52

عطاآباد حادثے کے بعد این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے علی آباد تھانے میں میں درخواست دائر


ہنزہ : عطاآباد ٹنل کے قریب کار حادثے میں تین نوجوانوں کے جان بحق ہونے کے بعد ہنزہ کی تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، بازار ایسوسی ایشن، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور ہوٹل ایسوسی ایشن کی جانب سے این ایچ  اے اور ایف ڈبلیو او کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے علی آباد تھانے  میں درخواست دائر کی گئی۔

حادثے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ تین نوجوانوں کے جان بحق ہونے  پر ہنزہ کے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گٸی ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے قراقرم ہائی وے کی تعمیر و مرمت کرنے والی دو کمپنیوں این ایچ  اے اور ایف ڈبلیو او کو مرد الزام ٹہرایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لینڈ سلاٸیڈنگ کے بعد کے کے ایچ سے ملبہ نہ اٹھانے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا جوکہ ان اداروں کی نااہلی اور لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 اس واقعے کو ضلع ہنزہ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے عوام ہنزہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ جبکہ درخواست میں بھی یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جائے وقوعہ پر دو ماہ قبل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم تین روز تک بند رہی۔ جس کے بعد ایف ڈبلیو او کے جانب سے چھوٹی گاڑیوں کے لئے عارضی طور پر راستہ ہموار کیا تھا لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود این ایچ  اے اور ایف ڈبلیو او نے مزید کام نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے تین قیمتی جانیں ضائع ہوگٸیں۔ جس کی ذمہ داری سراسر این ایچ  اے اور ایف ڈبلیو پر عاٸد ہوتی ہے۔

کیٹاگری میں : خبر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں