پاک بھارت تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟


تحریر: حیدر جاوید سید


الحمد للہ دیگر شعبوں کی طرح پاکستان خارجہ امور کے ماہرین میں بھی خود کفیل ہو گیا ہے۔ دنیا بھر میں ہمارے محنت کشوں اور ماہرین کی پہلے ہی بڑی مانگ ہے۔ اب اگر خارجہ امور کے نومولود نابغوں کو کرائے پر دینے کا کوئی بندوبست ہو جائے تو زرمبادلہ کے ڈھیر لگ سکتے ہیں۔

ایسے ویسے نابغے ماہرِ امور خارجہ ہیں کہ رہے نام خدا کا۔ ایک خوشی یہ بھی ہے کہ بہت عرصے بعد پاکستان اور بھارت کے لوگوں کی بڑی تعداد ہم خیال و ہم آواز ہے۔

فقیر راحموں کے بقول آر ایس ایس کے پاکستان چیپٹر پی ٹی آئی کے متاثرین کی خوش گوئی اور اعلیٰ اخلاقی روایات خارجہ امور پر مہارت اور جنسیات میں کوالیفکیشن دیکھ کر کوئی غیر مہذب شخص بھی کہہ سکتا ہے خدایا یہ ’’نگینے‘‘ سلامت رہیں اور تاقیامت رہیں۔

اچھا ویسے پاکستانی آر ایس ایس نے پچھلے دو تین دن سے عملی و اخلاقی طور پر ثابت کر دیا کہ مذہب خمیر کو تبدیل نہیں کرتا آدمی اپنے اصل سے جڑا رہتا ہے نسل در نسل۔

ایس سی او شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس گوا بھارت میں تھا تنظیم کے اجلاس میں پاکستانی وزیر خارجہ کی شرکت ایسے ہی ہے جیسے ایران کی نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت، ایرانی وفد اگر اقوام متحدہ کے اجلاس میں جائے تو اسے دورہ امریکہ نہیں کہہ سکتے۔

اسی طرح ہماری رائے میں گوا میں ایس سی او کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ کی شرکت دورہ بھارت ہرگز نہیں کانفرنس بھارت کی سرزمین پر ہوئی میزبان بھی ظاہر ہے بھارت ہی کو ہونا تھا۔

عجیب بات یہ ہے کہ مودی کی کامیابی کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے امید قرار دینے والے سابق وزیراعظم عمران خان بھی کہہ رہے ہیں کہ وزیر خارجہ کو بھارت نہیں جانا چاہئے تھا۔

ان کے محبین پچھلے دو تین دن سے وزیر خارجہ کے بارے میں جو کہہ لکھ رہے ہیں وہ اس تربیت کا حق ہے جو برسوں دھرنوں اور جلسوں میں کی گئی۔

آر ایس ایس کے پاکستان چیپٹر پی ٹی آئی کے متاثرین کی خوش گوئی اور اعلیٰ اخلاقی روایات خارجہ امور پر مہارت اور جنسیات میں کوالیفکیشن دیکھ کر کوئی غیر مہذب شخص بھی کہہ سکتا ہے خدایا یہ ’’نگینے‘‘ سلامت رہیں اور تاقیامت رہیں۔

بھارت سے پاکستان کے خراب تعلقات کی اصل بنیاد نفرت پر ہوا بٹوارہ ہے باقی سب قصے کہانیاں ہیں کشمیر ہماری شہ رگ سمیت۔ خیر پاکستانی وزیر خارجہ کے "دورہ بھارت” پر آسمان سر پر اٹھائے پاکستانی آر ایس ایس کا ایک طبقہ وزیر خارجہ کی جنس پر کیچڑ اچھال کر قلبی تسکین حاصل کر رہا ہے ان کے پاس دلیل کبھی تھی نہ ہے۔

ہر مخالف کو گالی دینے کو ایمان کا ساتواں رکن سمجھنے والا یہ انتہا پسند ٹولہ اپنے پیشوا کے نقش قدم پر ہے اور خوب ہے کسی کو انڈس ویلی کی قدیم رسم کے مطابق ہاتھ جوڑ کر سلام و آداب کرنے میں ہندوانہ پن دیکھائی دے رہا ہے۔

ولید بن جلیل حضرمی کی بدزبانیوں کو مقدس کلمات کے طور پر لینے اور سر دھننے والے بتا رہے ہیں کہ دونوں ہاتھ جوڑ کر سامنے والے کے سامنے بلند کرنا ہندوانہ پن ہے۔ سبحان اللہ بنتا ہے اس تحقیق پر۔

پاکستانی وزیر خارجہ کو ایس سی او کی کانفرنس میں ضرور شرکت کرنی چاہئے تھی یہی خارجہ پالیسی کا تقاضا تھا۔

بھارت سے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں اس کے لئے یک طرفہ خواہشیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ بھارت دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے کیا چاہتا ہے۔

میری ذاتی رائے میں تو تعلقات ایسے ہونے چاہئیں کہ سرحد پر شناختی کارڈ کے اندراج کے ساتھ وہیں ایک ماہ کے لئے ویزا  دے دیا جائے دونوں طرف تھانوں میں حاضری کی ذلت نہ ہو۔

بھارتی ہندوؤں اور سکھوں کے انگنت مقدس مقامات پاکستان میں ہیں اور مسلمانوں کے لئے درجنوں قابل احترام مقامات بھارت میں۔ تعلقات اچھے ہوں تو دونوں ملک زائرین و یاتریوں کی آمدورفت سے سالانہ اربوں روپے کماسکتے ہیں۔

یہ میری خواہش ہے ضروری نہیں آپ اس سے اتفاق کریں۔

بٹوارے کے بعد دونوں ملکوں میں نفرتوں کے سودے ریاست کی نگرانی میں فروخت کئے گئے۔ کسی دن اس نفرت کی بنیادیں تلاش کیجئے کم از کم یہ جستجو آپ کو اورنگزیب عالمگیر کے دور تک ضرور لے جائے گی۔

مجھ طالب علم کے خیال میں ہندو مسلم نفرت کے باوا آدم اورنگزیب عالمگیر ہیں۔ یقیناً چند وجوہات اور بھی ہیں جیسے شدھی تحریک لیکن یہ بہت بعد کی پیداوار ہے۔

ایک مخصوص اقلیت کے خبط عظمت کی پوجا پاٹ کے لئے برصغیر کی تاریخ سے کاٹ کر 1947ء کے بعد سے ہمیں جس تاریخ سے جوڑا  گیا اس جھوٹ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے ہمیشہ یہ عرض کرتا رہتا ہوں کہ برصغیر کا اصل اس کی اپنی تاریخ میں ہے۔ مذہب تبدیل کر لیا جائے یا جغرافیہ میں ٹوٹ پھوٹ سے نئی مملکتیں معرض وجود میں آجائیں تو تاریخ تبدیل نہیں ہوتی آپ نئی مملکت کی تاریخ اس کے قیام کے دن سے تو لکھتے ہیں مگر اس سے پہلے کی تاریخ کو اصل سے کاٹ کر دور کے دیسوں سے جوڑیں گے تو مسائل پیدا ہوں گے۔

ہمیں پچھتر برسوں سے ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ تنگ نظری جہالت و تعصب اور تاریخ پر چاند ماری ہمارے ہاں کے من پسند کھابے ہیں۔ واہگہ کے اس پار بھی یہی حالت ہے۔

بی جے پی کا اقتدار اس حالت کا زندہ ثبوت ہے۔

دونوں ملکوں کے لوگوں نے اگر اپنے اصل سے جڑنا ہے اور اچھے بااخلاق پڑوسیوں کی طرح رہنا ہے تو لازم ہے کہ دونوں اطراف موجود آر ایس ایس مارکہ ذہنیت و تعصب سے نجات حاصل کی جائے۔

یہ کام فوری یا ایک دوعشروں میں ہوتا اس لئے دیکھائی نہیں دیتا کہ دونوں طرف اس انتہا پسندی کا دور دورہ ہے جو دونوں ریاستوں کے دھندوں کے لئے ضروری ہے۔

معاف کیجئے گا بات سے بات نکلتی اور دور چلی گئی۔ ہم پاکستانی وزیر خارجہ کی ایس سی او کی گوا کانفرنس میں شرکت کے موقع پر دونوں طرف کے متعصب اور تھڑدلوں کے اوچھے پروپیگنڈے اور سستی جملے بازی کے علاوہ اس بدزبانی پر بات کر رہے تھے جو بھارت کے الیکٹرانک میڈیا اور پاکستانی آر ایس ایس کے محبین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک جیسی تھی۔

یقین کیجئے کہ پاکستانی وزیر خارجہ کی ایس سی او وزرائے خارجہ کانفرنس میں شرکت کے موقع پر پاکستانی آر ایس ایس کے ٹائیگروں کی بدزبانی پر مجھے تو کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ قابل رحم ہے یہ مخلوق جو کانفرنس میں شرکت اور غیر ملکی دورہ کے فرق کو نہ سمجھ پائے اور ادہم مچانا شروع کردے ہاں اس بات پر حیرانی ضروری ہے کہ جن کا لیڈر باجوہ کے ساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر کا سودا کر آیا ہو وہ بھی طرم خان بنے آوازیں کس رہے ہیں۔

بھارتی ہندوؤں اور سکھوں کے انگنت مقدس مقامات پاکستان میں ہیں اور مسلمانوں کے لئے درجنوں قابل احترام مقامات بھارت میں۔ تعلقات اچھے ہوں تو دونوں ملک زائرین و یاتریوں کی آمدورفت سے سالانہ اربوں روپے کماسکتے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ کی شرکت سے رتی برابر فائدہ نہ بھی ہوا ہو تو گوا سے لاہور تک جو چیخم دھاڑ رونا دھونا پٹ پلوتے گالیاں جنس کا تمسخر اور بیہودہ الفاظ اچھالے جا رہے ہیں اس سے سمجھ لیجئے کہ تکلیف کی اصل وجہ کیا ہے۔

مکرر عرض ہے دونوں ملکوں میں کیسے تعلقات ہوں گے یا ہونے چاہئیں اس کے لئے صرف ہماری خواہش کافی نہیں دونوں ریاستیں اگر نفرتوں کے کاروبار کو ترک نہیں کرتیں تو خوشگوار تعلقات کا خواب خواب ہی رہے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر تلاش کرکے سن لیجئے جواباً پاکستانی وزیر خارجہ نے کیا کہا وہ بھی ۔

ہمارے ہاں بہت سارے لوگ اور بالخصوص مقامی آر ایس ایس والے اس پر بہت خوش ہیں کہ بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ کو دہشت گردوں کا ترجمان کہا لیکن یہ کوئی نہیں بتارہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا تعلق تو دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں میں سے ایک خاندان سے ہے۔ کیا یہ غلط کہا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ماہ قبل پاکستانی وزیر خارجہ نے بھارتی وزیراعظم کو گجرات کا قصائی قرار دیا تھا تب یہی لوگ کہہ رہے تھے اس طرح نہیں کہنا چاہئے تھا لیکن اب یہ بھارتی وزیرخارجہ کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستانی وزیر خارجہ دہشت گردوں کا ترجمان ہے۔

ہمارے ہاں بہت سارے لوگ اور بالخصوص مقامی آر ایس ایس والے اس پر بہت خوش ہیں کہ بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ کو دہشت گردوں کا ترجمان کہا لیکن یہ کوئی نہیں بتارہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا تعلق تو دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں میں سے ایک خاندان سے ہے۔ کیا یہ غلط کہا؟

پاکستانی وزیر خارجہ نے اس الزام کے جواب میں بہت تفصیل سے بات کی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ناکام دورہ بھارت کا ڈھول پیٹنے والے پاکستانی آر ایس ایس کے پرجوش کارکنان اتنی سی بات تو سمجھ لیں کہ یہ دورہ بھارت ہرگز نہیں تھا۔

دورہ بھارت کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں بھارت پڑوسی ملک ہے۔ بھارت، چین، افغانستان اور ایران یہی ہمارے پڑوسی ہیں ہمیں اسی جغرافیہ میں رہنا ہے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات اور سرد و گرم جنگ کے ماحول کا خاتمہ پروپیگنڈے اور اسلحہ اکٹھا کرنے پر وسائل اڑانے سے محفوظ کرسکتا ہے۔

بس اتنی سی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آخری بات پاکستانی وزیر خارجہ کی جنس کا تمسخر اڑانے والے اپنی تربیت کے کج بکھیرنے کی بجائے ذرا اپنے لیڈر کی ایک سابق اہلیہ کی کتاب تو پڑھ لیں۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں