167

دفاعی اہمیت کے حامل مستوچ پل دریا برد ہونے کا خطرہ


سیلاب آنے اور دریا کی مقدار بڑھنے سے پہلے اگر اس پل کی  مرمت نہ کی گئی تو پل ٹوٹنے کی صورت میں ضلع اپر چترال کا رابطہ منقطع ہونے کا خطرہ ہے

رپورٹ: گل حماد فاروقی

ضلع اپر چترال میں نہایت اہمیت کے حامل مستوج پُل خستہ حالی کا شکار ہے۔ پچھلے سال سیلاب کی وجہ سے اس پل کی بنیادوں یعنی ستونوں کو بہت نقصان پہنچا تھا اس کے علاوہ دریا  رخ بدلنے سے پل کے دونوں حصوں کے درمیانی خالی جگہہ میں پانی بہنے سے اسے کافی نقصان پہنچا تھا جس کے نتیجے میں مستوج سے آگے شندور اور گلگت، بروغل، یارخون کا راستہ بھی بند ہوا تھا۔ یہ پل سابقہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بنا تھا اور ساتھ ہی اس سڑک کو بھی دریا کے مشرقی جانب سے مغرب کی جانب لایا گیا تھا۔

  مستوچ پل دریا برد ہونے کا خطرہ

بونی مستوج سڑک پر بھی نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے کام شروع کروایا تھا مگر اب اسے ادھورا چھوڑا گیا ہے۔ سڑک کی ناگفتہ بہہ  حالت اور کھنڈر ہونے ہونے کے باعث   جب گاڑی گزرتی ہے تو مٹی اور گرد و غبار کی  وجہ سے نہ صرف سڑک کے کنارے رہنے والے لوگوں کو نہایت تکلیف ہوتی ہے بلکہ راہ گیر بھی ا ن گرد و غبار کی وجہ سے محتلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔

چترال میں سڑکوں کی تعمیر کے لئے آواز اٹھانے والی رضاکار تنظیم چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ CDM کے اراکین وقتاً فوقتاً ان سڑکوں کی تعمیر کے لئے آواز اٹھاتی رہتی ہے۔ان رضاکاروں نے پشاور پریس کلب کے سامنے دھرنا بھی دیا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان سڑکوں کو جلد سے جلد تعمیر کیا جائے۔

  مستوچ پل دریا برد ہونے کا خطرہ

سی ڈی ایم کے رکن عنایت اللہ اسیر کے مطابق یہ سڑک نہایت اہمیت کے حامل ہے اگر مستوج سے آگے بروغل کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک سڑک بنایا گیا تو اس سے نہ صرف ان ریاستوں کے ساتھ ہمارا نزدیک ترین رابطہ بحال ہوگا بلکہ اس سے سیاحت اور ثقافت بھی فروغ پاکر اس پسماندہ علاقے کا قسمت بدلے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کا راستہ اٹھارہ سو کلومیٹر دور ہے جبکہ بروغل کا راستہ چترال سے تاجکستان تک صرف دو سو کلومیٹر ہے۔

لیاقت علی جو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا نائب صدر بھی ہے ان کا کہنا ہے کہ مستوج سڑک پر کام ادھورا چھوڑنے سے علاقے کے لوگوں میں نہایت مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر نہایت افسوس کا اظہار کیا کہ بونی سڑک پر چین کے ایک کمپنی نے نہایت معیاری اور مضبوط تارکول کا کام کیا تھا  مگر NHA کے ٹھیکدار نے اس تارکول کو اکھاڑ کر پختہ سڑک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا مگر اس کچے سڑک پر ابھی تک دوبارہ تارکول کا کام شروع نہیں ہوا۔  

انہوں نے بتایا کہ  اس سڑک پر جو گاڑیاں گزرتی ہیں اس کی وجہ سے  مٹی اور گرد و غبار اٹھتی ہے اس سے علاقے کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

محمد اشرف جو پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہے  ان کا کہنا ہے کہ اس کا اکثر اس سڑک سے گزرنا ہوتا ہے پہلے یہ بہترین سڑک تھی جس پر چین کی کمپنی نے بہترین تارکول ڈالا تھا مگر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ٹھیکدار نے اس سڑک سے وہ تارکول اکھاڑ کر اسے کھنڈرات میں بدل دیا اور اب معلوم ہوا کہ ٹھیکدار نے اپنی مشینری بھی یہاں سے لے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر پر جب کام شروع ہوا تھا تو جدید تقاضوں کے پیش نظر اس کا سروے نہیں کروایا گیا بلکہ اسی سڑک پر کشادگی اور تعمیر کا کام شروع ہوا جب کہ یہ خچروں اور گھوڑوں، گدھوں کا سڑک تھا۔

اگر این ایچ اے والے اس سڑک میں ان مقامات پر پل بناتے جہاں سے سیلابی نالے کا پانی سڑک پر بہتا ہے تو اس سے سڑک بھی محفوظ رہتا اور سفر کرنے میں بھی آسانی ہوتی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ اور این ایچ اے مستوچ پل کو دریا برد ہونے سے بچانے کے لئے فی الفور اقدامات اٹھائے اور پل کے ساتھ دریا کے کناروں پر حفاظتی پشتیں تعمیر کیا جائے اور دریا  کے بہاؤ کا راستہ پہاڑی کی جانب  موڑنے سے یہ دفاعی اہمیت کے حامل مستوچ پل اور یہاں کے رہائشیوں کے گھر بار اور زمینات و جنگلات دریا کی کٹائی سے بچ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں