خودکشی کا ایک اور دل خراش واقعہ۔۔۔۔ذمہ دار کون ۔؟؟


تحریر: کرن قاسم


سوشل میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ ایک نوجوان طالبہ نے دنیور معلق پل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی مگر طلبہ کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا ۔

خبر پھیل گئی دفتری کام نمٹا کر گھر کے جانب جا رہی تھی راستے میں آکر ایس ایچ او ویمن کو کال کیا ایس ایچ او صاحبہ نے کہا آپ ہسپتال آ جاؤ میں بھی ادھر موجود ہوں ۔ میں شہید سیف الرحمن ہسپتال کراس کر کے کافی آگے آئی تھی دوبارہ گاڑی موڑ کر میں شہید سیف الرحمن ہسپتال پہنچ گئی ۔

 جیسے ہی ہسپتال پہنچ گئی آئی سی یو میں لڑکی کو شفٹ کرنے کی خبر ملی میں آئی سی یو گئی جہاں پر طالبہ کو ڈرپ وغیرہ لگائے گئے تھے ۔۔

 طالبہ کے ساتھ اس کی بہن بھائی ماموں والد سارے فیملی کے ممبرز بے بسی کی تصویر بنے کھڑے بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔

 طالبہ کا ایک سائڈ ٹانگ اور ہاتھ فریکچر ہوا تھا اور وہ چیخ رہی تھی میری کمر میں سخت درد ہو رہا ہے ۔۔

مجھے بے ہوشی کا انجیکشن لگوا دے اپنی بہن کو ہاتھوں سے جھنجوڑ رہی تھی کھبی اپنے ماموں کو آواز دے رہی تھی۔

 یہ منظر دیکھ کر میں کافی ٹائم وہاں کھڑی رہی۔ لڑکی کی حالت دیکھ کر میں نے کوئی سوال و جواب نہیں کیا خاموشی سے کھڑی رہی ۔

کچھ دیر کھڑی رہ کر ہمت کر کے اس کے ماموں سے پوچھا تو ماموں نے بتایا کہ یہ گھر کی لاڈلی تھی غصہ برداشت نہیں کرسکتی اور غصے کی تیز تھی اپنی ماں کے ساتھ چھوٹی سی بات پہ تکرار ہو کرگھر سے نکلی تھی ۔

سیکنڈ ائیر میں پڑھ رہی تھی۔

اور اس کی خواہش کے مطابق منگنی بھی ہو گئی تھی۔

وارڈ میں رش بڑھنے سے وہاں سے لوگوں کو باہر نکال دیا

اور کہا جا رہا تھا اب ڈاکٹر آنے والا ہے۔ 

ایس ایچ او صاحبہ سے بات چیت کر کے نکلی تو سامنے وارڈ میں صوبائی وزیر صحت حاجی گلبر خان پر نظر پڑی جو کمر درد کی وجہ سے ایڈمٹ تھے۔

صوبائی وزیر کی خیریت دریافت کر کے وہاں سے نکل کے گھر آئی۔ گھر آکے کچھ دیر  کے بعد میسج آیا کہ لڑکی اللہ کو پیاری ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں