پلاسٹک کے استعمال پر پابندی حقیقت یاسراب؟


تحریر: فرمان بیگ


کیا ہمارے پاس کوئی جادوئی چھڑی ہے کہ جس کے  لہرانے سے ہم اپنے روزمرہ زندگیوں سے  پلاسٹک کو نکال باہر کریں گے ؟

  کہنے میں بہت پرکش لگتا ہے لیکن بہت جلد ہی ہمیں معلوم ہو گا کہ پلاسٹک کتنا زیادہ ہمارے روزمروہ استعمال کا حصہ بن چکا اب یہاں سوال یہ بنتا ہے کیاپلاسٹک کے بغیر نظام زندگی چل سکتا ہے؟

پلاسٹک بیسوی صدی میں  فوسل فیول سے بنانے کا آغاز ہوا تھا ابتدا میں سوائے فوج کے علاوہ اس کے عام استعمال ابھی شروع نہیں ہوا تھا رفتہ رفتہ اس کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا اور ١٩۵٠ تک یہ بیس لاکھ ٹن پیداوار دینے لگا آج پلاسٹک ہمارے روز مرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔

جس طرح خوراک سے لے کر ضرویات زندگی کی چیزیں بے غیر پلاسٹک کے ہم تک نہیں پہنچتا خصوصا  پیکیجنگ انڈسٹری پلاسٹک کا سب سے بڑا صارف بن چکا ہے اس کے علاوہ عمارتوں، فرنیچر،  گھریلوں استعمال کی اشیا مثلا ٹی وی، قالین، کپڑے، جوتے اور روزمرہ کے بے شمار دیگر اشیا میں بھی پلاسٹک کا ہی استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہیں۔

اس بات سے ہم یہ سمجھ سکتے ہے کہ پلاسٹک سے مکمل طور پر گلگت بلتستان کو آزاد کرنا ایک غیر منطقی غیر فطری بات ہے پھر بھی ہم تصور کریں کہ اگر پلاسٹک تک ہماری رسائی ختم ہو جائے تو ہماری معمولات زندگی کیسے چل پائےگی؟ جب کہ  دوائیوں ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے کٹس  اور خصوصا آپریشن سے پیدا گند کو پلاسٹک کے بغیر کس طرح اور کس چیز میں محفوظ کریں گے؟

ڈائیلاسز یونٹ پلاسٹک کے بغیر کس طرح چلے گا؟  دستانے، ٹیوبز، سرنجز، خون کی تھیلیاں، سیمپل لینے کے لیے ٹیوبز وغیرہ کی شکلا میں  بھی پلاسٹک کا ہی استعمال ہورہا ہیں۔

 دوسری طرف خوراک کو فیکٹریوں سے ترسیل میں ہونے والے نقصان سے بچانے،  مارکیٹ تک پہنچانے اور کافی دیر تک محفوظ رکھنے کے لیے پیکیجنگ میں پلاسٹک کا استعمال لازمی حصہ بن چکا ہے  کیا صارفین کو صرف اپنی عادات بدلنے کی ضرورت پڑے گی یا گلگت بلتستان میں آنے والے اشیا کی سپلائی چینز کو بھی بدلیں گے؟  کیونکہ ماکیٹ میں پیک کی ہوئی اشیا کی فروخت  اور صارف پیک شدہ اشیا خریدنے کے عادی ہو چکی ہیں۔

ایسی صورتحال میں حکومتی اور سرکاری آفسران کے پاس متبادل کیا ہے ؟

اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو پلاسٹک گلگت بلتستان کا اہم مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل چیز آلودگی پھلانے والے دیگر عوامل ہیں جیسے بے ہنگم ٹرانسپورٹ، غیر منظم سیاحت، کان کنی اور ان سے وابستہ شعبہ جات کے پروڈکس مثلا کوکا کولا،  پیپسی اور نیسلے جیسی بڑی  کمپنیوں کے مصنوعات کی پیکنگ  پلاسٹک میں ہونے سے آلودگی پھیلانے کا سب سے بڑا زریعہ ہیں۔

ایک طرف ہم گلگت بلتستان کو پلاسٹک فری بنانا چاہتے ہیں اسی اثنا میں بیوٹی فیکشن کے نام پر  گلگت شہر کی خوبصورتی کے لیے لاکھوں کی لاگت سے  پلاسٹک کے مصنوعی اشیا، پھول، فٹ پاتھ پر بچھے قالین، لوہے کے بنے جھنگلوں اور رنگ و روغن سے گلگت کی قدرتی خوبصورت کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ ہماری ترجیحات میں دیرپا حل نہیں بلکہ وقتی اور وسائل کا غیر اہم چیزوں پر خرچ کرنا ہے۔

گلگت بلتسان کو موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی کے درپیش خطرات کو نظر انداز کرنے کا مطلب مستقبل میں پاکستان کے پانی اور خوراک کی حفاظت کو نظر آنداز کرنے کے مترادف ہیں، این جی اوز سے فنڈز حاصل کرکے پرکش الفاظ اور نعرے کی بجائے حکومت کو چاہئے کہ  سب سے زیادہ آلودگی کا سبب بنے والے سکٹرز پر توجہ دیں۔ نیسلے جیسے ملٹی نشنلز اپنی کاروباری مقاصد کے لیے ماحول دوست  جیسےخوبصورت بیانیہ اور ایک مثبت امیج کے پیچھے چھپ کر سب سے زیادہ پلاسٹک کے استعمال اورآلودگی پھیلانے کا زریعہ بن رہا ہیں۔

 وہی حکومت سرمایہ کاری کے نام پر سیاحت اور مائننگ کے شعبے سے وابستہ مافیاز کو کھلی چھٹی دے  دی گئی ہے یہ کاروباری ادارے ماحولیاتی قوانین کو خاطر میں لائے بغیر زیادہ سے زیادہ منافع کے لالچ میں قدرتی مناظر، جنگلی حیات کے مسکن اور حیاتیاتی تنوع کو تباہ و برباد کررہےہیں۔

  اگرپلاسٹک پر پابندی کے اس پروجیکٹ کو این جی اوز اور ملٹی نشنلز کمپنیوں کی طرف سے مالی اعانت فراہم کی جارہی ہے تو اس صورت میں گلگت بلتستان کے لوگوں اور ماحولیات کو درپیش چیلنجوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے دل فریب اور پرکش الفاظ جیسے ماحول دوست سیاحت، سبز کاروبار  وغیرہ یہ سب  دھوکہ اور فریب دینے والے  الفاظ ہیں۔

  ایک طرف حکومت ماحولیات کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے لاکھوں کروڑوں کے عوامی فنڈ کااستعمال کر رہی ہیں تو دوسری جانب ماحولیات دشمن سرگرمیوں کو سرمایہ کاری کے نام پر گلگت بلتستان میں کھلی چھٹی دی ہوئی ہے سرمایہ کار کو زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول سے سروکار ہے وہ جس طرح مزدوروں کا استحصال کرتی ہے وہ  زمین کا بھی اسی طرح استحصال کررہی  ہے۔ اس لیے گلگت بلتستان کے باشعور لوگوں کو اس بات پر غورفکر کرنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ اگلا پنجاب جی بی بنے اور دن کی روشنی میں بھی بجلی جلانا پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں