61

عسکری زرعی انقلاب! چند قابل غور سوالات


تحریر: جنید مالک


شہباز شریف کے مطابق زرعی انقلاب کا آئیڈیا آرمی چیف کا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ پچیس سال سے سیاستدانوں کو زراعت کے شعبے میں جدت لانے کا خیال کیوں نہیں آیا؟ یہ مینڈیٹ سیاستدانوں کا ہے یا فوج کا؟

فوج کی طرف سے زرعی شعبے میں اصلاحات کی تجویز حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان کن بھی ہے۔ حیران کن اس لئے کیونکہ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور فوجیوں کو جنگ لڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اب جنگی تربیت حاصل کرنے والے اگر زرعی اصلاحات کی منصوبہ بندی کرنے لگیں تو سمجھ بوجھ رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے یہ بات حیرت کا باعث تو ہو گی ہی۔ پریشان کن اس لئے کہ اس ملک کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین پہلے ہی فوج کے استعمال میں ہے۔ لیکن اس زمین سے فوج کسی بھی قسم کا زرعی انقلاب لانے میں ناکام رہی ہے۔ بلکہ الٹا زرخیز زمینوں پر ہاوسنگ سوسائٹیاں، گالف کلبز، گھوڑوں کے فارم وغیرہ بنا کر انہیں برباد کرتی رہی ہے۔ اور اب اس نئے زرعی انقلاب کے چکر میں فوج ریاست کی چالیس لاکھ ایکڑ زمین پر نظریں جما چکی ہے۔

برسر اقتدار مفاد پرستوں کے ٹولے کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ملک کی تمام اراضی پر فوجی جرنیلوں کا قبضہ ہو جائے۔ لیکن شعور رکھنے والے بلڈی سویلینز کے ذہنوں میں بہرحال تشویش اور بے یقینی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ فوج جس زمین پر ملکیت کا دعوی کرتی ہے وہ زمین ریٹائر ہونے والے افسران کو دے دی جاتی ہے یا پھر اشرافیہ کو بیچ دی جاتی ہے۔

اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ زرعی انقلاب کے نام پر لی گئی زمین ریٹائرڈ افسران یا بااثر افراد کو نہیں دی جائے گی؟ کیا گارنٹی ہے کہ اس زمین پر ہاوسنگ سوسائٹیاں، فارم ہاوسز، گالف کلبز، شکارگاہیں نہیں بنیں گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عارضی بنیاد پر بننے والی اور محض ایک مہینے کی مہمان حکومت کس حیثیت سے ملک کی تمام زمین فوج کے حوالے کر رہی ہے؟ اور فوج کے پاس زراعت کے شعبے کو جدید بنانے کا کیا تجربہ ہے؟ کیا یہ فوج کی تربیت یا فرائض کا حصہ ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں