ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 127

کو ہ پیماء  کی ڈائری


تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

کوہ پیمائی دنیا کا مشکل ترین کھیل ہے یہ تفریح کے ساتھ ساتھ بے حد سنجیدہ کا م بھی ہے تاہم اس کو کھیلوں کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے "دی نارویجین ہمالیہ ایکسپیڈیشن” ایک کوہ پیماء ٹیم کے ممبروں کی ڈائریوں کا مجموعہ ہے اس مہم میں شریک کوہ پیماوں نے 23جولائی 1950کو پا کستان میں تریچ میر کی 25264 فٹ  اونچی چوٹی سر کر لی تھی اپنی ڈائریوں میں 7 کو ہ پیماؤں نے اس مہم کی تیاری اور اس کی تکمیل کا حال بیان کیا ہے کتاب 1952ء میں ناروے کی زبان میں شا ئع ہوئی پھر اس کا انگریزی ترجمہ ہوا حال ہی میں پرو فیسر رحمت کریم بیگ نے اس کتاب کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے یہ ہمارے درخشان ما ضی کا قصہ ہے جب اٹلی، جر منی، جاپان، ناروے اور دیگر ملکوں سے کوہ پیماؤں کی ٹیمیں دنیا کی بلند پہاڑی چوٹیوں کو سر کرنے کے لئے پا کستان آتی تھی اور ان کے ساتھ زرمبادلہ آتا تھا مقامی صنعتوں کے ساتھ کاروبار اور روزگار کو فروغ ملتا تھا پہاڑی چوٹیوں کی وجہ سے دنیا میں پا کستان کا نام بھی بلند ہوتا تھا۔

کوہ پیماوں نے 23جولائی 1950کو پا کستان میں تریچ میر کی 25264 فٹ  اونچی چوٹی سر کر لی تھی اپنی ڈائریوں میں 7 کوہ پیماؤں نے اس مہم کی تیاری اور اس کی تکمیل کا حال بیان کیا ہے کتاب 1952ء میں ناروے کی زبان میں شا ئع ہوئی پھر اس کا انگریزی ترجمہ ہوا حال ہی میں پرو فیسر رحمت کریم بیگ نے اس کتاب کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے یہ ہمارے درخشان ما ضی کا قصہ ہے جب اٹلی، جر منی، جاپان، ناروے اور دیگر ملکوں سے کوہ پیماؤں کی ٹیمیں دنیا کی بلند پہاڑی چوٹیوں کو سر کرنے کے لئے پا کستان آتی تھی

 افغان جنگ کے بعد کوہ پیماوں نے دوسرے ملکوں کا رُخ کیا اور ہم ہر قسم کے مواقع سے محروم ہو گئے مہم جو ٹیم کے سر براہ پرو فیسر آر نے نائیس نے مئی سے جولائی 1949ء تک جا ئزہ مشن کے ساتھ پا کستان کا دورہ کیا اور انہیں پاکستان کے دورے کی ترغیب اوسلو یو نیور سٹی کے ما ہر لسا نیات پرو فیسر جارج مار گن سٹائن نے دی جو ایک لسانیا تی مشن پر 1929میں چترال آئے تھے اور جس نے چند مہینے یہاں رہ کر مختلف زبانوں پر کا م کیا تھا انہوں نے کوہ پیماؤں کو دلچسپ معلومات اور پریوں کی کہانیاں سنا کر مسحور کیا اور بتایا کہ بے شک نام ہمالیہ کی مہم رکھو مگر ہمالیہ کی جگہ ہندو کش کا رخ کرو تریچ میر کی چار مسحور کن چوٹیوں میں سے ایک چوٹی پر کمند ڈال دو اگر قسمت نے ساتھ دیا تو چوٹی پر جا کر پرچم لہراؤ گے قسمت روٹھ گئی تو پریوں کی کہانیاں لے کر لوٹ آؤ گے۔

 کہانی بہت دلچسپ ہے جا ئزہ مشن کے دوران پا کستان میں ان کو کپٹن سٹریتھر کی صورت میں برٹش فوجی افیسر بھی ملا جو اس مہم میں ان کے ساتھ شامل ہوا پا کستان اگرچہ نوزائیدہ ملک تھا پھر بھی سرکاری دفاتر بہت فعال تھے کوہ پیماؤں کو تمام دفاتر سے بھرپور مدد ملی، اگلے سال کوہ پیمائی کے لئے پا کستان آئے تو ان کے راستے میں کو ئی رکاوٹ حائل نہیں ہوئی تریچ میر تک جانے کے تین راستے ہیں وادی انجگان کریم آباد میں سو سوم کا راستہ ہے، وادی اویر سے بروم کا راستہ ہے اور وادی تریچ کا راستہ ہے اس سے پہلے 1928، 1929، 1935 اور 1939 میں کوہ پیماء ٹیموں نے تریچ میر کو سر کرنے کی کوششوں میں کامیا بی حا صل نہیں کی کوئی ٹیم بھی 17000 فٹ سے اوپر نہیں گئی آرنے نائیس نے اپنے پیشرؤں کی ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طے کیا کہ ان کی ٹیم بروم اویر کا راستہ اختیار کرکے تریچ میر کی جنوبی چوٹی پر جھنڈے گاڑے گی اور اس میں انہیں کامیابی ہوئی کوہ پیماء ٹیم کے ممبروں میں 4 بندے چٹا نوں اور برفا نی تودوں کا سینہ چیر کر اوپر جانے کے ماہر تھے ان میں آرنے نا ئیس، ہانس کرسٹو فربگ، پر کیورین بگ نارویجین تھے۔ کپٹن سٹریتھر کا تعلق برطانیہ سے تھا لورنیٹ زین اس ٹیم کے  ڈاکٹر تھے پرونیڈیل بوم ماہر نباتات تھے فن جو رسٹاڈ شامل ماہر ارضیات (جیا لوجسٹ) تھے جب کہ بریسٹائن اور نیباکین فوٹو گرافر تھے۔

 23 جولائی 1950ء کو اس مہم جو ٹیم نے تریچ میر کی جنوبی چوٹی کو سر کرکے وہاں پا کستان، ناروے، اقوام متحدہ اور برطانیہ کے چار پر چم لہرائے تو خدا کا شکر ادا کرنے کے بعد مارگن سٹائن کا شکریہ بھی ادا کیا.

 اس مہم کی کہانی کا نکتہ عروج (کلائمکس) وہ ہے جب ٹیم کے 4 مہم جو تریچ میر کی چوٹی پر جھنڈے گاڑنے کے بعد سورج کی روشنی میں چاروں طرف پھیلے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں پہاڑی چوٹیوں کا نظارہ کر تے ہیں اور فوٹو گرافروں کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کر تے ہوئے ان منا ظر کی تصویریں اتارتے ہیں دھوپ کی تما زت میں وہ تیز ہواؤں کی کوئی پروا نہیں کر تے اوپر جانے کے لئے انہوں نے 9 کیمپ قائم کئے تھے کیمپ نمبر 9 سے 22 جولائی کو پرکیورین برگ نے اکیلے اوپر چڑھ کر چوٹی پر قدم رکھا تھا رات ساتھیوں نے اُس کی کامیابی کا جشن ایک برفانی غار کے اندر منایا اگلے روز ٹیم نے مشن مکمل کیا ٹیم میں شامل ماہر ارضیات نے چٹانوں کی ساخت اور پہاڑوں، گلیشروں کی عمر کا مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ الپس اور دیگر پہاڑوں کے مقابلے میں ہندو کش کے سلسلہ کوہ کی عمر بہت کم ہے، ما ہر نباتات نے 300 سے زیادہ درختوں اور پھولوں کی اقسام کا جائزہ لیا انہوں نے 250 اقسام کے پھولوں، جھاڑیوں اور درختوں کے بیج اکھٹے کئے اوسلو میں جارج مارگن سٹائن نے ٹیم لیڈر کو پریوں کی کہانیاں بھی سنائی تھیں اور کہا تھا پریاں کسی کو چوٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے نہیں دیتیں ٹیم لیڈر کے لئے مہم کا اختتام پر ایک خوشی یہ بھی تھی کہ ان کی ٹیم نے پریوں کو شکست دی ہے کتاب کا تر جمہ تریچ میر داستان کے نام سے کیا گیا ہے۔


مصنف کے بارے میں :

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی چترال سے تعلق رکھنے والا ماہر تعلیم، محقق اور کالم نویس ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا ہے۔ وہ ملک کے نامور اور موقر اخبارات کے لئے ریگولر بنیادوں پر کالم لکھتے ہیں۔

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں