حیدر جاوید سید 69

پاڑا چنار اور شمالی وزیرستان کے سانحات


تحریر: حیدر جاوید سید


4 مئی کو جمعرات کا دن تھا۔ ایک کے بعد دوسری خون میں لپٹی خبر موصول ہوئی تو فقیر راحموں نے کہا یار شاہ آج کہیں کالی جمعرات تو نہیں؟ ہمارے بچپن کے دنوں کی طرح سیاہ گھپ گھور کالی آندھی آئی نہ کسی نے ان دنوں کا ذکر کیا جب کسی ایک بے گناہ کا خون بہائے جانے پر کالی آندھی آیا کرتی تھی۔

 پتہ نہیں بے حسی اور نفسانفسی بڑھ گئی ہے یا ہر شخص اتنا تنہا ہوگیا ہے کہ وہ اجتماعی سوچ اپنانے کو اب غیر ضروری سمجھنے لگا ہے۔

فقیر راحموں نے جس جمعرات کو کالی جمعرات کہا اس پر بات کر لیتے ہیں اس کالی جمعرات کا پہلا واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا جہاں دو عشروں سے انتہائی مطلوب القاعدہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کھیارا گروپ  کا دہشت گرد اقبال عرف بالی کھیارا پولیس مقابلہ میں مارا گیا۔

 اس دہشت گرد کے ایک بار افغانستان میں مارے جانے کی خبر ہمیں آئی ایس پی آر نے سنائی تھی بڑے پرجوش انداز میں کی گئی پریس کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ لگ بھگ دہشت گردی کے 40 مقدمات (ان میں 27 مقدمات ڈی آئی خان میں اس کے خلاف درج تھے)  میں مطلوب بالی کھیارا افغانستان میں مارا گیا ہے ۔  یہ خبر غالباً 2012ء میں سنائی گئی تھی۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی اقبال عرف بالی کھیارا کا شناختی کارڈ 2015ء میں تجدید ہوا۔ ظاہر ہے بندہ زندہ اور مجسم حالت میں نادرا آفس گیا ہوگا تو شناختی کارڈ کی تجدید ہوئی ہوگی۔ انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل بالی کھیارا ٹی ٹی پی کے اپنے گروپ کا سربراہ تھا اس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔

جمعرات 4 مئی کو اس نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ڈی ایس  پی پر حملہ کیا پولیس نے جوابی کاروائی  میں اس انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ہلاک کردیا۔

 اس کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل یہاں لکھنے اور بحث کرنے کی ضرورت کیا ہے شناختی کارڈ کی تجدید ہوسکتی ہے تو کچھ بھی ممکن ہے۔ بالی کھیارا کے مارے جانے پر ڈیرہ اسماعیل خان کے شہری اور بالخصوص اس کی دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے گئے درجنوں مقتولین  کے ورثا اس پولیس مقابلے پر جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر ناک چڑھانے کی بجائے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 ایک کروڑ روپے انعام کی قیمت والا دہشت گرد کیسے ہمارے درمیان رہ رہا تھا۔ کیسے اس کے شناختی کارڈ کی تجدید ہوئی؟  یہ سوال بہر طور لوگ پوچھ رہے ہیں۔

جمعرات کو ہی شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف سکیورٹی فورسز کی ایک ٹیم اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں  6 اہلکار شہید ہوگئے۔ جوابی فائرنگ سے دو دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی اقبال عرف بالی کھیارا کا شناختی کارڈ 2015ء میں تجدید ہوا۔ ظاہر ہے بندہ زندہ اور مجسم حالت میں نادرا آفس گیا ہوگا تو شناختی کارڈ کی تجدید ہوئی ہوگی۔ انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل بالی کھیارا ٹی ٹی پی کے اپنے گروپ کا سربراہ تھا اس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔

 اس واقعہ پر سابق وزیر اطلاعات و قانون فواد حسین چودھری کا کہنا ہے کہ بیرونی سازش سے ہماری حکومت گرا کر ملک کو بے یارومددگار بنا دیا گیا ہے۔ ریاست ناکام ہو چکی ہے۔ فواد چودھری سمیت کوئی انصافی اپنے دور حکومت میں دہشت گردوں سے اعتماد سازی کے اس پروگرام پر بات نہیں کرتا جس کے تحت سینکڑوں سزا یافتہ دہشت گردوں کو رہا کیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے جانے والے قاتلوں کے لئے مانگے  گئے سات ارب روپے خون بہا میں سے تین ارب روپے دیئے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

عمران خان تو اعتماد سازی کے اس پروگرام کا اب تک دفاع کررہے ہیں ان کا موقف ہے وہ دہشت گردوں کو مین سٹریم میں لانے اور کارآمد شہری بنانے کا پروگرام رکھتے تھے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کب اس پروگرام کو باجوہ کے کھاتے میں ڈال کر کہیں گے کہ ’’مجھے تو جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ چالیس ہزار دہشت گردوں کو پختونخوا بسانا ہے اور انہیں ضروری اخراجات کے لئے تین ارب روپے کی رقم بھی دے دو‘‘۔

 کالی جمعرات کا ہولناک واقعہ کرم ایجنسی (پاڑا چنار) کے علاقے تری منگل کے گورنمنٹ ہائی سکول میں رونما ہوا۔ سکول میں امتحانی ڈیوٹی پر تعینات اساتذہ اور دیگر افراد  کو ان کی مذہبی شناخت پر الگ کرکے پہلے گولیاں ماری گئیں پھر ذبح کیا گیا۔

 اس المناک سانحہ کا رشتہ ایک زمینی تنازع سے جوڑنے والے ڈی پی او اور دوسرے سرکاری افسروں کو اپنی ناک سے آگے کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔

ان غیر اطلاع یافتہ سرکاری افسروں نے لگے بندھے معمول کو سچ  بناکر پیش کرنے کے لئے سرکاری فائلوں میں موجود گھڑی ہوئی کہانیوں میں سے ایک کہانی میڈیا کو فراہم کر دی۔

بلاشبہ زمینی تنازعات علاقے میں موجود ہیں لیکن گورنمنٹ ہائی سکول تری منگل میں دہشت گردوں نے مخصوص مذہبی شناخت کی تسلی کرکے اساتذہ اور دوسرے مقتولین کو  (کل 8افراد قتل کئے گئے) دیگر لوگوں اور طلباء سے الگ کرکے جس سفاکانہ انداز میں قتل کیا اس نے  چیڑاس اور چند دیگر مقامات پر مخصوص مذہبی شناخت کی تسلی کرکے درجنوں لوگوں کو ماضی میں قتل کرنے کے خوفناک واقعات کی یاد دلا دی۔

سابق وزیر اطلاعات و قانون فواد حسین چودھری کا کہنا ہے کہ بیرونی سازش سے ہماری حکومت گرا کر ملک کو بے یارومددگار بنا دیا گیا ہے۔ ریاست ناکام ہو چکی ہے۔ فواد چودھری سمیت کوئی انصافی اپنے دور حکومت میں دہشت گردوں سے اعتماد سازی کے اس پروگرام پر بات نہیں کرتا جس کے تحت سینکڑوں سزا یافتہ دہشت گردوں کو رہا کیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے جانے والے قاتلوں کے لئے مانگے  گئے سات ارب روپے خون بہا میں سے تین ارب روپے دیئے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

 حیران کن امر یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اپنی کمزوریوں، مجرمانہ غفلت اور فیصلہ سازی میں کمزوریوں کی پردہ پوشی کے لئے حقائق کو مسخ کر رہی ہے۔

بالفرض  اگر جمعرات کے اس المناک واقعہ کو چند دن قبل منگل قبیلے کے ایک شخص کے قتل کا ردعمل مان بھی لیا جائے تو اس سوال کا جواب کیا ہے کہ جو ڈی پی او ڈی سی وغیرہ ردعمل کی کہانی سنا رہے ہیں انہوں نے کیوں اس امر کو یقینی نہیں بنایا کہ منگل قبیلے کے ایک شخص کے قتل کے بعد وہ ضلع بھر میں سکیورٹی بڑھائیں اور جمعرات کو قتل ہونے والے اساتذہ اور دوسرے افراد کی گورنمنٹ ہائی سکول تری منگل میں ڈیوٹی نہ لگنے دیں؟ جبکہ اس حوالے سے انہیں تحریری طور پر آگاہ بھی کر دیا گیا تھا۔

 معاملہ اتنا سادہ ہے نا ہی یہ ایک شخص کے قتل کا ر دعمل، دہشت گردی کی اس واردات میں شناخت کرکے چند افراد کو الگ کرنا انہیں قتل کرکے ذبح کرنا یہ ایک مخصوص دہشت گرد تنظیم کا طریقہ واردات ہے جو چیڑاس سے پاڑا چنار تک پچھلے دو عشروں سے دہشت گردی کی  بعض وارداتوں میں دیکھنے میں آیا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ رٹو طوطے کی طرح کہانیاں سنانے والوں کو یہ احساس ہی نہیں ہو رہا ہے ان کے جھوٹ سے اصل مجرموں کی پردہ پوشی ہورہی ہے۔

کیا انتظامی اور پولیس افسران اس بات سے لاعلم ہیں کہ پچھلے برس جب کرم ایجنسی سے ملحقہ افغان سرحد پر باڑ کاٹنے اور دہشت گردوں کے قافلوں کی صورت میں علاقے میں آنے کے بعد ایک مخصوص طبقے کے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی دھمکیاں کی گئی تھیں تو انتظامیہ نے ہی لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ دہشت گرد انہیں نقصان نہیں پہنچاسکیں گے، حکومت اور انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

 لیجئے ہوگئی ذمہ داری پوری۔اب جھوٹ سناتے اڑاتے رہیں۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں