جھوٹ کی بھوک


از: عزیزعلی داد

ہمیں سچ سےاتنا ڈر لگتا ہےکہ ہم اس سے بچنے کے لئے جھوٹ میں پناہ لیتے ہیں۔ جس طرح سچ کو جینے کے لئے خوراک چاہئے ہوتی ہے، اس طرح جھوٹ کو بھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے مگر فرق یہ ہےکہ جھوٹ کی اشتہا کبھی ختم نہیں ہوتی ہے۔ جھوٹ کی بھوک ہر چیز کو نگلنے کے بعد بالآخر اس معاشرے کو بھی نگل جاتی ہےجس نے اسے اپنے دل و دماغ میں بسایا ہے۔

پینٹنگ
پینٹنگ: شیطان کا بہکاوہ از:فلپ آگسٹن امنرییٹ

چونکہ ہمارا معاشرہ سچ کی آبیاری نہیں کرسکا ہے،اس لئے ہمیں سچ کی فصل نہیں مل رہی ہے۔ اسی  وجہ سے سچ قحط سالی اور قحط الرجالی کا شکار ہو گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف جھوٹ بہت توانا ہوگیا ہے۔ مسلسل بسیار خوری کی وجہ سے جھوٹ کی منہ، آنتیں اور شکم اتنے بڑے ہو گئے ہیں  کہ وہ کسی بھی بڑی شےکو با آسانی نگل سکتا ہے۔

چونکہ ہمارا معاشرہ سچ کی آبیاری نہیں کرسکا ہے،اس لئے ہمیں سچ کی فصل نہیں مل رہی ہے۔اسی  وجہ سے سچ قحط سالی اور قحط الرجالی کا شکار ہو گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف جھوٹ بہت توانا ہوگیا ہے۔مسلسل بسیار خوری کی وجہ سے جھوٹ کی منہ، آنتیں اور شکم اتنے بڑے ہو گئے ہیں  کہ وہ کسی بھی بڑی شےکو با آسانی نگل سکتا ہے۔

اس لیے ہر اظہار کی رد تشکیل کی جاۓ۔جس چیز کے متعلق بات کی جارہی ہے، وہ اصل بات کو دراصل چھپا رہی ہے۔ اس لئے ہر اعلان ایک ہذیان ہے جس کا مقصد معاشرے میں ہیجان پیدا کرنا ہے۔ہذیان کھانے والے ذہن کیسا ہوگا۔اس ذہنی بیماری سے بچنے کے لئے ضرورت اس بات کی ہےکہ ہر عہدے، عقیدے، نظرے، پیشے اور ادارےکا روزنامچہ لکھاجائے کیونکہ جس بات کو اور جن کو بولنے اور لکھنے کی اجازت ہے، وہ دراصل بہکاوے کی مقدس کتاب ترتیب دے رے ہیں۔ ولیم شیکشپئر کہتا ہے”شیطان اپنے مقصد کے  لئےکتاب مقدس کا درس دیتاہے”۔ کتاب جتنی بھی مقدس ہو، شیطان اس کا درس دے گا تو وہ معاشرے کو جہنم ہی لے جائے گا۔ ہم تقدس اور پاکیزگی کے چکر میں بہت ناپاک ہوگئے ہیں۔

کوئی بھی معاشرہ مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچنے سے پہلے اپنے ذہن اور روح کو کھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی اس کی قدرتی موت واقع ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے معاشرے میں خرد دشمنی اور مذہبی ظاہر داری عقل اور روح کی موت کی علامات ہے۔ بہت جلد ہی یہ معاشرے اپنے آپ کو ہی نگل لےگا۔ ایسی صورت حال میں معاشرے کی تاریخ وہ لکھیں گےجن کی آوازوں کو دبایا اور قتل کیا جاتا ہے۔ اس لئے  یہ لازم ہے کہ آج کی تاریخ میں اس چیز کو لکھا جائے جس سے منع کیا گیا ہو۔ جو بیانیے کی تشکیل کی جا رہی ہے وہ آدم خوری پہ منتج ہو جاتا ہے۔

عزیزعلی داد ایک سماجی مفکر ہیں۔ انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس اور پولیٹکل سائنس سے سماجی سائنس کے فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری لی ہے۔ وہدی نیوز، فرائڈے ٹائمز، ہائی ایشیاء ہیرالڈ اور بام جہاں میں مختلف موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔ انہوں نے فلسفہ، ثقافت، سیاست، اور ادب کے موضوعات پر بے شمار مضامین اور تحقیقی مقالے ملکی اور بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ عزیز جرمنی کے شہر برلن کے ماڈرن اوریئنٹل انسٹی ٹیوٹ میں کراس روڈ ایشیاء اور جاپان میں ایشیاء لیڈرشپ پروگرام کےریسرچ فیلو رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں