پولیس کی جانب سے اسپیکر  گلگت بلتستان اسمبلی کی بے توقیری قابل مذمت ہے۔ اے ڈبلیو پی


پ ر


آج گلگت بلتستان اسمبلی کو پولیس نے بند کر کے اسمبلی سپیکر نذیر ایڈووکیٹ اور دیگر اسمبلی ممبران کو اندر جانے نہیں دیا گیا۔ پولیس سے استفسار پر کہ اسے کیوں بند کر دیا گیا ہے جبکہ ہم اس کے کسٹوڈین ہیں ہم نے بند نہیں کروایا ہے؟ تو پھر پولیس کی طرف جواب ملا کہ” اپر سے آڈر ہے” یہ ایک انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک بات ہے جب اسمبلی کا اجلاس ہونا ہو تو یہ اپر کون ہیں جو اسے بند کروا دیتے ہیں؟ پھر ان اراکین اور ہاؤس کی توقیر کیا ہیں؟

عوام کے ووٹ کی حیثیت کیا ہے؟ یہ سوال علاقے کے تمام مکینوں بالخصوص ان تمام سیاسی کارکنوں سے ہیں جو زبردستی اپنے آپ کو پاکستان کا حصہ بناتے اور بنی گالا، گھڑی خدا بخش اور رائے ونڈ کو اپنا سیاسی قبلہ بنا کر ان کی چوکیداری پہ روانہ ہوتے ہیں۔

 عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنما بابا جان، شیر نادر شاہی، عقیلہ بانو، اکرام جمال، آخون بائے، آصف سخی، جلال برچہ اور دیگر رہنماؤں نے اس واقع اور روئے کی سخت مذمت کی اور تمام سیاسی کارکنوں سے اپیل کی کہ اس واقعے کے خلاف سخت احتجاج کر کے اسے "اپر والوں” کے تسلط سے آزاد کر اس کی توقیر اور اختیار قائم کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں