سید گئی جھیل 293

سید گئی جھیل


تحریر: گمنام کوہستانی


سید گئی جھیل اپر دیر میں واقع ایک خوبصورت جھیل کا نام ہے۔ اپر دیر کے علاقے عشیرئی درہ میں واقع یہ خوبصورت جھیل جتنی خوبصورت ہے اتنی گمنام بھی ہے۔

ایک مقامی دوست ارشد غفور کے مطابق سطح سمندر سے 9695 فٹ بلند اس جھیل کی لمبائی تقریبا 531 میٹر ہے۔ دشوار گذار راستہ ہونے کے وجہ سے یہاں بہت ہی کم لوگ جاتے ہیں جن میں زیادہ تر مقامی لوگ شامل ہوتے ہیں۔

 جب ہم دیر کے طرف سے کمراٹ جاتے ہیں تو خاص دیر سے نیچے ایک مقام آتا ہے جسے داروڑہ کہا جاتا ہے۔ داروڑہ میں مین روڈ کو چھوڑ کر عشیرئی درہ کے لنک روڈ پر جانا ہوگا۔ آگے عشیرئی درہ کے گمنام لیکن خوبصورت علاقے آئیں گے۔ راستے میں اگر ایک طرف گھنے جنگل دیکھنے کو ملتے ہیں تو دوسری طرف سرسبز میدان اور ہرے بھرے کھیت سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔

عشرہ درہ کے علاقے لام چھڑ تک آپ اپنی گاڑی میں آرام سے جا سکتے ہیں۔ روڈ کی حالت اگر اچھی نہیں ہے تو اتنی بری بھی نہیں ہے آپ موٹر کار وغیرہ میں بھی لام چھڑ تک آرام سے جا سکتے ہیں۔ لام چھڑ میں ایک اچھا خاصا اور مشہور آبشار گرتا ہے۔ لام گاوری زبان میں گاوں کو کہتے ہیں۔ یہ آبشار چونکہ گاؤں کے قریب واقع ہے تو اسے لام چھڑ یعنی گاؤں کے قریب چھاڑ یا اوشار کہا جاتا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چھاڑ سے چھڑ بن گیا ہے۔

پشتونوں کے یہاں آنے سے پہلے یہاں دارد النسل لوگ رہتے تھے۔ جب یہاں پشتونوں نے حملے کیے تو قدیم مقامی لوگ کوہستان دیر اور آس پاس کے دوسرے دروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ دارد النسل لوگ اگرچہ یہاں سے جانے پر مجبور ضرور ہوئے لیکن دوسرے علاقوں کے برعکس ان کے گاؤں دیہات کے نام ہنوز باقی ہے جیسے اوو شیری (عشیری) سم کوٹ، گھور کھوئی باٹل وغیرہ۔ ( یہ عشیرئی میں رہنے پشتونوں کا ہم قدیم داردی لوگوں پر احسان ہے کہ باقی علاقوں کے برعکس یہاں ان لوگوں نے دیہات وغیرہ کے نام تبدیل نہیں کیے اور قدیم ناموں کو باقی رہنے دیا)۔

لام چھڑ سے آگے سید گئی جھیل تک پیدل ٹریک ہے۔ راستہ نہ تو دشوار ہے اور نہ آسان بس کہیں چھڑائی ہے تو کہیں سیدھا ہموار راستہ۔ لام چھڑ سے آگے بانال (موسم گرما کی چراگاہیں) تک تقریبا پانچ سے چھ گھنٹوں کا راستہ ہے۔ راستے میں کہیں دیودار کے گھنے جنگل ہیں تو کہیں سرسبز وسیع میدان۔ بانال سے ٹاپ تک یعنی جہاں جھیل واقع ہے تقریبا دو گھنٹوں کا پیدل ٹریک ہے۔ لام چھڑ یعنی جہاں تک گاڑی جا سکتی ہے وہاں سے جھیل تک سات سے آٹھ گھنٹوں کا پیدل راستہ ہے۔

یہ ایک خوبصورت اور بڑی جھیل ہے جس کے اطراف میں برف پوش پہاڑ کھڑے ہیں جن کے اوپر اگست تک برف پڑی رہتی ہے۔ یہاں نہ تو ہوٹل ہے اور نہ کھانے پینے کی چیزیں دستیاب ہیں اس لئے اپنے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں اور ٹینٹ وغیرہ لے کر جانا نہیں بھولنا۔

بانال ہے تو عشیرئی درہ کے لوگوں کے لیکن یہاں زیادہ تر سوات کے لوگ رہتے ہیں جہاں سے آپ کو ایمرجنسی کے صورت میں بھر پور مدد مل سکتی ہے۔ اس جھیل کے ایک طرف دیر اور دوسرے طرف سوات مٹہ کے علاقے واقع ہے۔ سوات کے بعض دوست اسے سوات کا حصہ سمجھتے ہیں لیکم درحقیقت یہ دیر کے علاقے میں ہے۔ یہاں موسم گرما میں سوات کے لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ آتے ہیں لیکن وہ مقامی لوگوں کو قلنگ ( ٹیکس) دیتے ہیں۔

اس جھیل کا ایک راستہ  سوات مٹہ سے بھی ہو کر جاتا ہے اور جہاں تک مجھے معلوم ہے مٹہ سے تین چار گھنٹوں کا پیدل راستہ ہے یعنی سوات کے طرف سے آپ آسانی سے یہاں جا سکتے ہیں۔

 لام چھڑ میں آپ اپنی گاڑی کسی بھی مقامی  گھر کے سامنے بے فکر ہوکر کھڑی کر سکتے ہیں۔ مقامی لوگ پشتو زبان بولتے ہیں اور انتہائی پر امن اور مہمان نواز لوگ ہیں جو مہمانوں کی خدمت اپنی بساط سے بڑھ کر کرتے ہیں۔

 سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اس لئے آپ کہیں بھی کسی بھی وقت جا سکتے ہیں کسی پر بھی کہیں آنے جانے پر پابندی نہیں ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں کسی بھی مقامی کے گھر پر دستک دیجئے وہاں سے آپ کو بھر پور مدد ملی گی۔

مصنف کے بارے میں

عمران خان آزاد المعروف گمنام کوہستانی کا تعلق اپر دیر کے علاقے سے ہیں آپ بنیادی طور پر مورخ، محقق اور سماجی کارکن ہے۔ آپ کی دلچسپی کے موضوعات میں دردستان کی قدیم تاریخ و ثقافت، کالونائزیشن اور اس کے تباہ کن اثرات ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سماجی موضوعات پر بھی قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں