92

قوموں کا اچانک گرنا


تاریخ میں قوموں کی تہذیب کے کئی اسباب ہیں۔ آب و ہوا کی آلودگی، قحط و خشک سالی، بڑھتی ہوئی آبادی، حکمرانوں کی نا اہلی، ریاست کی آمدنی کا غیر ضروری استعمال، امیر و غریب میں فرق کا بڑھنا، لاقانونیت اور جرائم میں اضافہ، پیشہ ورانہ کاریگروں اور محنت کشوں کا استحصال، پیداوار کی کمی اور غذائی اشیا کی مہنگائی۔

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی


قومیں نہ صرف زوال پذیر ہوتی ہیں، بلکہ کسی حادثے کی صورت میں پستی کی جانب گر جاتی ہیں۔

تاریخ میں ہم قوموں کے عروج و زوال کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ تاریخی واقعات کی شہادت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ قومیں کن مراحل سے گزر کر عروج پر پہنچیں، اور پھر درجہ بدرجہ زوال پذیر ہوئیں۔ جو قومیں ایک دفعہ زوال پذیر ہو جاتی ہیں وہ اپنی توانائی کھو کر تاریخ میں گم ہو جاتی ہیں۔

گم ہونا یا کمزور ہو کر گر جانا، اس کی مثال میسوپوٹامیہ، مصری، رومی اور ایرانی قومیں ہیں۔ لیکن تمام کوششوں کے باوجود وہ دوبارہ اپنی توانائی بحال نہ کر سکیں اور پھر کمزوری اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ان کا وجود بھی برائے نام رہ جاتا ہے۔

تاریخ میں قوموں کی تہذیب کے کئی اسباب ہیں۔ آب و ہوا کی آلودگی، قحط و خشک سالی، بڑھتی ہوئی آبادی، حکمرانوں کی نا اہلی، ریاست کی آمدنی کا غیر ضروری استعمال، امیر و غریب میں فرق کا بڑھنا، لاقانونیت اور جرائم میں اضافہ، پیشہ ورانہ کاریگروں اور محنت کشوں کا استحصال، پیداوار کی کمی اور غذائی اشیا کی مہنگائی۔

اس موضوع پر Guy D. Middle Tone نے اپنی کتاب "Understanding Collapse”   میں ان اقوام کا ذکر کیا ہے جس میں قومیں اور تہذیبیں اپنی معاشی خوشحالی سے رک کر اچانک غربت اور مفلسی کے اندھیرے میں ڈوب گئیں۔

اس کی ایک تازہ مثال ہمارے سامنے سری لنکا کی ہے کہ وہ اپنی آب و ہوا اور معیشت میں اپنے وسائل پر انحصار کرتا تھا۔ لیکن جب اس کے حکمرانوں نے بدعنوانیوں اور ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کی تو ملک کو اتنا غریب کر دیا کہ وہ کھانے پینے سے بھی محروم ہو گیا اور دنیا کے غریب ملکوں کے لیے باعث عبرت بن گیا۔

ابن خلدون نے خاص طور سے حکمرانوں کی تاریخ پر تبصرہ کیا ہے۔ اس کے نظریے کے مطابق جب ایک حکمران خاندان زوال پذیر ہو جاتا ہے، اس کی جگہ ایک دوسرا نیا خاندان اپنی توانائی کے باعث اس کی جگہ لے لیتا ہے اور اس طرح تاریخ کا تسلسل جاری رہتا ہے۔

مصنف نے اپنی کتاب میں ابن خلدون کے نظریہ عروج و زوال کو پیش کیا ہے۔ ابن خلدون نے خاص طور سے حکمرانوں کی تاریخ پر تبصرہ کیا ہے۔ اس کے نظریے کے مطابق جب ایک حکمران خاندان زوال پذیر ہو جاتا ہے، اس کی جگہ ایک دوسرا نیا خاندان اپنی توانائی کے باعث اس کی جگہ لے لیتا ہے اور اس طرح تاریخ کا تسلسل جاری رہتا ہے۔

اس کی مثال ہمیں ہندوستان کی تاریخ میں بھی ملتی ہے۔ خاندان غلاماں کے بعد خلجی خاندان آیا اور ان کے بعد تغلق آیا۔ ان کے زمانے میں تیمور نے حملہ کر کے یہاں حکومتوں کا خاتمہ کر دیا اور ایک وقفے کے بعد لودھی کی حکومت قائم ہوئی اور پھر مغل آ گئے اور یوں قوم گرتی اور دوبارہ کھڑی ہوتی رہی۔

مصنف نے دوسری مثال جنوبی امریکہ کی مایہ تہذیب سے دی ہے۔ جس نے اپنے عروج کے زمانے میں بڑی سلطنت قائم کر لی تھی۔ لیکن جب یہ سلطنت ٹوٹی ہے تو اس کے نتیجے میں چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم ہوئیں۔ مایہ قوم کو سب سے بڑا سامنا پانی کی کمیابی سے تھا۔ جب ایک جگہ پانی ختم ہو جاتا تھا تو انہیں ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ جانا ہوتا تھا جہاں پانی دستیاب ہو۔ لیکن قوم میں اتنی توانائی تھی کہ اس نے ان دشواریوں پر بھی قابو پا لیا۔

اس تہذیب نے Zero ایجاد کیا اور تہذیبی طور پر ترقی بھی کی۔ اس نے اپنا رسم الخط ایجاد کیا، کلینڈر بنایا اور اس کا اس وقت خاتمہ ہوا جب اہل سپین نے جنوبی امریکہ پر حملہ کر کے نہ صرف مایہ بلکہ ان کا اور ازٹک تہذیبوں کا بھی خاتمہ کیا۔ بیرونی حملہ آور بھی تہذیبوں کے زوال کا باعث رہے۔

ایسٹرن آئی لینڈ جو بحر اوقیانوس میں واقع تھا، کی تباہی باعث عبرت ہے۔ جب پہلی بار یہاں کچھ سیاح گئے تو انہوں نے دیکھا کہ میدان میں بڑے بڑے مجسمے رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن پورا جزیرہ غیرآباد ہے۔ جب اس پر تحقیق کی گئی تو یہ حقائق سامنے آئے کہ ایک وقت میں یہاں جنگل تھے جس میں جانور اور پرندے بھی تھے۔ لیکن جب جزیرے کی آبادی زیادہ بڑھی تو پہلے درختوں کو کاٹ کر کھیتی کے لیے زمین ہموار کی اور درختوں کی لکڑی کو بطور ایندھن استعمال کیا۔

قدیم تاریخ میں قوموں کے ختم ہونے کی ایک وجہ یا تو خانہ جنگیاں تھیں یا حملہ آور ان کو شکست دے کر ان کا قتل عام کر دیتے تھے۔ اس کی ایک مثال Hittite  قوم کی ہے۔ وہ اشیائے کوچک میں آباد تھی۔ مصریوں اور دوسری ہمسایہ قوموں سے جنگوں کے بعد آہستہ آہستہ کمزور ہو کر ختم ہو گئی۔

آہستہ آہستہ درختوں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی اور ایک وقت وہ آیا کہ اتنی لکڑی بھی نہ تھی کہ کشتیاں بنا کر جزیرے سے چلے جائیں۔ جانور اور پرندے بھی ختم ہو گئے۔ جب کھانے پینے کی اشیا میں کمی آئی تو آپس میں لڑائی جھگڑے اور جنگیں شروع ہو گئیں اور آخر میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ انسانوں نے ایک دوسرے کو کھانا شروع کر دیا۔ جب ماہرین وہاں تک پہنچے تو انہیں لوگوں کے ڈھانچے ملے ہیں۔

قدیم تاریخ میں قوموں کے ختم ہونے کی ایک وجہ یا تو خانہ جنگیاں تھیں یا حملہ آور ان کو شکست دے کر ان کا قتل عام کر دیتے تھے۔ اس کی ایک مثال Hittite  قوم کی ہے۔ وہ اشیائے کوچک میں آباد تھی۔ مصریوں اور دوسری ہمسایہ قوموں سے جنگوں کے بعد آہستہ آہستہ کمزور ہو کر ختم ہو گئی۔

جب قومیں کمزور ہو کر بکھر جاتی ہیں تو اس کے ساتھ ہی ان کی تہذیب، کلچر، بول چال کی زبان بھی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ عام لوگ اپنی قدیم شناخت کھو کر دوسری قوموں سے مل کر نئی شناخت بناتے ہیں۔

اس کی مثالی وادی سندھ کا شہر موہنجو داڑو ہے جو آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے ویران ہو گیا اور اس کی آبادی دوسرے شہروں میں جا کر گم ہو گئی۔

چاہے تہذیبوں کا زوال ہویا ان کا اچانک کمزور ہو کر گرنا ہو اس کی قیمت عام لوگوں کو چکانا پڑتی ہے۔ جب 1857 میں مغل حکومت کا اچانک خاتمہ ہوا تو اس کی رعایا دربدر ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی مغل تہذیب کا خاتمہ ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں