71

گلگت سٹی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری  جنیڈر لینس سے کیسے ممکن ہے۔ 


عام طور پر مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو اپنے روزمرہ کے کام کے لئے زیادہ تر پیدل چلنا پڑتا ہے، یا پھر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ گلگت بلتستان میں خاص کر یہ بہت نمایاں ہے۔ اگر ایک فیملی کے پاس ایک گاڑی اور ایک بائیک ہے، تو گھر کے مردوں کا اس پر access زیادہ ہوتا ہے۔

اگر ٹریولنگ اور ٹرانسپورٹ سسٹم کو جنڈر لینس سے جانچے، تو اندازہ ہوگا کہ سڑکیں اور ٹراسپورٹ کا نظام جنڈر بائیسڈ ہے۔ سڑکیں مردوں کے لئے آسان بنایا جاتا ہے، جبکہ پیدل چلنے والوں کے لئے سڑکیں نہ صرف تنگ ہیں، بلکہ کچا، اور پتھروں سے بھرا ہوتا ہے۔ بازاروں میں جہاں فٹ پاتھ کی سہولت ہے، وہ بھی مردوں کے بزنس کے لئے جگہ فراہم کرنے کا کام آتا ہے۔ ایسے میں جو مائیں ہیں، اور جن کو بچوں کے سٹرالر کو بھی دھکا دینا پڑتا ہے، باہر نکلنا اور اپنے روز مرہ کا کام خاصہ مشکل ہوتا ہے۔

بازاروں میں جہاں فٹ پاتھ کی سہولت ہے، وہ بھی مردوں کے بزنس کے لئے جگہ فراہم کرنے کا کام آتا ہے۔ ایسے میں جو مائیں ہیں، اور جن کو بچوں کے سٹرالر کو بھی دھکا دینا پڑتا ہے، باہر نکلنا اور اپنے روز مرہ کا کام خاصہ مشکل ہوتا ہے۔

ٹرانسپورٹ پالیسی میں پیدل چلنے والوں کی ضروریات کو نظر انداز کرنا، خواتین کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

یورپ کے ایک ملک وییانہ (Vienna) کے ٹرانسپورٹ پالیسی میں جنڈر کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے انہوں نے شہر کی %60 ٹرانسپورٹ سسٹم کو  پیدل چلنے والوں کے لئے بنایا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ زیادہ روڑز بنانے سے ٹریفک کا نظام بہتر نہیں ہو سکتا، بلکہ اس سے اور زیادہ گاڑیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

گلگت سٹی ایک چھوٹا شہر ہے، جس کو پیدل ایک دو گھنٹے میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے اگر گلگت کے ٹرانسپورٹ سسٹم کو بہتر بنانا ہے، تو اس کو پیدل چلنے والوں کے لئے فرینڈلی بنا لے۔ تمام پرائیوٹ ٹرانسپورٹ شہر سے باہر ہو۔ اندرون شہر سڑکیں صرف ایمبولنس اور پبلک بسوں کے لئے ہو، سوزوکی کی جگہ پبلک وین اور بسیں ہوں اور  پیدل چلنے والوں اور سائیکل کے لئے پراپر سٹریکچر  شہر کے اندر ہو۔

اس کے علاوہ خواتین کو پیدل سفر کرنے اور محفوظ رکھنے کے لئے، گلگت کے مردوں کی آنکھوں اور دماغ کا سوشل اور ایجوکیشنل علاج بھی کرانا ہوگا۔

بشکریہ گرلز راژک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں