114

ضد، آنا ، تکبر اور غرور کا انجام


پاکستان اپنی فطرت میں ایک گونا گون معاشرہ ہے اس معاشرے کے سارے اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی استحکام اور جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔

تحریر: کریم اللہ


ضد، آنا پرستی، تکبر اور غرور شیطانی اوصاف ہے جس انسان میں یہ اوصاف موجود ہو وہ خود کو سب سے افضل سمجھتا ہے۔ جبکہ باقیوں کو اپنے سے کمتر۔

سیاست ایک متغیر عمل کا نام ہے اگر سیاست کو جامد رکھا جائے تو وہ سیاست دیر پا زندہ نہیں رہ سکتی۔

پاکستان میں پارلیمانی طرز حکومت ہے جس کی کئی خامیاں اور کئی ایک خوبیاں ہیں۔ البتہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کے لئے اسٹیک ہولڈر یعنی سیاسی جماعتوں کو تدبر کا مظاہر کرنا ہوتا ہے۔

پاکستان اپنی فطرت میں ایک گونا گون معاشرہ ہے اس معاشرے کے سارے اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی استحکام اور جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔

خان صاحب کے پاس دوسرا آپشن یہ تھا کہ اپنے گردن میں موجود سرئے کو نکال کر سیاسی افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرتے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر پارلیمان کو چلاتے۔ اپوزیشن لیڈران کو چور ڈاکو سمجھنے کے بجائے عوام کا منتخب نمائندہ سمجھ کر میثاق معیشت پر کام کرتے۔ ملک میں آئینی و قانونی کمزویوں کو دور کرتے تو نہ کوئی طاقت ان کو اقتدار سے الگ کرتی اور نہ آج یہ دن دیکھنا پڑتا

جب دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں پی ٹی آئی تمام تر کوششوں کے باوجود کمزور برتری حاصل کی تو اس وقت عمران خان صاحب کو وفاق میں حکومت سنبھالنے کے لئے بوٹ اور جہانگیر ترین کے جہاز کا سہارا لینے کے بجائے حکومت ن لیگ یا کسی دوسرے جماعت کے لئے چھوڑ دیتے اور خود یہاں خیبر پختونخوا میں آکر وزیر اعلی بن جاتے تو صوبے میں ان کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی اور انتظامی امور کو بھی سیکھ لیتے۔ مگر خان صاحب وکٹیں گرا رہے تھے اور ان گری ہوئی وکٹوں سے حکومت تو قائم ہوئی مگر پائیداد سیاسی استحکام ندارد۔

ایسے میں خان صاحب کے پاس دوسرا آپشن یہ تھا کہ اپنے گردن میں موجود سرئے کو نکال کر سیاسی افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرتے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر پارلیمان کو چلاتے۔ اپوزیشن لیڈران کو چور ڈاکو سمجھنے کے بجائے عوام کا منتخب نمائندہ سمجھ کر میثاق معیشت پر کام کرتے۔ ملک میں آئینی و قانونی کمزویوں کو دور کرتے تو نہ کوئی طاقت ان کو اقتدار سے الگ کرتی اور نہ آج یہ دن دیکھنا پڑتا کہ ایک بڑی جماعت اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور خیبر پختونخوا پر دس سالوں تک حکومت کرنے والے پی ٹی آئی لیڈران روپوش ہے۔

اس کے بعد جب عدم اعتماد آئی تو اسے پارلیمانی طریقہ کار سمجھ کر قبول کرتے اور اپوزیشن بینچوں میں بیٹھ کر توانا اپوزیشن کرتے تب بھی یہ حالت نہ ہوتی۔

گزشتہ ایک سال کے دوران عمران خان تسلسل کے ساتھ طاقت کے مراکز اور کمزور سویلین حکومت دونوں کو بلیک میل کرتی رہی اور غیر جمہوری قوتوں کو مسلسل سیاسی معاملات میں مداخلت کی دعوت دیتے رہے۔ جب اس سب کے باجود کام نہ بن سکا تو آخری آپشن کے طور پر جیل جانے سے قبل طاقت کے مراکز پر تابڑ توڑ حملہ کرکے اپنے جذباتی کارکنان کو مزید چارچ کیا جب خان کی گرفتاری ہوئی تو توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور فتوحات کے جشن منایا جانے لگا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران عمران خان تسلسل کے ساتھ طاقت کے مراکز اور کمزور سویلین حکومت دونوں کو بلیک میل کرتی رہی اور غیر جمہوری قوتوں کو مسلسل سیاسی معاملات میں مداخلت کی دعوت دیتے رہے۔ جب اس سب کے باجود کام نہ بن سکا تو آخری آپشن کے طور پر جیل جانے سے قبل طاقت کے مراکز پر تابڑ توڑ حملہ کرکے اپنے جذباتی کارکنان کو مزید چارچ کیا جب خان کی گرفتاری ہوئی تو توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور فتوحات کے جشن منایا جانے لگا۔ انقلاب اب آیا کہ تب۔ ہم بھی انقلاب کی راہ تکتے رہے۔

جس کے نتیجے میں طاقت ور حلقوں کو بھی موقع ہاتھ آگیا اور وہی کیا جو ماضی میں کرتے آئے ہیں۔

اب توڑ پھوڑ کے اس سلسلے کو روکنا ممکن نہیں اور اگلے آنے والے انتخابات میں پی ٹی آئی کی بدترین شکست نوشتہ دیوار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں