حیدر جاوید سید 88

عمران خان کی گرفتاری


تحریر: حیدر جاوید سید


بالآخر عمران خان گرفتار ہو ہی ہوگئے۔ان کی گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے میں واقع اس کمرے ( ریکارڈ روم )  سے عمل میں لائی گئی جہاں وہ عدالت میں زیرسماعت اپنی درخواست ہائے ضمانت کی خاطر  الیکٹرانک تصدیقی عمل سے گزرنے کے لئے موجود تھے۔

 سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کرپشن  کیس میں گرفتار کیا گیا۔ اس ٹرسٹ کے ٹرسٹیوں میں ان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بیگم بھی شامل ہیں۔ القادر ٹرسٹ اس وقت معرض وجود میں آیا جب بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض کے صاحبزادے علی ریاض نے راولپنڈی لاہور روڈ پر سوہاوہ کے مقام پر لگ بھگ ساڑھے پانچ سو کنال اراضی ٹرسٹ کے نام منتقل کی۔ اس عرصہ میں بشریٰ بیگم کی فرنٹ مین کہلانے والی محترمہ فرح گوگی کے نام بھی بنی گالہ  کے علاقے میں 240کنال کی اراضی منتقل کی گئی یہ اراضی بھی علی ریاض نے انہیں دی۔ القادر ٹرسٹ کو دی گئی زمینوں کے حوالے سے سکینڈل عمران خان کے اپنے دور اقتدار میں سامنے آیا تھا۔

تب کہا گیا کہ ’’اگر کوئی علم اور  روحانیت کی خدمت کے لئے زمین کا عطیہ دیتا ہے تو یہ جرم کیسے ہوا‘‘۔ معاملہ اتنا سادہ ہرگز نہیں تھا جیسی وضاحت کی گئی ۔

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کراچی کو سرکاری اور نجی اراضی زبردستی ہتھیانے کے الزام میں ایک بڑی رقم بطور زرتلافی جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ اسی عرصہ میں ملک ریاض کی لندن میں سرمایہ کاری پر برطانوی قانون کے مطابق سوالات اٹھادیئے گئے۔ برطانوی حکام نے پاکستان سے غیرقانونی طور پر برطانیہ لے جائی گئی لگ بھگ 50ارب روپے کی رقم حکومت پاکستان کو واپس کی۔ یہ رقم سپریم کورٹ کے اس زرتلافی کے حکم  کے تحت تویل میں تو لی گئی

 مگر اس پر اس وقت کے مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ذریعے ملک ریاض سے بات چیت کرکے رقم انہیں دلوانے کے عوض القادر ٹرسٹ کے لئے زمین حاصل کی گئی۔

 سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کرپشن  کیس میں گرفتار کیا گیا۔ اس ٹرسٹ کے ٹرسٹیوں میں ان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بیگم بھی شامل ہیں۔ القادر ٹرسٹ اس وقت معرض وجود میں آیا جب بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض کے صاحبزادے علی ریاض نے راولپنڈی لاہور روڈ پر سوہاوہ کے مقام پر لگ بھگ ساڑھے پانچ سو کنال اراضی ٹرسٹ کے نام منتقل کی۔

 سوہاوہ اور بنی گالہ میں لی گئی اس اراضی کی مجموعی قیمت کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ وہ ساڑھے سات ارب روپے کی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ملک ریاض کا معاملہ طے  کرانے (یعنی50 ارب کی واپسی پر زمین فراہم کرنے) پر اس وقت کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے 2ارب روپے کمیشن لیا۔

اسی پریس کانفرنس میں جب وزیر داخلہ سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے دوران گفتگو چند ناروا جملے بولے کیا انہیں اس پر افسوس ہے؟

 وزیر داخلہ نے جواب دیا یہ زبان اور الفاظ عمران اور اس کے ساتھی مسلسل استعمال کررہے ہیں آج مجھ پر اعتراض اور سوال کرنے والوں نے کتنی بار یہ اعتراض اور سوال ان سے کیا۔

 عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری کو تجزیہ نگاروں کی اکثریت ان کے دو حالیہ بیانات کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ ان بیانات میں انہوں نے آئی ایس آئی کے ایک سینئر افسر پر خود کو دوبار قتل  کرانے کا الزام لگایا تھا۔

منگل کی صبح اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے لئے لاہور سے روانگی سے قبل انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں نہ صرف اس الزام کو دہرایا بلکہ یہ بھی کہا کہ میں ذہنی طور پر گرفتاری کے لئے تیار ہوں وارنٹ لائیں مجھے گرفتار کرلیں۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے وقت انہیں وارنٹ دیکھائے گئے رینجرز نے نیب افسران کے حکم پر انہیں تحویل میں لیا اور دو سو قدموں کے فاصلے پر کھڑی گاڑی تک پیدل لے جانے کے بعد  گاڑی میں بیٹھاکر نیب راولپنڈی کے دفتر پہنچادیا۔

عمران خان کے وکلاء کے خیال میں یہ گرفتاری آزاد عدلیہ پر حملہ ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اس گرفتاری اور ہائیکورٹ کے احاطے میں ہونے والی توڑپھوڑ کا کسی تاخیر کے بغیر نوٹس لیا اس عدالتی  ازخود نوٹس پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

عمران خان نیب کے جس کیس میں  گرفتار ہوئے اس کیس کی انکوائری ہورہی تھی ان کے وکلاء انکوائری کے عمل میں گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں جبکہ ماضی میں انکوائری سے قبل اور دوران انکوائری ایک کیس میں بلاکر دوسرے کیس میں گرفتاری ڈالنے کا نیب ریکارڈ موجود ہے۔

ماضی کے غلط عمل کو منگل کے روز کے عمل سے جوڑ کر دیکھنا درست سمجھنا یا غلط یہ مختلف الخیال سیاسی لوگوں کے معاملات ہیں۔

قانونی پوزیشن یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے نیب کے نوٹسز کا جواب دینا گوارہ نہیں کیا بلکہ وہ ایک سے زائد بار اس کیس میں اپنی بیگم کا نام دیئے جانے کو شخصی انتقام کی بدترین مثال قرار دے چکے ان کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ چونکہ سرکاری منصب پر نہیں رہیں  اس لئے نیب کیس نہیں بنتا۔

یقیناً یہ قانونی نکتہ ان کے وکلاء نیب کیس میں عدالت کے سامنے رکھیں گے۔

عمران خان نیب کے جس کیس میں  گرفتار ہوئے اس کیس کی انکوائری ہورہی تھی ان کے وکلاء انکوائری کے عمل میں گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں جبکہ ماضی میں انکوائری سے قبل اور دوران انکوائری ایک کیس میں بلاکر دوسرے کیس میں گرفتاری ڈالنے کا نیب ریکارڈ موجود ہے۔

ان کی اہلیہ کو اس کیس میں بطور ملزم شامل کئے جانے کی دو وجوہات ہیں اولاً القادر ٹرسٹ کا ٹرسٹی ہونا اس ٹرسٹ کو ساڑھے پانچ سو کنال سے زیادہ کی اراضی بحریہ ٹائون کے مالک کے صاحبزادے نے دی تھی ثانیاً بشیریٰ بیگم اور ملک ریاض کی صاحبزادی کی ایک مبینہ آڈیواور دوسری ملک ریاض کی اپنی بیٹی سے گفتگو کی آڈیو ۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اور مختلف افسران سمیت نیب کو پندرہ منٹ سے آدھے گھنٹے کے نوٹس پر پیش ہونے کے حکم پر البتہ حیرانی ضرور ہے کیونکہ ماضی میں کسی عدالت نے کسی سابق صدر مملکت اور وزیراعظم یا وزراء و سیاستدانوں کی اس طرح کے الزامات میں گرفتاری پر نہ تو ایسی فوری کارروائی کی نہ کسی گرفتار شدہ شخص کے لئے محبتوں کے زم زم بہائے۔

ایک اعتبار سے عمران خان خوش قسمت ہیں کہ اس وقت  نیب قوانین ان کے دور والے نہیں نئے قانون کے تحت اب  نیب ملزم کو  90 روز تک اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکتا.

 اب پندرہ دن میں تفتیش مکمل کرکے عدالت میں ریکارڈ جمع کرانے کا نیا قانون ہے۔ اگر ماضی والا قانون ہوتا جس کی جگہ نئے قانون کے نفاذ کے خلاف عمران خان سپریم کورٹ میں دائر ایک درخواست کے مدعی ہیں تو 90 دن کے تفتیشی عمل کے دوران ان کی درخواست ضمانت ہی دائر نہ ہو سکتی۔

فی الوقت عمران خان کے خلاف موجود 123کیسوں میں سے 2کیس شواہد کے حوالے سے اہم ہیں ایک یہی جس میں وہ گرفتار ہوئے دوسرا توشہ خانہ کیس جس میں اس امر کے شواہد ہیں کہ انہوں نے پوری زندگی میں اتنے پیسے نہیں کمائے (چندہ نہیں کمانے کی بات ہے) جتنے اپنی وزارت عظمیٰ کے ساڑھے تین برسوں میں کمائے۔

 اس کمائی کا ثبوت ان کی 2018ء کے بعد کی ٹیکس ریٹرنز ہیں۔ ان دونوں کیسوں میں وہ ابھی ملزم ہیں۔

مجرم نہیں البتہ انہیں یا ان کے ساتھیوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ماضی میں وہ ایسے کیسوں میں اپنے مخالفین کے نام آنے پر انہیں براہ راست مجرم قرار دیا کرتے تھے یہی نہیں بلکہ کھلے میدانوں میں لٹکا کر نشان عبرت بنادینے والی باتیں بھی کرتے تھے ۔

 عمران خان کے حامی اور الیکٹرانک میڈیا کے تجزیہ نگار پچھلے چند گھنٹوں (یہ تحریر لکھے جانے تک) سے مسلسل یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حکومت میں اتنے تپڑ نہیں تھے کہ وہ عمران کو گرفتار کرسکتی یہ گرفتاری کسی اور نے کرائی ہے۔

 ایسا ہی ہے تو پھر ان کے ان مخالفین کی اس رائے کو بھی درست تسلیم کرنا پڑے گا جو ماضی میں اپنی گرفتاریوں کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کے حکم کا نتیجہ قرار دیتے تھے۔

فی الوقت عمران خان کے خلاف موجود 123کیسوں میں سے 2کیس شواہد کے حوالے سے اہم ہیں ایک یہی جس میں وہ گرفتار ہوئے دوسرا توشہ خانہ کیس جس میں اس امر کے شواہد ہیں کہ انہوں نے پوری زندگی میں اتنے پیسے نہیں کمائے (چندہ نہیں کمانے کی بات ہے) جتنے اپنی وزارت عظمیٰ کے ساڑھے تین برسوں میں کمائے۔

عمران خان اس ملک کی سیاست کے اکھاڑے میں اکتوبر 2011ء میں ایک  نئے انتظام کے ساتھ اتارے گئے۔ ان کے 2014ء والے دھرنے پر الزام تھا  کہ وہ امریکہ سپانسرڈ دھرنا  تھا اب بھی بعض حلقے ان کے حالیہ طرز عمل کو  سی پیک کے خلاف ان کی تازہ مہم جوئی قرار دے رہے ہیں  جو بظاہر چیف جسٹس یکجہتی پروگرام ہے۔

  کہا جارہا ہے کہ یہ اصل میں 2014ء کے کردار کو دوبارہ اپنانے کا وہ عمل ہے جس کی یقین دہانی انہوں نے حال ہی میں ملنے والے امریکی وفود اور سفیر کو کرائی۔

2014ء کا کردار دوبارہ اپنانے والی بات آج اس لئے غور طلب ہے کہ اس وقت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے چند بڑے ان کے ساتھ تھے۔ اب کیا اسٹیبلشمنٹ کے اندر کوئی دھڑا ان کا ہمنوا ہے؟

 عمران خان کو عدالتی احاطہ کے ایک کمرے سے کھینچ کر پیدل چلاتے ہوئے جس طرح گاڑی تک لے جایا گیا وہ عمل اس لئے درست نہیں کہ وہ اپنی گاڑی سے متعلقہ کمرے تک ویل چیئر پر بیٹھ کر آئے تھے۔

ویسے وہ اپنے قدموں پر بھی اچھے بھلے انداز میں چل رہے تھے۔ ان کے وکلاء گرفتاری کے وقت ان پر تشدد کئے جانے کا الزام لگا رہے ہیں گرفتاری کے لمحات کی ویڈیوز میں ایک یہی ویڈیو شامل نہیں ورنہ اس سے پہلے اور بعد کی ویڈیوز موجود ہیں۔

اب دیکھتے ہیں عدالتی محبت کیا رنگ لاتی ہے اور کیا وہ نیب کی تحویل میں رہتے ہیں یا انصاف کی محبت گرفتاری کی تاریں کاٹ دے گی۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں