ہمارا سماج تعصبات اور تضادات کا قبرستان ہے


تحریر: ضیاء افروز


اگر آپ نے اردو زبان ادب کا واجبی سا بھی مطالعہ کیا ہے تو آپ کو علم ہو گا کہ کیسے دہلی اور لکھنوی دبستان کے شاعروں کا آپس میں اختلاف رہتا تھا وہ اپنی زبان دانی کے گھمنڈ میں دوسرے دبستان والوں کو کم تر شاعر سمجھنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔

چلیں یہ تو تاریخ کا موضوع ہے بات کہیں اور نکل جائے گی اب آتے ہیں اصل مدعا کی طرف آج سے سات  برس قبل ایک معزز شاعر دوست کے سات حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے ایک تنقیدی اجلاس میں شرکت کرنے کا موقع ملا شعر سے نسبت پرانی تھی کچھ نہ کچھ لکھتے پڑھتے تھے وہ دوست ہماری شاعری کے نہ صرف قدر دان تھے بلکہ موقع ملنے پر مختلف اسٹیجز پر پذیرائی بھی کرتے رہتے تھے حلقے میں جن لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے ان کو پتا ہے کہ ہر جمعہ کی شام اکیڈمی ادبیات اسلام آباد میں  شاعروں کی ایک تنقیدی نشت ہوتی ہے جس میں ایک شاعر یا ادیب اپنی تخلیق پیش کرتا ہے اور باقی معزز حاضرین محفل اس فن پارے کے ادبی معیار پر گفتگو کرتے ہیں۔

 میرے لئے یہ ایک دلچسپ تجربہ تھا محفل کے اختتام پر  شاعر دوست سے غرض کی کہ اس محفل میں کلام پیش کرنے کا طریقہ کار کیا ہے تو انہوں کہا جوان  کیا یاد کرو گے اگلے جمعہ آپ  بھی حلقہ میں اپنی غزل پیش کر رہے ہوں گے میں بات کر لیتا ہوں مجھے ایک صاحب سے ملایا اس نے میرا نام سنا اور بڑی کشادہ دلی کے ساتھ میرا حوصلہ بڑھایا اور یقین دہانی کرائی کہ اگلے جمعہ مجھے کلام پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا میں بڑا خوش ہوا کافی دیر گپ شپ لگانے کے بعد میں ان سے اجازت لے کر اس سرشاری کے عالم میں گھر آ گیا راستے میں سوچتا رہا  کہ اگلے جمعہ بڑے لوگوں کے سامنے اپنا کلام سنانے کا شرف ملے گا ایک نوجوان لکھنے والے کے لئے اس سے زیادہ کیا خوشی کی بات ہو سکتی  تھی۔

اگلے دن معمول کے مطابق اس شاعر دوست سے ملاقات کی تو انہوں نے عجیب قصہ سنایا جسے سن کے دل ملول ہوا انہوں نے بتایا کل جس صاحب سے ملاقات ہوئی تھی اس نے جاتے ہوئے ان سے پوچھ لیا کہ منڈے کا تعلق کس علاقے سے ہے دوست نے بتایا میرا جاننے والا ہے اچھا لکھتا ہے گلگت والی سائیڈ سے ہیں نوجوان کو موقع ملنا چاہئے تو انہوں نے شکایتی انداز میں کہا کہ اسلام آباد میں کیا شاعر ختم ہو گئے ہیں کہ باہر والوں کو بھی موقع دیا جائے جانے دیجئے۔

 خیر اگلے دن معمول کے مطابق اس شاعر دوست سے ملاقات کی تو انہوں نے عجیب قصہ سنایا جسے سن کے دل ملول ہوا انہوں نے بتایا کل جس صاحب سے ملاقات ہوئی تھی اس نے جاتے ہوئے ان سے پوچھ لیا کہ منڈے کا تعلق کس علاقے سے ہے دوست نے بتایا میرا جاننے والا ہے اچھا لکھتا ہے گلگت والی سائیڈ سے ہیں نوجوان کو موقع ملنا چاہئے تو انہوں نے شکایتی انداز میں کہا کہ اسلام آباد میں کیا شاعر ختم ہو گئے ہیں کہ باہر والوں کو بھی موقع دیا جائے جانے دیجئے۔

خیر بات آئی گئی ہوئی اور اگلے جمعہ کو شدید بارش کے باوجود میں بھیگتے ہوئے اجلاس پہنچا تو میری حیرت اور مایوسی کی انتہا نہ رہی کیا دیکھتا ہوں ایک کافی صحت مند خوبرو خاتون اپنی غزل پیش کر رہی تھی دل بیٹھ سا گیا اجلاس کے بعد باہر آیا تو وہ شخص سگریٹ لگا کے دو تین بزرگوں سے کلام کر رہا تھا اور مجھے دیکھ کر ایسے نظر انداز کیا جیسے میرا اس سے کوئی ذاتی دشمنی تھی یا جیسے اس نے مجھے کبھی دیکھا ہوا ہی نہ ہو۔

خیر بات آئی گئی ہوئی اور اگلے جمعہ کو شدید بارش کے باوجود میں بھیگتے ہوئے اجلاس پہنچا تو میری حیرت اور مایوسی کی انتہا نہ رہی کیا دیکھتا ہوں ایک کافی صحت مند خوبرو خاتون اپنی غزل پیش کر رہی تھی دل بیٹھ سا گیا اجلاس کے بعد باہر آیا تو وہ شخص سگریٹ لگا کے دو تین بزرگوں سے کلام کر رہا تھا اور مجھے دیکھ کر ایسے نظر انداز کیا جیسے میرا اس سے کوئی ذاتی دشمنی تھی یا جیسے اس نے مجھے کبھی دیکھا ہوا ہی نہ ہو۔

بہر حال اس دن سے آج کے دن تک حلقہ کے اجلاس میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا سنا ہے اب وہ میرٹ پہ لوگوں کو موقع دیا کرتے  ہیں اگر یہ خبر درست ہے تو یہ خوشی کا مقام ہے اور اس بات کی دلیل بھی کہ وطن اپنا ترقی کی راہ پہ گامزن ہو گیا ہے مگر کیا کریں ہمارے قلم میں اب وہ احساس کی شدت نہیں رہی نہ دل میں وہ ولولہ رہا نہ آنکھوں میں وہ اشک رہے بس نئے لوگوں کے لئے دعا گو ہیں کہ ان کے سات وہ نہ ہو جو ہم نے دیکھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں