154

مینڈھے کے کپورے اور پاکستانی سماجی


تحریر: کریم اللہ

کھوار زبان میں ایک کہاوت ہے کہ ایک لومڑی مینڈھے کے پیچھے اس سوچ میں جا رہی تھی کہ  مینڈھے کے کپورے گرنے والے ہیں جونہی گر جاتے ہیں میں اٹھا کے کھاتا ہوں، اور مینڈھے پینڈولم کی مانند کپورے لٹکا کے محو سفر تھا۔

جس طرح مینڈھے کے کپورے نہیں گر سکتے اور نہ ہی لومڑی کے نصیب میں ہوتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح پاکستانی قوم بھی پاکستانی نظام کی بہتری کے لئے اسی لومڑی کی مانند چند شخصیات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ نہ نظام میں بہتری آتی ہے اور نہ ہمیں عقل و شعور آتا ہے کہ جس طرح مینڈھے کے کپورے کئی سالوں میں اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر لومڑی کے منہ میں پانی بھر آرہا ہے، اسی طرح ملکی و معاشرتی نظام کو بھی میچیور ہونے میں برس ہا برس کا ارتقائی سفر درکار ہے۔

کسی بھی معاشرے یا ملک کے نظام کو تبدیل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں ایک انقلاب لایا جائے اور پوری نظام کو یک جنبش قلم لپیٹ کے اس کی جگہ نیا نظام مسلط کیا جائے جیسا کہ انیس سو سترہ میں سویت انقلاب اور انیس سو انچاس میں چین کا کمیونسٹ انقلاب، یا پھر انیس سو اناسی کا انقلاب ایران۔

کسی بھی معاشرے یا ملک کے نظام کو تبدیل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں ایک انقلاب لایا جائے اور پوری نظام کو یک جنبش قلم لپیٹ کے اس کی جگہ نیا نظام مسلط کیا جائے جیسا کہ انیس سو سترہ میں سویت انقلاب اور انیس سو انچاس میں چین کا کمیونسٹ انقلاب، یا پھر انیس سو اناسی کا انقلاب ایران۔ یہ ضروری نہیں کہ انقلاب کے نتیجے میں آنے والا نظام سارے مسائل کو حل کریں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو انقلابی تحریک ہے وہ بھی مکمل کامیاب ہو سکے۔

اس کے برعکس دنیا کے بیشتر معاشروں نے انقلاب کے بجائے ارتقاء پر اکتفا کیا اور آج ایک منظم و ترقی یافتہ معاشرے بن گئے۔ برطانیہ کی مثالیں ہمارے ہاں عموما دی جاتی ہے بالخصوص ان دنوں ایک انڈین برٹش برطانیہ کا وزیر اعظم اور ایک پاکستانی برٹش اسکارٹ لینڈ کا سربراہ بن گیا تو ہمارے ہاں شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور سوال پوچھا جا رہا ہے کہ پاکستان میں برطانیہ جیسا نظام کیوں نہیں آرہا ہے وغیرہ۔

برطانیہ کا نظام 1215ء کو میگنا کارٹا ایکٹ کے بعد تسلسل کے ساتھ آج تک ارتقاء پزیر ہے۔ ان ایک ہزار سالوں کی تاریخ میں شہری حقوق، نمائندہ حکومت، عوام کی شمولت اور جمہوری اقدار نیز رولز آف لاء کی بحالی کے لئے تسلسل کے ساتھ کوشش کی گئی۔ جس کے نیتجے میں آج برطانیہ میں سارے شہریوں کو آگے بڑھنے کے یکسان مواقع میسر ہے

مگر سیاسیات کے ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے ہمیں  اس تاریخی سفر کا اندازہ ہے جو 1215ء کو میگنا کارٹا ایکٹ کے بعد سے شروع ہوا تھا اس کے بعد سے آج تک برطانوی سماج تسلسل سے ارتقاء پزیر ہے اور اسی ارتقاء کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ان کے جمہوری نظام میں رنگ و نسل اور مذہب و مسلک سے بالاتر ہو کر سارے شہریوں کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔

جو لوگ آج جسٹس فائز عیسی کے چیف جسٹس بننے، عمران خان، بلاول، نواز شریف یا مریم کے وزیر اعظم بننے اور حافظ قران کے آرمی چیف بننے سے نظام کی تبدیلی اور جمہوریت و معاشی استحکام کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں وہ احمقوں کی جنت کے مکین ہیں۔

پاکستان کی کل عمر صرف 76 برس ہے پہلے 26 سالوں تک یعنی 1947ء سے 1973ء تک بل واسطہ یا بلاواسطہ فوجی آمریت رہی آئین و قانون نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ 1973ء کو ایک نیم جمہوری تھیاکریٹک آئین وجود میں آگیا اور ملک جمہوری عمل میں محو سفر ہی تھا کہ چار سال بعد پھر اسی آئین کو معطل کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔

 یہی مارشل لاء و نیم جمہوری عمل 1997ء تک جاری رہی پھر میاں نواز شریف نے آئین میں ترمیم کرکے کسی حد تک سویلین منتخب حکومت کو آئینی تحفظ دیا تو 1999ء میں پھر آئین کو روند ڈالا گیا۔

اس کے بعد مشرف مارشل لاء کا تاریک دور۔ پھر 2011ء میں پیپلز پارٹی اور دیگر جمہوری قوتوں نے 73 کے آئین کی دوبارہ بحالی کی۔ جبکہ آمریت کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی گئی تو ادھر سے جوڈیشل ایکٹوزم کی صورت میں افتخار چوہدی، کالا کوٹ پہنے میمو گیٹ اسکنڈل میں میاں نواز شریف اور پھر عمران خان کو میدان میں اتارا گیا۔

2011ء میں پیپلز پارٹی اور دیگر جمہوری قوتوں نے 73 کے آئین کی دوبارہ بحالی کی۔ جبکہ آمریت کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی گئی تو ادھر سے جوڈیشل ایکٹوزم کی صورت میں افتخار چوہدی، کالا کوٹ پہنے میمو گیٹ اسکنڈل میں میاں نواز شریف اور پھر عمران خان کو میدان میں اتارا گیا۔

دو ہزار تیرہ میں بدترین پری پول دھاندلی کرکے میاں نواز شریف کو اقتدار میں لایا گیا۔ اور دو ہزار سولہ کے بعد ان کے گرد شکنجہ کس لیا گیا پھر اسے عدالتی ایکٹوزم کا نشانہ بنا کے سسٹم کو لپیٹ دیا گیا اور دو ہزار اٹھارہ میں پری پول اور پھر آر ٹی ایس کو بیٹھا کر عمران خان کو برسر اقتدار لایا گیا۔ اگلے چار سالوں تک وہ اپنے آقاؤں کے ہر اچھے برے کا دفاع کرتے اور ان کے اشاروں پہ ناچتے رہے۔ پھر جب معاملات ان کے کنٹرول سے باہر ہوگئے تو آج وہ زیر عتاب ہے۔

اس سارے کھیل تماشے میں جمہوریت کا پنپنا محال ہے اور ایسے میں اے میرے وطن کے سجیلے نوجوانوں! اگر آپ چند افراد کے عہدوں پر براجماں ہونے سے نظام میں انقلابی تبدیلی کے متمنی ہے تو آپ کو مزید مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، آپ کی مثال اسی لومڑی کی ہے جو مینڈھے کے جھولنے والے کپورے کے گرنے کی صورت میں انہیں سیر ہو کر کھانے کے بعد آگے بڑھنے کی تمنا لئے اس کے پیچھے محو سفر ہے۔ آپ ٹرک کے بتی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں آپ کا کوئی منزل نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں