ارکاری سے آئے ہوئے ایک خاتون انتہائی مایوس ہو کر فریاد کر رہا تھا کہ میں تین دنوں سے روانہ اس چنار کے درخت کے نیچے بیٹھ کر واپس اپنے رشتہ دار کے گھر جاتا ہوں مگر آمان الرحمن اپنے گھر پر موجود ہو کر بھی ہم سے ملنے کا گوارہ نہیں کرتا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں کریم آباد سے آئے ہوئے معززین کا ایک وفد چار گھنٹے ان کے گھر کے باہر انتظار کرکے بھی ان سے نہ مل سکے۔ کیا عوامی نمائندے ایسے ہوتے ہیں۔؟

انہوں نے کہا کہ جب میں صوبائی وزیر اور ایم پی اے تھا تو میرے گھر کے اور دفتر کے دروازے سب کے لئے کھلے ہوتے تھے صبح 7 بجے سے لے کر رات 12 بجے میں ضلع چترال اور صوبے کے عوام کی خدمت کرتا تھا سب کو آسانی سے ملتا تھا۔ بلا تفریق سب کی خدمت کرتا تھا۔

لواری ریل ٹنل کو روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کی منظور ی، جس سے اس کی لاگت  8 ارب سے 22 ارب  روپے تک پہنچ گئی اپنی حکومت سے کہہ کر منظوری دلوائی۔ کئی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کیے۔ کئی ایک  مساجد اور مدرسوں کے تعمیر و مرمت کے لئے فنڈز فراہم کیے

 سلیم خان نے مزید کہا ہے کہ ضلع چترال کے اندر اربوں روپے کے ترقیاتی کام کر چکا ہوں۔ بحیثیت وزیر بہبود آبادی ضلع لویر اور اپر چترال میں 14 فلاحی مرکز اور ایک ہسپتال بونی میں قائم کرچکا ہوں، اس کے علاوہ چترال بائی پاس روڈ 85 کروڑ، چیو پل سے شاشا تک 30 کلو میٹر گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ لاگت 40 کروڑ، چترال شہر کے لئے 32 کروڑ روپے کے میگا واٹر سپلائی اسکیم ، دروس میں 40 کروڑ روپے کی لاگت سے گرلز ڈگری کالج کا قیام ، دروش ہی میں 25 کروڑ روپے کی لاگت سے میگا ابنوشی کا منصوبہ،  وفاقی حکومت کے ذریعے گولین گول میں 106 میگا واٹ بجلی گھر کی منظورہ و تعمیر، حلقے کے اندر 6 ہائیر سیکنڈری سکولز، 16 ہائی  سکولز, 15 مڈل سکولز 25 پرائمری سکولز۔ 25 بڑے ابنوشی کے منصوبے، 3500 نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ، ملازمین کیلئے غیر پرکشش ایریاز الاؤنس اور فائر ووڈ الاونس کی منظوری، چترال کے 2ارب روپے کے قرضوں کی معافی کی منظوری میری کوششوں سے ممکن ہوئی۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ  لواری ریل ٹنل کو روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کی منظور ی، جس سے اس کی لاگت  8 ارب سے 22 ارب  روپے تک پہنچ گئی اپنی حکومت سے کہہ کر منظوری دلوائی۔ کئی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کیے۔ کئی ایک  مساجد اور مدرسوں کے تعمیر و مرمت کے لئے فنڈز فراہم کیے،

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دور اقتدار کے دوران چترال میں دو یونیورسٹیوں کے کمپسس اور چترال کے کالجوں میں ہاسٹلز، آئی ٹی لیب و کلاس رومز کی تعمیر اور دیگر کروڑوں روپے کے چھوٹے منصوبے مکمل کیے۔ مگر افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ ساڑھے نو سالوں کے صوبائی حکومت میں یہ مقامی لیڈران، ان کے وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم نے چترال میں کوئی ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں کیا۔

چترال تا گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ و ٹینڈر کی منظوری، چترال تا کیلاش ویلی روڈ کی بلیک ٹاپنگ اور چترال تا بونی شندور روڈ کی کشادگی و بلیک ٹاپنگ کے  منصوبوں کو میں نے اور شہزادہ افتخار الدین نے  اے ڈی پی میں شامل کیے تھے وہ بھی ان کے وزیراعظم اور وزیر مواصلات مراد سید نے ڈراپ کرکے فنڈز سوات منتقل کئے۔

انہوں نے کہا کہ چترال تا گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ و ٹینڈر کی منظوری، چترال تا کیلاش ویلی روڈ کی بلیک ٹاپنگ اور چترال تا بونی شندور روڈ کی کشادگی و بلیک ٹاپنگ کے  منصوبوں کو میں نے اور شہزادہ افتخار الدین نے  اے ڈی پی میں شامل کیے تھے وہ بھی ان کے وزیراعظم اور وزیر مواصلات مراد سید نے ڈراپ کرکے فنڈز سوات منتقل کئے۔

 یونیورسٹی آف چترال میں ان دس سالوں میں انہوں نے ایک کلاس روم تک نہیں بنا سکے، چترال کے تین جگہوں میں گیس پلانٹ لگانے کے لئے فنڈز منظور ہو کر زمین بھی خریدی گئی تھی جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو وہ فنڈ بھی ختم کرکے گیس پلانٹ الیکشن مہم میں عمران خان نے گلگت بلتستان کو دیئے۔

سلیم خان کا مزید کہنا تھا شھزادہ امان الرحمن اپنے آپ کو لٹکوہ کا بیٹا کہہ کر لٹکوہ کے لوگوں کا ووٹ لیا۔ مگر منتخب ہوتے ہی لٹکوہ کو بھول گئے۔ لٹکوہ کے آلو کے پیداوار پر ٹیکس لگوایا۔ جس کو عدالت کے حکم کی وجہ سے نافذ نہیں کرسکے۔ جب چترال میں سیلاب آنے کی وجہ سے کئی لوگوں کے مکانات اور کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں تو موصوف کینیڈا کے سیر سپاٹوں میں مصروف تھا۔

میں اب بھی اپنے چترال کے عوام میں موجود ہوں، ہر فورم میں چترال کے مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا ۔

سلیم خان نے اپنے بیان میں وزیر زادہ اور سینیٹر فللک ناز کو بھی آڑے ہاتھوں لیا انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مشیر وزیر زادہ اور سنیٹر فلک ناز نے بھی جھوٹے اعلانات کرکے چترال کے عوام سے ہر روز جھوٹ بولتے ہیں گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے 60 کروڑ روپوں کے ہوائی اعلانات کرکے بے غیر فنڈز کے ٹینڈرز لگوائے۔ جن کے لئے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے چترال کے ٹھیکہ داران اب مقروض ہو چکے ہیں۔ اور عوام ان منصوبوں میں کام کے شروع ہونے کے انتظار میں ہیں۔

الیکشن سے پہلے نوجوانوں کے ساتھ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ ہوا تھا مگر اب جو بھی بھرتیاں چترال میں ہوتے ہیں اکثریت ڈاؤن ڈسٹرکٹ سے پیسے دے کر آڈر لے کر چترال میں نازل ہو جاتے ہیں آخر پی ٹی آئی کے یہ درجن بھر لیڈران اپنی مرکزی اور صوبائی حکومت کے ذریعے کونسے کارنامے چترال میں انجام دئیے ہیں۔ جن کو لے کر یہ پھر عوام کے سامنے آئیں گے یہ سب اپنے لیڈر عمران خان کی طرح اقتدار کے لئے حواس باختہ ہوچکے ہیں مگر چترال کے عوام اتنے بےوقوف بھی نہیں ہیں کہ ان کو دوبارہ ووٹ دیں

کیٹاگری میں : خبر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں