خیبر   (ژاکہ مل)


تحریر:فرمان بیگ


ہوم آف آئی بیکس خیبر گاوں آسمان کو چھوتے پہاڑوں کے درمیاں گھیرا ضلع ہنزہ کے سب ڈویژن گوجال کا ایک چھوٹامگر سماجی طور پرمنظم گاوں ہے ۔

  گاوں قدرتی طور پردو حصوں میں تقسیم ہے درمیان سے نالہ شوجراب گزرتا ہے  مشرق کی طرف ( باردن )  امام آباد اور  مغرب میں ( ژاکہ مل ) خیبر اور دریائے ہنزہ سے پار نئی آبادبستی (بوری جنگل)  کریم آباد واقع ہیں ۔

خیبر ایک چھوٹا مگر قدرت کی نعمتوں سے مالامال  صاف و شفاف پانی کے چشمے کے  گلیشئر، جونیپر کے قدرتی جنگلات، سرسبز و شاداب چراگاہیں، جنگلی حیات، ہمالین آئیبکس، برفانی چیتا،  قدرتی مناظر، قدیمی شاہرا ریشم جو تقریبا تین چار کلومیٹر پر اپنی اصل حالت میں موجود ہونے  اور دفاعی مقاصد کے لیے ماضی میں تعمیر کردہ دروازوں کے باقیات قابل دید ہیں۔

خیبر گاوں کی پہچان منظم سماجی نظام،  ہمالین آئی بیکس، میوہ جات، خوبانی، سیب، چیری، میٹھے چشموں کا صفاف شفاف پانی، پن بجلی گھر اور اردگرد کے علاقوں کی نسبت ٹھنڈ موسم ہیں۔

یہ گاوں عطاء آباد جھیل سے چالیس کلومیٹر شمال کی جانب دریائے ہنزہ اور شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ 19 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور گاوں کا کل رقبہ 320 مربع کلو میٹر ہے۔

    قدیم زمانے میں ایک نئی بستی کو آباد کرانے کے لیے (ہربر) گوجال کے مختلف گاوں سے سات گھرانوں پر مشتمل افراد کو اس غیر آباد بنجر زمینوں کی آباد کاری کے لیےسابق ریاست ہنزہ کی طرف سے یہاں بھیجا گیا مگر سخت موسمی حالات،   آبپاشی کے لیے پانی کی باآسانی فراہمی میں مشکلات اور فصلوں کی پیداوار میں کمی کے سبب  سوائے ایک گھرانہ نو بہار  (جو گلمت سے یہاں منتقل ہواتھا)   کے باقی چھ افراد واپس اپنے آبائی گاوں چلے گئے۔ جس کے بعد ہنزہ کے دیگر علاقوں سے مزید چھ قبیلوں کے افراد خیبر منتقل ہوئے اور ایک نئی بستی کو آباد کرنے میں کامیاب ہوئے ان میں سخی  صابر  پھسو سے،  مرکزی ہنزہ سے غلام شاہ، حسن اکبر علی اور یغم شامل تھے۔

 ابتدا میں سات گھرانے تھے  1906  کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق   11 گھرانے اور  71  نفوس پر مشتمل تھا 1980  میں گھرانوں کی تعداد بڑھ کر   55  اور 2022  میں گھرانوں کی تعداد  180  تک  جاپہنچا ہیں۔

زمانہ قدیم سے خیبر اور وادی گوجال کےطدیگر گاوں کے درمیان نمایاں فرق رہا ہیں اولاً  ہمسایہ گاوں سے  دوری پر ہونے کی وجہ سے  رابطے کافقدان،  دوسری وجہ  سابق ریاست ہنزہ کے بےگار یا راجاگی کے لیے خیبر میں مختلف قبیلوں سے تعلق اور دو زبانین بولنے کے باوجود ایک گھر کی فرد کی طرح  خیبری کے نام سے ان کاموں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ ماضی کے ہر دور میں  قدرے مشکل کام کو خیبر کے مکینوں نے سرانجام دیا ہیں مثلا خیر آباد رامنجی آب پاشی کے لیے کوہل کی تعمیر، خنجراب راستے کی تعمیر و مرمت ہو یا میر کے خوراک کی ہنزہ ترسیل ہمیشہ سب سے آگے رہے ہیں پیدل اور گھوڑوں کے راستہ جو خیبر گاوں کےحدود بھٹورا نالہ سے شروع ہوکر میر سیکرود (  نظام خان پل) تک کی صفائی مرمت اور دیکھ بال کی ذمہ داری خیبر کے باشندوں کی ہوتی تھی۔ اتفاق واتحاد کا یہ عالم تھا کہ جہاں بھی جاتے جو بھی کام کرتے  ہر بار کامیابیاں سمیٹ کر آجاتے تھے۔  جس کا نتیجہ ہے کہ خیبر گاوں آج بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

 زمانہ قدیم سے گاوں کے سماجی نظام کو چلانے کے لیے  جرگہ ثالثی یا کمیٹی وغیرہ کے ناموں سے گاوں کے اجتماعی اور فلاحی اموار کو سرانجام دیا جاتا رہا ہے مثلا آب پاشی کے کوہلوں کی تعمیر ومرمت،  جماعت خانے، سکول کی عمارتوں کی تعمیر ہو یا گاوں میں دیگر ترقیاتی کام  ایک منظم انداز میں چلاتے آرہے ہیں سب سے اہم بات جو کبھی گاوں کا خاصہ ہوا کرتا تھا کہ جب کسی نے کوئی کھیت کے لیے زمین  ہموار کرنا ہو  کھیتی باڑی یاکوئی گھر مویشی خانہ کی تعمیر کرنا ہو  گاوں کے تمام  افراد اجتماعی طور  پر بلا معاوضہ اس کی تعمیر میں شریک ہوتے یہ ماضی میں اجتماعیت و اشتراکیت کا ایک اعلی نمونہ تھا ۔

 پھر این جی اوز کا زمانہ آگیا  کوہل،  درخت اور فصلوں کی کاشت  کے لیے فنڈز ملنےلگے ہاتھ اور بیل سے لینے والا کام مشین پر منتقل ہوئی۔ معاشرہ اجتماعیت سے رفتہ رفتہ انفرادیت کی جانب گامزن ہونے لگیں فصلوں پر کیمکل کھاد کے استعمال سے فصلیں  زیادہ پیداوار دینے لگیں، روایتی کاشت کی بجائے تجارتی مقاصد کے لیے کاشت کاری شروع کیا گیا جہاں لوگوں کو نقد رقم ملنے لگیں۔ رہن سہن کے طور طریقے بدلنے لگیں ماضی کے بہت ساری چیزیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے جہاں ماضی میں آگ بھی ہمسایہ سے مانگ کر جلایا جاتا تھا وہ اب انا پرستی کا شکار ہونے لگا زمانے کےجدت اور ضروریات زندگی کو مارکیٹ سے جوڑ کر زر پرستی کو پروان چڑھانے سے ماضی کی ہر خوبصورت چیز کو تلپٹ کرکے رکھ دیا۔

 لوگ جدت کے چکا چوند کے شکار ہونے لگیں تو نوے کی دھائی میں  چند نوجوانوں نےجو گاوں میں موجود اور کچھ نے ابھی ابھی تعلیم مکمل کرکے واپس آچکے تھے انھوں نے دور جدید کےتقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے گاوں کے بزرگوں کے سامنے تجاوزیر رکھ دی کہ  لوگوں کی اجتماعی سماجی و معاشی ترقی اور آزاد چرائی پر کام کیاجائے اس وقت کے بزرگوں نے ان کی بات پر لبیک کہا چونکہ وہ دوغلہ پن،  جدید زمانے کے چکا چوند زر پرستی سے کوسوں دور انتہائی سادہ اور درد دل رکھنے والے لوگ تھے  بہرحال نوجوانوں نے پہلی مرتبہ گاوں کے سماجی نظام کو چلانے کے لیے ایک تحریری دستاویز تیار کیا جس کے اندر سماجی بھائی چارگی، آبپاشی، آذاد چرائی، آپسی جھگڑے، رسوم رواج، ہمالین  آئی بیکس کی شکار پر پابندی اور جونیپر کے قدرتی جنگل کی کٹائی کو روکنے کے لیے قوانین مرتب کی گئی جس نے آگے چل کر ایک طرح سے گاوں کے اندر ایک نظام حکومت کی بنیاد ڈال دی جو جمہوری انداز میں گزشتہ تنتیس سالوں سے اپنےکام کو جاری رکھے ہوئے  ہیں بلکہ اس میں وقت کے ساتھ تبدیلی عمل میں لائی جارہی نئے زمانے کے تقاضوں سےہم آہنگ  کرتے آگے بڑھایا جارہا ہیں ۔

خیبر گاوں کو قدرت نے بیش بہا قدرتی وسائل سے نوازا ہیں جن میں سے ایک جنگلی جانور ہمالین آئی بیکس جو ہمارے بچپن کے زمانے میں ہم سنتے تھے کہ پہاڑی بکرا بھی ہے جس کا شکار کیاجاتا اور گوشت کو بطور خوراک استعمال کرتے ہیں لیکن کہیں دیکھا نہیں تھا گلگت بلتستان میں نوےکی دھائی میں جنگلی وسائل کو محفوظ بنانے، اس سے فائدہ اٹھانے اور درست حالت میں آنے والے نسلوں تک منتقلی پر کام شروع ہوا تو خیبر ضلع ہنزہ میں اولین گاوں تھا جنہوں نے جنگلی جانوروں اور قدرتی جنگلات کو تحفظ دینے پر کام کیا۔ جس کے پیچھے معاشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے خاطر قدرتی وسائل کا بےدریغ  استعمال سے پیدا صورت حال تھی۔ ماضی میں خیبر قدرتی جنگل جونیپر سے مالا مال گاؤں تھا مگر روزگار نہ ہونے اور فوجیوں کی چھاونی پھسو میں آنے سے ان کی لکڑی کی ضرویات کو پورا کرنے کے خاطر ان جنگلات کا بے دریغ کٹاو کرکے اس سے حاصل آمدنی سے اپنے دن گزارنے لگیں جس کی وجہ  سے جونیپر کا جنگل مکمل طور پر ختم ہوا اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے بچے کچھے جنگلات کو بچانے کے خاطر سبز درختوں کے کٹائی اور آئی بیکس کے شکار پر 1990 میں پابندی عائد کردی گئی  جس کے نتیجے میں آئی بیکس کے قانونی شکار سے سالانہ گاوں کی اجتماعی آمدن کا ایک زریعہ بن گیا دوسری طرف جونیپر کے قدرتی جنگلات میں اضافہ دیکھا جانےلگاہیں.

جہاں قدرتی وسائل کے تحفظ پر کام ہورہا ہے وہی لوگوں کے معاشی استعدار کار کو بڑھانے کے لیے سیاحت کو گاوں کے اندر متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔  معاشی وسائل کی فراہمی کے لیے کوآپرئٹیوں سوسائٹی،  زراعت کی ترقی کے لیے زرعی کوآپرئٹیوں سوسائٹی، گاوں کی اجتماعی مشترکہ کاروبار کے قیام کے لیے تقریبا دو ملین شیئر سے پبلک لمٹیڈ کمپنی کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہیں یہ اجتماعیت یا اشتراکیت کا ایک اعلی نمونہ ہے  وہی گاوں کی سیاحتی مقامات کی تشہر پر بھی کام جاری ہیں۔

      کسی بھی معاشرے کی ترقی کابنیادی زینہ تعلیم ہے مگر اس شعبے کی طرف اب تک کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی اور نہ بنیادی ترجیحات میں شامل رہا ہے البتہ محدود پیمانے پر شروع دن سے کام ہورہا ہے  وقت کے مطابق مزید اس میں بہتری لانے اور صفحہ اول کی ترجیحات میں شامل کرنے کی ضرورت سب سے زیادہ ہیں۔  کسی بھی ترقی کے لیے اہداف کاتعین لازمی چیز ہے گوکہ نوے کے دھائی میں ایک بنیاد رکھی گئی تھی جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہیں مگر اس کو زندہ رکھنے کے لیے وقت کے ساتھ ترجیحات اور اہداف کا تعین کرنا اور اس میں مثبت تبدیلی لاتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں