141

گلگت بلتستان  میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری


رپورٹ: شیر نادر شاہی/ زیشان استوری

گلگت بلتستان میں حکومت کی جانب سے عوامی ملکیتی زمینوں اور وسائل پر قبضہ، گندم سبسڈی اور کوٹہ میں کٹوتی کے خلاف احتجاج دسویں روز بھی جاری رہی۔

 یہ احتجاج عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام اسکردو، چیلا اور گلگت سمیت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ہوا۔

اس سلسلے میں گزشتہ جمعہ کے روز اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے مظاہرہ اور مارچ کیا گیا جس کی قیادت عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین بابا جان نے کی۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان، عوامی ورکرز پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری پروفیسر عاصم سجاد اختر، جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کے چیئرمین نثار شاہ ایڈووکیٹ، نیشنل ورکرز فرنٹ کے احتشام خان، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، پروگریسیو اسٹوڈنٹ فیڈریشن، بلتستان اسٹوڈنٹ فیڈریشن اور آل بلتستان موومنٹ کے رہنماوں اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے کارکن ڈاکٹر بشیر حسین شاہ اور دیگر نے خطاب کیا اور گلگت بلتستان میں زمینوں، پہاڑوں، دریاؤں اور دیگر وسائل پر خالصہ سرکار کے نام پر قبضہ اور دیگر بنیادی حقوق سے محروم رکھنے پر حکمران طبقوں پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ لوگوں کے مطالبات فی لفور تسلیم کیا جائے۔

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی کال پر خالصہ سرکار کے نام پر عوامی ملکیتی زمینوں پر قبضہ، گندم سبسڈی خاتمہ و کوٹے میں کٹوتی، لینڈ ریونیو ایکٹ، لوڈشیڈنگ و دیگر مطالبات کے حق میں  گلگت بلتستان بھر میں عوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے جاری ہے جبکہ بلتستان کے شہر سکردو میں عوامی ایکشن کمیٹی اور تاجر برادری کے زیر اہتمام مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا دس دنوں سے جاری ہے اور ہزاروں کی تعداد میں عوام مطالبات کے حق میں منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ میں سکردو یاد گار چوک پر دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

 اس کے علاوہ عوامی مطالبات کے حق میں جمعہ کے روز عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے زیر اہتمام یادگار چوک گلگت میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین فدا حسین و دیگر نے خطاب کیا۔

جمعہ کے روز گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع ہنزہ، غذر، چڑاس، نگر، کھرمنگ کے علاوہ اسلام آباد پریس کلب کے باہر گلگت بلتستان کے عوام نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عوامی ورکرز پارٹی جی بی کے چیئرمین کامریڈ بابا جان نے عوامی مطالبات کو فی الفور حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

 عوامی مطالبات کے حمایت میں تمام اضلاع کے تاجر برادری،  ہوٹل ایسوسی ایشن، ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن و دیگر تنظیموں نے بھی ریلیاں نکال لی۔

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی طرف سے گلگت میں  عوامی اجتماع بھی رکھا گیا جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔

اس دوران بلتستان کے شہر کھرمنگ میں ایکشن کمیٹی کے رہنما شبیر مایار کی قیادت میں بھی عوامی اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں  لوگوں نے شرکت کی جبکہ گلگت ، سکندرآباد، نگر اور جگلوٹ میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

 مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے رہنماوں نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے، متنازعہ خطے میں غیرقانونی ٹیکسز کا نفاز اور گندم سبسڈی کا خاتمہ کر کے عوام کو بھوکا مارنے کی سازش کی جارہی ہے۔

 مقررین نے حالیہ دنوں اسسٹنٹ کمشنر اور حکومت کی طرف سے عوامی ملکیتی زمینوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ گلگت بلتستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں یہاں کے پہاڑ سے لے کر دریا اور پتھر تک عوام کی ملکیت ہے، ہماری ملکیتی زمینوں پر قبضہ کرنا ہمیں قتل کرنے کے مترادف ہے اس لئے حکومت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے آئندہ خالصہ سرکار کے نام پر عوامی زمینوں پر قبضے کی کوشش کی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔  مقررین نے مزید کہا کہ لوڈشیڈنگ، گندم سبسڈی خاتمہ اور کوٹے میں کٹوتی، لینڈ ریونیو ایکٹ، خالصہ سرکار کے نام پر زمینوں پر قبضے کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں