ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 104

کھوار لغت نویس و ادیب ناجی خان ناجی کی رحلت


تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی


لغت نویس، ادیب اور شاعر ناجی خان ناجی 81 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے 18 مئی  2023 کو ان کی وفات حسرت آیات کی خبر آئی تو افسوس، دکھ اور صدمہ کے ساتھ ان کی قلمی، ادبی اور سماجی خدمات کی فلم ذہن کی سکرین پر آہستہ آہستہ چلنے لگی۔

 12 اکتوبر1942 کو خیبر پختونخواہ کے پہاڑی گاؤں شوتخار میں متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے زمین دار وزیر خان کے گھر پیدا ہونے والے ناجی خان ناجی جب  7 سال کے ہوئے تو پرائمری سکول گاؤں سے 6 کلومیٹر دور تھا مڈل اور ہائی سکول 4 دنوں کی پیدل مسافت پر تھے۔

 بظاہر تعلیم کے مواقع میسر نہیں تھے تاہم باپ نے حوصلہ دیا بیٹے نے ہمت کی حالات کا مقابلہ کیا اور حصول علم کے بعد اپنے گاؤں کے سکول میں مدرس لگ گیا یوں جس نوجوان کو تعلیم کی سہولت میسر نہیں تھی اُس نے شوتخار نامی گاؤں میں نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں اور استادوں کا استاد کہلوایا۔

 پھر یہ پیغمبرانہ پیشہ اپنے بیٹے نور الہادی ناجی کو سپرد کر کے دیا سے دیا جلانے اور شمع محفل بن کر روشنی پھیلانے کا سلسلہ صدقہ جاری کے طور پر جاری رکھنے کا اچھا اہتمام کیا خیبر پختونخواہ کے مشہور و معروف اساتذہ ڈاکٹر سعید اللہ قاضی، جہاں بادشاہ، پروفیسر عبیدالرحمن، خیراللہ حواری، ضیاء الدین، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، پروفیسر عزیز الرحمن عزیز اور بخیار زمین کے ساتھ آپ کے دوستانہ اوربرادرانہ تعلقات تھے ان کا کہنا تھا کہ استاد صرف کمرہ جماعت میں استاد نہیں ہوتا کمرہ جماعت سے باہر بھی استاد ہوتا ہے۔

 بظاہر تعلیم کے مواقع میسر نہیں تھے تاہم باپ نے حوصلہ دیا بیٹے نے ہمت کی حالات کا مقابلہ کیا اور حصول علم کے بعد اپنے گاؤں کے سکول میں مدرس لگ گیا یوں جس نوجوان کو تعلیم کی سہولت میسر نہیں تھی اُس نے شوتخار نامی گاؤں میں نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں اور استادوں کا استاد کہلوایا۔

قاری فیض اللہ چترالی، حاجی نورسایہ خان، حاجی محمد حسین اور حاجی اموخت علی نے ان کاساتھ دیا ان کے اردو کلام کا مجموعہ ”ضرب قلم“ کا ایک ایک شعر اور مصرعہ اس جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔

 حاجی مہدی محمد کی جدائی پر اُنہوں  نے پوری نظم لکھی اور بجا طور پر کہا۔ قرآن کی دعوت لے کر، اخوت و مروت لے کر نرالی اک خدمت لیکر، وہ وادی کا مسافر پھر کبھی نہ آئے گا، کوئی اُسے نہ پائے گا۔

ناجی خان ناجی نے ہمہ جہت مصروفیات میں اپنی مادری زبان کھوار کو وقت دیا کھوار اردو لغت ان کی اہم یادگاروں میں شامل ہے اس لغت کی صورت میں انہوں نے تن تنہا ایک اکیڈمی اور ادارے کا کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیا کھوار کے ساتھ ان کی محبت بچپن سے تھی لیکن اظہار کا ذریعہ نہیں تھا۔

1965 میں ریڈیو پاکستان پشاور سے کھوار پروگرام کا آغاز ہوا  پھر جمہور اسلام کے ماہانہ مجلے میں کھوار چھپنا شروع ہوا تو خطوط اور نگارشات کے ذریعے پروگرام اور مجلے میں ناجی خان ناجی نے بھر پور حصہ ڈالا یوں آپ کانام شہزادہ حسام الملک، پروفیسر اسرار الدین، وزیراعلی شاہ، غلام عمر، چنگیز خان طریقی، ولی زار خان ولی، گل نواز خان خاکی، عزیزالرحمن بیغش، رحمت آکبر خان رحمت، مرزا فردوسی اور بابا ایوب کی طرح نامور قدما کی فہرست میں لیا جاتا ہے۔

ناجی خان ناجی نے ہمہ جہت مصروفیات میں اپنی مادری زبان کھوار کو وقت دیا کھوار اردو لغت ان کی اہم یادگاروں میں شامل ہے اس لغت کی صورت میں انہوں نے تن تنہا ایک اکیڈمی اور ادارے کا کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیا کھوار کے ساتھ ان کی محبت بچپن سے تھی لیکن اظہار کا ذریعہ نہیں تھا۔

آپ کے کھوار کلام کا پہلا مجموعہ ”تروق زوالو“ یعنی تلخ و شرین کے نام سے شائع ہو چکا ہے آپ کے کلام میں مولانا الطاف حسین حالی اور ماہر القادری کارنگ جھلکتا ہے اس لئے جو کلام ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا یا مشاعروں میں پڑھا گیا وہ سامعین کوبے حد پسند آیا۔

 آپ کی موجودگی مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی آپ کی غیر مطبوعہ کتابوں میں آئینہ اردو، پگڈنڈیوں سے شاہراہ تک (سوانح عمری) معلم کھوار، کلیات ناجی اور آئینہ کھوار شامل ہیں، زبان وادب اور تہذیب و ثقافت کے لئے آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کو کمال فن ایوارڈ، تریچ میر ایوارڈ، اقراء ایوارڈ، غلام عمر ایوارڈ، کھوار اہل قلم ایوارڈ اور انجمن ترقی کھوار کی طرف سے بابائے کھوار ایوارڈ عطا کئے گئے ہیں ۔

زندگی کے آخری سالوں میں آپ کا معمول تھا کہ سردیاں کراچی میں اپنے بیٹے مولانا سراج النبی کے ہاں گذارتے تھے آخری سال کمزوری کی وجہ سے سفر نہ کر سکے اپنے گاؤں شوتخار میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔

آسمان تری لحدپہ شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں