143

ضلعی انتطامیہ اپر چترال کا سیلاب متاثرین کے ساتھ ظالمانہ  سلوک


تحریر: انجئینر آصف علی خان


ضلعی انتظامیہ اپر چترال  کی طرف سے اسسمنٹ ٹیم اپنے رشتہ داروں کو معمولی نقصان پر سروے میں شامل کرنا اور اصل حقداروں کو شامل نہ کرنا غریب عوام پر ظلم  کی انتہا ہے بحثیت ایک سماجی ورکر اور خان صاحب کا سپاہی میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

صوبائی حکومت اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ اپر چترال، وزیر زادہ اینڈ کمپنی آپ لوگوں کو  شرم آنی چاہیے۔

 اپر چترال ضلعی انتظامیہ مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ اینڈ  کمپنی کو لے کر سیلاب متاثرین کے ساتھ جو ناانصافیاں  کئے اس کا جواب اور  حساب دینا پڑے گا۔

حالیہ سیلاب میں اپر چترال کے دور دراز علاقوں خاص کر مستوج، ڑاسپور، یارخون اور تورکھو  میں پہلے تو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی سروے ٹیم نہیں گئی، اور جن کے نام شامل کئے گئے ہیں ان میں سے 80 فی صد لوگوں کو معاوضے نہیں ملے۔

حالیہ سیلاب میں اپر چترال کے دور دراز علاقوں خاص کر مستوج، ڑاسپور، یارخون اور تورکھو  میں پہلے تو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی سروے ٹیم نہیں گئی، اور جن کے نام شامل کئے گئے ہیں ان میں سے 80 فی صد لوگوں کو معاوضے نہیں ملے۔

زیادہ تر اسسمنٹ ٹیم  نے متاثرین کے بجائے اپنے رشتہ داروں اور من پسند  لوگوں کو سروے میں شامل کئے ہیں۔ صوبائی حکومت خاص کر وزیر اعلی خیبر پختونخوا  سے درخواست کی جاتی ہے اس کا برقت اور فورا نوٹس لیا جائے۔ اگر نوٹس نہیں لیا گیا تو پھر  صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے۔

مجھے بے حد افسوس اس بات کا بھی ہوا کہ اس سارے پروسس میں تحصیل ناظمین کو شامل نہیں کیا گیا، عوام عوامی نمائندے منتخب کیوں کرتے ہے؟ اسلئے کرتے ہے کہ عوام کے مسائل حل ہو۔۔

 صوبائی حکومت کی اس ناقص  نظام کی وجہ سے  اصل حقداروں کو سروے میں شامل نہیں کیا گیا اور عوام سیاسی نمائندوں سے مایوس ہے۔ اصل حقداروں کو سروے میں شامل کرنے کے بجائے من پسند لوگوں کو شامل کرنا انصاف کی حکومت میں ہمیں منظور نہیں۔

بقول تحصیل ناظم مستوج سردار حکیم صاحب وزیر اعلی خیبر پختنخواہ کی علم میں یہ بات لائی گئی تھی کہ عوامی نمائندوں کو کم از کم اسسمنٹ ٹیم میں شامل کریں، سارے اختیارات ڈپٹی کمشنر کو دیا جاتا ہے تو ہم عوامی نمائندے عوام کو کیا جواب دیں گے..

 صوبائی حکومت کی اس ناقص  نظام کی وجہ سے  اصل حقداروں کو سروے میں شامل نہیں کیا گیا اور عوام سیاسی نمائندوں سے مایوس ہے۔

اصل حقداروں کو سروے میں شامل کرنے کے بجائے من پسند لوگوں کو شامل کرنا انصاف کی حکومت میں ہمیں منظور نہیں۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں