Virsa 326

حمرہ خلیق:عزم وہمت اور جدوجہد کی علامت


تحریر: صنوبر ناظر


آج ہم آپ کی ملاقات  ایک ایسی شخصیت  سے کرواتے ہیں  جو  ایک زندہ تاریخ ہیں  جنہوں نے اپنی محنت اور عزم کی بدولت  سماجی رکاوٹوں کا مقابلہ کیا  اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوئی  اور نہ صرف درس و تدریس  میں  اپنا ایک مقام بنایا بلکہ ادب اور سماجی شعبوں میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیں ۔

آئیے ہم آپ کو ملاتے ہیں اس عزم و ہمت اور حوصلے کی علم بردار  شخصیت سے   ۔

یہ ہیں ہماری محترمہ حمرہ خلیق صاحبہ، جو اس وقت اپنی زندگی کے پچیاسی  بہاریں دیکھ چکی ہیں۔ ان گزرے سالوں کی ایک پوری تاریخ انہوں نے بنتے بگڑتے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور برتی ہے۔

ہم نے ورثہ پروگرام کے تحت ہائی ایشیاء چینل  اور بام جہان کے لئے ان سے ایک خصوصی نشست میں گفتگو کی ۔   

برصغیر کی تقسیم کے وقت وہ  نو سال کی دھان پان سی لڑکی مظفر پور کی باسی تھی۔

لیکن حالات و واقعات نے ایسی کروٹ لی کہ وہاں سے جان بچا کر ریاست رام پور کی راہ لی۔ چند عرصہ ذرا سکون میں گزرا لیکن جلد ہی پورے کنبے سمیت نو زائیدہ  ملک پاکستان کا رخ کیا جہاں مشکلات کے پہاڑ ان کا استقبال کرنے کے لئے تیار تھے۔

چونکہ تعلق ایک ادبی گھرانے سے تھا تو بچپن سے ہی حساس دل پایا۔ مشکل حالات میں اپنے والدین پر کسی بھی حوالے سے بوجھ بننا تو دور کی بات بلکہ ہمیشہ ان کے لئے فخر کا موجب رہیں۔

کراچی میں مستقل بسنے سے قبل وہ لاہور اور فیصل آباد میں بھی رہائش پذیر رہیں۔

انہوں نے بی اےکرنے کے بعد بی ایڈ کیا تاکہ اعلی تعلیم کے اخراجات کا بوجھ والدین پر نہ پڑے۔ تعلیم سے فارغ ہونے  کے بعد  حمرہ صاحبہ کم عمری میں ہی تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئیں اور ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔

حمرہ صاحبہ چھبیس برس کی عمر میں پاکستان کے پہلے ڈاکیومینٹری فلم بنانے والے ادیب خلیق ابراہیم خلیق سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔

خلیق صاحب کا فنون لطیفہ سے رشتہ ان کے لیئےمعاون ثابت ہوا ۔لیکن انہوں نے پہلے بیٹے کی پیدائش پر ملازمت کو خدا حافظ کہا اور اپنے بیٹے کی پرورش پر پورا دھیان دینے لگی۔ دوسرے بیٹے  کی پیدائش  کے بعد جب دونوں بیٹے اسکول جانے کے قابل ہوئے تو  انہوں نے دوبارہ پڑھانا شروع کردیا۔

اسی دوران انہوں نےلکھنے لکھانے کا کام بھی جاری رکھا ۔ مختلف رسائل، میگزین میں ان کے کالم اور کہانیاں بدستور چھپ رہی تھیں وہیں انہوں نے ٹی وی کے لئے ڈرامے بھی لکھنے شروع کر دئیے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ‘بھگت’، ‘بارش’ مشہور ہیں جو کئی مرتبہ ‘جیونیوز’ اور ‘ہم نیوز’ پر نشر کئے گئے۔

وہ دس کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ جن میں آب بیتی، افسانے اور تراجم شامل ہیں۔

وہ نہ صرف اپنے والدین کی ایک قابل، فرمانبردار اولاد  رہیں بلکہ بحیثیت ماں اپنے دونوں بیٹوں کو بھی اعلِی تعلیم  سے آراستہ کیا اور ان کی شاندار تربیت کیں۔ ان کے  دونوں بیٹوں حارث خلیق اور طارق خلیق میں ان کی  شخصیت اور تربیت  کی جھلک نمایاں نظر آتی ہیں۔

حارث خلیق اپنی والدہ کی طرح ایک نامور لکھاری، اور اردو اور انگریزی زبان کے شاعر  ہیں آ ج کل حقوق انسانی کمیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔

حمرہ صاحبہ آج بھی اپنی سادگی اور بذلہ سنجی سے ہر عمر کے دوست احباب اور ملنے جلنے والوں کو متاثر اور محظوظ کرتی ہیں۔  آنے والی نسلوں کے لئے وہ مشعل راہ ہیں۔


صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹر کر رکھا ہے جب کہ خواتین کی فلاح و بہبود اور مختلیف تعلیمی پراجیکٹ پہ کام کر چکی ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برس سے قومی اور بین ا لقوامی میڈیا اداروں کے لیئے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔ وہ سوانگ تھیٹر گروپ کی روح رواں ہیں۔ وہ حال ہی میں ہائی ایشیاء میڈیا گروپ سے وابستہ ہوئی ہیں اور ورثہ پروگرام کے نام سے ہائی ایشیاء ٹی وی پر ایک نیا ٹاک شو کی میزبانی کریں گی جس میں ادب، فنون لطیفہ اور سماجی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخصیات کے ساتھ گفتگو کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں