111

سبطِ حسن، ترقی پسندی اور سوشلزم


سبطِ حسن کا تعلق فکر کی ترقی پسند دھارے سے تھا۔ وہ نہ ہی قدامت پسند تھے اورنہ رجعت پرست۔ رجائیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستانی معاشرہ ترقی کرکے ایک سوشلسٹ معاشرہ بنے۔ ان  کی ترقی پسندی کا تصور معاشرے کی سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی تک محدود نہیں تھا۔

تحریر: شاداب مرتضی


سماجی سطح پر معاشرے کو بہتر کرتے رہنے کی خواہش ترقی پسندی ہے۔ معاشرے کے مسائل کو حل کرکے بہتر معاشرہ قائم کرنے کی کوشش ترقی پسندی ہے۔ معاشرے کی ترقی کے عمل کو کسی ایک سطح تک محدود رکھنا ترقی پسندی نہیں ہے۔ یہ خواہش کہ معاشرہ موجودہ حالت میں برقرار رہے یا ایک مقررہ حد سے آگے ترقی نہ کرے قدامت پسندی کہلاتی ہے۔ اور یہ کوشش کہ معاشرہ تاریخی ارتقاء کے موجودہ مرحلے سے پستی کی طرف جائے اور پرانے تصورات یا نظام ہائے زندگی کو اپنائے رجعت پرستی ہے۔ 

سبطِ حسن کا تعلق فکر کی ترقی پسند دھارے سے تھا۔ وہ نہ ہی قدامت پسند تھے اورنہ رجعت پرست۔ رجائیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستانی معاشرہ ترقی کرکے ایک سوشلسٹ معاشرہ بنے۔ ان  کی ترقی پسندی کا تصور معاشرے کی سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی تک محدود نہیں تھا۔

پاکستان بننے سے پہلے وہ ہندوستان میں کمیوسٹ پارٹی آف انڈیا کے رسالوں میں ادارت اور نامہ نگارکے فرائض انجام دیتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان میں جہاں تقسیم کے عمل میں نقل مکانی کی وجہ سے کمیونسٹ پارٹی کی تنظیم کافی کمزور ہو گئی تھی، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور انجمن ترقی پسند مصنفین کی تشکیل کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ جب لیاقت علی خان کی حکومت نے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے اس پر پابندی مسلط کی تو سبطِ حسن کو کمیونسٹ پارٹی کے خلاف قائم کیے گئے راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیوروکے رکن رہے۔

 اردو زبان میں جسے ہمارے ملک میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ پڑھتے، سمجھتے اور بولتے ہیں سبط حسن نے کمیونزم، سوشل ازم، مارکس ازم جمہوریت اور سیکیولرازم کے دفاع میں متعدد تصانیف قلمبند کرکے اور سائنسی سوشلزم کے بانیان کارل مارکس اور فریڈرک اینگلزکی تحریروں کا ترجمہ کر کے اور ان  پر مضامین لکھ کرملک میں سوشلسٹ لٹریچر اور پاکستان کے سیاسی، سماجی اور تہذہبی مسائل پرسوشلسٹ نکتہ نظر کو بھر پور انداز سے متعارف کروایا اور فروغ دیا۔

 اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فیوڈل سسٹم کی باقیات، ملائیت اورعقیدہ پرستی کے مدمقابل روشن خیالی، جمہوریت پسندی اور سیکیولرازم کا مقدمہ بھی انتہائی مدلل انداز سے پیش کیا۔ ترقی پسند تحریک کوفروغ دینے کے لیے انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے رہے۔

یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ سبطِ حسن کے فکری وعملی کام پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ لوگ ان پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ سبطِ حسن اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے ان کے تعلق کی تحقیق بھی بہت ضروری ہے  اور اس جانب خاص توجہ کی ضرورت ہے۔

ملک میں سوشلسٹ فکر و عمل کو تقویت دینے کے لیے سبطِ حسن پر ہونے والی تحقیق کی عام اشاعت کو یقینی بنانا بھی اشد ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم قدم یہ ہوسکتا ہے کہ انجمن ترقی پسند مصنفین سبطِ حسن کی تصنیفات پر مشتمل ایک ویب سائٹ قائم کرکے ان کی ترویج کرے اور ان تصنیفات کی مفت یا کم قیمت پر دستیابی کو یقینی بنائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سبطِ حسن کی تحریروں سے با آسانی استفادہ کرسکیں۔

ملک میں سوشلسٹ فکر و عمل کو تقویت دینے کے لیے سبطِ حسن پر ہونے والی تحقیق کی عام اشاعت کو یقینی بنانا بھی اشد ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم قدم یہ ہوسکتا ہے کہ انجمن ترقی پسند مصنفین سبطِ حسن کی تصنیفات پر مشتمل ایک ویب سائٹ قائم کرکے ان کی ترویج کرے اور ان تصنیفات کی مفت یا کم قیمت پر دستیابی کو یقینی بنائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سبطِ حسن کی تحریروں سے با آسانی استفادہ کرسکیں۔

سبطِ حسن نے اپنی ساری زندگی پاکستانی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کی جدوجہد میں بسر کی۔ یہ جاننا اہم ہے کہ معاشرتی ترقی کے بارے میں ان کا فلسفیانہ تصور کیا تھا۔ ان کی تصنیفات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ انہوں نے معاشرتی ترقی کے جس فلسفیانہ مکتب سے اپنا رشتہ استوار کیا وہ سائنسی کمیونزم کا مکتبِہ فکر و عمل تھا۔

انہوں نے براہِ راست کمیونزم اور سوشلزم کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں وہ مشرق کے بارے میں مارکس کے خیالات پر ایک تحقیقی تصنیف قلمبند کرنے میں مصروف تھے۔

پاکستانی کی معاشرتی ترقی کے حوالے سے تین رجحانات بہت واضح ہیں۔ ایک ملائیت، دوسرا لبرل جمہوریت پسندی اور تیسرا سوشلسٹ انقلابی رجحان۔ 

ملائیت کا رجحان یہ ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسے ایسا ہی رہنا چاہیے۔ یہ اور زیادہ اسلامی تو ہو سکتی ہے لیکن جتنی اسلامی یہ اس وقت ہے اس سے اس کا  کم ہونا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہرچند کہ پاکستانی ریاست کا بالائی ڈھانچہ مذہبی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا معاشی نظام سرمایہ دارانہ نو آبادیاتی طرز پر قائم ہے۔

 تاریخی طور پر تو ملائیت اور روشن خیالی، جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے کے نمائندہ فکری رجحان رہے ہیں اور ایک دوسرے سے شدید تضاد رکھتے آئے ہیں لیکن نو آبادیاتی استعماری نظام میں ہمیں ان کا طبقاتی گٹھ جوڑ بھی اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثلا لبرل سرمایہ دار یورپی ریاستوں نے ایشیاء، افریقہ، مشرقی یورپ اور جنوبی امریکا کے نو آبادیاتی ملکوں میں مذہبی انتہا پسند قوتوں کے ساتھ اور فوجی آمریتوں کے ساتھ تعاون کیا اور آزادی کی جمہوری تحریکوں کے آگے اپنی قدامت پسندی کے بندھ باندھنے کی شرمناک کوششیں کیں۔

 یہ توہم سب جانتے ہیں کہ افغان جہاد میں امریکہ اور برطانیہ جیسی لبرل جمہوری ریاستوں نے سعودی عرب جیسی تھیوکریٹک ریاست کے ساتھ مل کر مذہبی دہشت گردوں کے ذریعے افغانستان میں منتخب سوشلسٹ جمہوری حکومت کو تہہ تیغ کیا۔ عوامی ترقی کی امنگوں کے خلاف لبرل ازم اور مذہبی انتہا پسندی کا یہ شرم ناک گٹھ جوڑ آج کل ہمیں بہت تفصیل سے شام، عراق، یمن اور یوکرین میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ملائیت کے تنگ نظر رجحان کے مد مقابل یہ جمہوری رجحان ہے کہ پاکستان کو ایک سیکیولر ریاست ہونا چاہیے۔ ریاست کے نزدیک تمام شہری برابر ہونے چاہییں خواہ ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔ پاکستان کا ایک ہندو، عیسائی اور قادیانی شہری بھی اتنا ہی پاکستانی ہے جتنا ایک مسلمان شہری۔ یہ رجحانات تھیوکریسی اور جمہوری ریاست یعنی فیوڈل نظام کی باقیات اور سرمایہ دارانہ جمہوری نظام یعنی لبرل ازم کے درمیان تضاد کو ظاہر کرتے ہیں۔

ایک سوشلسٹ مفکر کی حیثیت سے سبطِ حسن کے نزدیک تھیوکریسی کے مقابلے میں جمہوری ریاست کا قیام ترقی پسندانہ عمل تھا اس لیے انہوں نے ملائیت کے رجحان کو تاریخی تجزیے اور علمی و عقلی دلائل کی بنیاد پر رد کرتے ہوئے جمہوری ریاست کے قیام کے لیے آواز اٹھائی اور ملک میں جمہوری تحریک کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم انہوں نے جمہوری ریاست کے قیام کے اپنے مطالبے کو سیکیولرازم تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے صوبائی خود مختاری اور قومی حقوق کو بھی اس میں شامل کیا۔ جمہوری نکتہ نظر سے وہ پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر بھی دیکھتے تھے جس میں پاکستان کے تمام صوبوں اور قوموں کوخود مختاری حاصل ہو۔

تاریخی طور پر تو ملائیت اور روشن خیالی، جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے کے نمائندہ فکری رجحان رہے ہیں اور ایک دوسرے سے شدید تضاد رکھتے آئے ہیں لیکن نو آبادیاتی استعماری نظام میں ہمیں ان کا طبقاتی گٹھ جوڑ بھی اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثلا لبرل سرمایہ دار یورپی ریاستوں نے ایشیاء، افریقہ، مشرقی یورپ اور جنوبی امریکا کے نو آبادیاتی ملکوں میں مذہبی انتہا پسند قوتوں کے ساتھ اور فوجی آمریتوں کے ساتھ تعاون کیا اور آزادی کی جمہوری تحریکوں کے آگے اپنی قدامت پسندی کے بندھ باندھنے کی شرمناک کوششیں کیں۔

تاہم اس سے یہ سمجھنا درست نہ ہوگا کہ جمہوری ریاست کے قیام کے حوالے سے سبطِ حسن کا نکتہ نظر لبرل جمہوری نکتہ نظر تھا۔ یقینا پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں فیوڈل نظام کی معاشی، سماجی اور ثقافتی باقیات اب بھی موجود ہیں، لبرل جمہوری مطالبات مثلا ریاست کی مذہب سے علیحدگی، شہریوں کے مساوی حقوق، صنفی امتیاز کا خاتمہ وغیرہ اب بھی معاشرتی ترقی کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں لیکن یہ بات معلوم ہے کہ لبرل جمہوریت ان مسائل کومکمل طور پر حل کرنے سے قاصر ہےکیونکہ یہ ان مسائل کا حل سرمایہ دارانہ نظام میں دیکھتی ہے۔

اس بات کوسمجھنے کے لیے یورپ کی لبرل جمہوری ریاستوں میں شہریوں کے درمیان موجود طبقاتی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی امتیازات کی جانب دیکھا جا سکتا ہے جہاں اگرچہ فیوڈل نظام کے مقابلے میں صورتحال بہتر ہے لیکن اب تک شہریوں اورریاست کے درمیان حقیقی جمہوری رشتے استوار نہیں ہو سکے ہیں۔ آج بھی یورپ کی ترقی یافتہ سمجھی جانے والی لبرل جمہوری ریاستوں میں محنت کشوں کو ان کے وہ جمہوری حقوق حاصل نہیں ہو سکے جن کا وعدہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام نے ان سے کیا تھا۔ وہاں آج بھی خواتین کو مرد کے مساوی اجرت نہیں دی جاتی۔ نسل کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق، مذہبی اور مذہب مخالف انتہا پسندی جیسے نقصان دہ خیالات آج بھی عملی شکل میں وہاں موجود ہیں۔ جسم فروشی صنعت بن چکی ہے۔ اور چائلڈ لیبر بھی قبیح ترین صورتوں میں موجود ہے۔

امریکہ میں طالب علم سودی قرضوں کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں جبکہ برطانیہ میں تعلیمی اخراجات کے لیے طالبات جسم فروشی پر مجبور ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ کمیونسٹ بلاک کے انتشارکے بعد یورپ کی لبرل جمہوری ریاستوں نے بحالتِ مجبوری اپنے عوام کو جو مراعات و سہولیات جمہوری حقوق کے طور پر فراہم کی تھیں ان کو واپس لیا جا رہا ہے۔ حالیہ سرمایہ دارانہ بحران کے نتیجے میں اس جمہوریت سوز عمل میں تیزی آئی ہے۔

 یورپ کی سطح پر لبرل ازم ایک قدامت پرستی کی شکل اختیار کر چکا ہے جبکہ مشرقی یورپ، ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے حوالے سے اس کا کردار رجعت پرستانہ رہا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام اپنے وجود کوبرقراررکھنے کے لیے رجعت پرست سیاسی اورسماجی قوتوں کا محتاج ہو چکا ہے۔ 

چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک سوشلسٹ مفکر کی حیثیت سے سبطِ حسن کا جمہوری تصور لبرل ازم کی قدامت پسند یا رجعت پرست جمہوریت تک محدود نہیں تھا جو پاکستانی معاشرے کو یورپی لبرل جمہوریت کے ماڈل کے طور پر استوار کرنے کی خواہش رکھتا ہے بلکہ وہ سوشلسٹ جمہوریت کے خواہاں تھے جس میں جمہوریت اپنا اظہار حقیقی طور پر کرتی ہے اور ریاست کے لیے تمام شہری حقیقت میں برابر ٹہرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم کیوبا یا شمالی کوریا کی سوشلسٹ جمہوری ریاستوں کی جانب دیکھ سکتے ہیں جہاں ریاست کے تمام شہریوں کو بنیادی سہولیات جیسے تعلیم اور علاج و صحت کی سہولیات وغیرہ مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ روزگار اور رہائش کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مرد اور عورت کے درمیان اور مختلف سماجی گروہوں کے درمیان تمام امتیازات کوختم کر دیا گیا ہے۔ آج تک کسی لبرل جمہوری ریاست میں تمام شہریوں کی برابری، ترقی اورخوشحالی کے لیے ایسے اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔ اس کی وجہ سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی سماجی ہیئت کا فرق ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی معاشرے میں موجود لوگ ظالم اور مظلوم، مالک اور نوکر، کمزور اور طاقتور، ملکیتی اور غیر ملکیتی طبقوں میں تقسیم ہوں اور اس معاشرے میں ریاست تمام شہریوں سے برابری کا سلوک کرے۔ ریاست لازمی طور پر کسی ایک یا دوسرے طبقے کے مفاد کی نگہبانی پر مجبور ہوتی ہے۔

اس مختصر جائزے سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کی ترقی کے لیے حقیقی ترقی پسند رجحان یہ ہے کہ پاکستان فیوڈل نظام کی باقیات یعنی ملائیت کے رجعت پرست اور قدامت پرست اثرات سے آزاد ہو کر ایک جمہوری ریاست کی شکل اختیار کرے لیکن یہ جمہوریت لبرل سرمایہ دارانہ جمہوریت نہ ہو بلکہ سوشلسٹ جمہوریت ہو کیونکہ لبرل سرمایہ دارانہ جمہوریت حقیقی ترقی پسندانہ جمہوریت نہیں بلکہ قدامت پرست، محدود اور تنگ نظر جمہوری تصورہے جومعاشرے کو فیوڈل نظام کی تنگ حدود سے نکال کر اسے سرمایہ دارانہ نظام کی سماجی حدود میں قید کر دینا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد، دانستہ یا نادانستہ، بہرحال یہی ہے کہ معاشرہ ایک قسم کی تنگ نظری اور قدامت پرستی سے آزاد ہو کر دوسری قسم کی تنگ نظری اور قدامت پرستی میں قید ہو جائے۔ انسانی معاشرہ اور خصوصا پاکستانی معاشرہ اپنی حقیقی اور ہمہ گیر ترقی کے لیے سوشلزم کا طالب ہے۔ سوشلزم ہی ہمارے معاشرے اور اس میں بسنے والے محنت کش طبقوں، قوموں اورعورتوں کی آزادی، برابری اور خودمختاری کا راستہ ہے۔ سبطِ حسن کا راستہ بھی یہی تھا۔

نوٹ: یہ مضمون سبطِ حسن کے صد سالہ جشنِ پیدائش کے موقع پر31 دسمبر2016ء کوانجمن ترقی پسند مصنفین کی حیدرآباد ضلعی کمیٹی کی جانب سے منعقدکیے گئے پروگرام میں پڑھا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں