152

وزیر اعلی گلگت بلتستان کا انتخاب! پس پردہ سازشیں


تحریر: صفی اللہ بیگ


پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور اس کے کنٹرولڈ پاکستان کی بڑی پارٹیاں یعنی پیپلز پارٹی۔ مسلم لیگ ن،JUI  اور PTI کے حمایت سے منتخب وزیراعلی کی ایوان میں منتخب ہونے کے بعد کی لکھی ہوئی تقریر دلچسپ تھی اور اسکرپٹ کے عین مطابق۔ اسکرپٹ سےلگ رہا ہےکہ  ناسازی طبیعت کےباوجودطاقت ور حلقوں نےکٹھ پتلی اسمبلی سےبندوق کےنوک پرپاکستان کے بڑی پارٹیوں کےحمایت سے جناب گلبر خان کو وزیراعلی بنایا تاکہ وہ اور گورنر مہدی شاہ سرکاری خرچ پر اپنے علاج کے لیے جدید اور مہنگے ہسپتالوں میں شان وشوکت کے ساتھ مصروف رہیں اور مفت میں معیاری علاج حاصل کرسکیں۔

 دوسری طرف معاشی بدحالی کا شکار پاکستان کے طاقت ور حلقے اور اپنے مرضی کے قوانین بنا کرGB کے بیش بہاہ وسائل پر اپنی روایت کے مطابق مکمل قبضہ کریں۔

  فرقہ وارنہ کشت و خون کی دھمکی دینے کی وجوہات بھی قابل فہم ہیں۔ پہلا عوامی ایکشن کمیٹی کی گندم ٹیکس بجلی کے خلاف بھرپور جدوجہد اور عوام کا مسلسل احتجاج کو مقامی سیاسی و مذہبی سہولت کاروں کے ذریعے فرقہ ورانہ جنگ کی دھمکی کے ذریعے توڑا جائے اور دوسرا مقامی PPP اور PPP کے لیڈروں اور ارکان اسمبلی کو عوام میں منہ چھپانے کا موقع دیا جائے۔ جس کا اظہار PPP کے جمہوریت پسند ممبر اسمبلی غلام شہزاد آغا کی وضاحت سے ہوتی ہے۔

 گلگت بلتستان کے ترقی پسند اور عوام دوست کارکنوں کو پاکستان کے حکمران اشرافیہ اور اسمبلی میں موجود تمام اراکین ماسوائے نواز خان ناجی کے اس سہولت کاری، فرقہ واریت کا گھناونہ کھیل اور وسائل بیچنے کے منصوبے کو بے نقاب کریں اور ایک خومختار آئین ساز اسمبلی، خومختار عدلیہ اور بااختیا مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے عوام کو متحد کرکے جدوجہد کو تیز کریں۔

مصنف کے بارے میں:

صفی اللہ بیگ ایک سیاسی و سماجی کارکن اور ماحولیات و تقافت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ بام جہاں کے لئے ریگولر بنیادوں پر کالم لکھتے اور تجزے کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں