146

گلگت بلتستان سیاسی جوڑ توڑ! ایک جائزہ  


پی ٹی آئی گلگت بلتستان کو ایک بڑا دھکچہ اس وقت لگا جب ایکسپریس ٹریبیون نے 5 اپریل 2022ء کو یہ خبر شائع کی کہ خالد خورشید نے جس قانون کی ڈگری پر کورٹ میں پریکٹس کے لئے لائسنس لیا تھا اور جس ڈگری کے سہارے انہوں نے الیکشن لڑا تھا وہ جعلی ہے

رپورٹ: کریم اللہ


15 نومبر 2020ء کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے 24 حلقوں میں انتخابات کا انعقاد ہوا ان  24 حلقوں میں  سے پی ٹی آئی کو دس، پیپلز پارٹی کو تین، ایم ڈبلیو ایم ایک، ن لیگ دو، بی این ایف ایک اور چھ  آزاد امیدوار کامیاب ہو گئے۔

یہ آزاد امیدوار پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا جس سے پی ٹی آئی کے اراکین کی تعداد سولہ ہوگئی اور مخصوص نشستوں کی تقسیم ان سولہ اراکین کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی۔ اس حساب سے پاکستان تحریک انصاف کو خواتین کی چار نشستیں اور دو ٹیکنوکریٹ، پیپلز پارٹی کو ایک خاتون اور ایک ٹیکنوکریٹ، مسلم لیگ ن کو ایک خاتون سیٹ ملی۔

پی ٹی کے سولہ اراکین کے ساتھ چھ مخصوص نشستیں ملنے سے ان کے اراکین کی تعداد 22 ہو گئی جبکہ متحدہ مجلس المسلین کے اکیلے رکن نے بھی پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا یوں استور سے پی ٹی آئی کے ممبر قانون ساز اسمبلی خالد خورشید 30  نومبر 2020 کو بھاری اکثریت سے وزیر اعلی منتخب ہو گئے۔

خالد خورشید کی قیادت میں پی ٹی آئی کی حکومت چل رہی تھی کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی سے قبل ہی پی ٹی آئی گلگت بلتستان کو ایک بڑا دھکچہ اس وقت لگا جب ایکسپریس ٹریبیون نے 5 اپریل 2022ء کو یہ خبر شائع کی کہ خالد خورشید نے جس قانون کی ڈگری پر کورٹ میں پریکٹس کے لئے لائسنس لیا تھا اور جس ڈگری کے سہارے انہوں نے الیکشن لڑا تھا وہ جعلی ہے ان کے لندن یونیورسٹی سے حاصل شدہ ڈگری جعلی جکلی۔ یہ پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے لئے بہت بڑا دھچکہ تھا اور یہ خبر آتے ہی اپوزیشن رہنما امجد حسین ایڈوکیٹ نے خالد خورشید کی نااہلی کے لئے عدالت اور میڈیا میں بھر پور کمپین لاؤنچ کیا اور اسی کیس کو ایک سال تک کورٹ میں انہوں نے خود لڑا جبکہ میڈیا کے اندر بھی اس کیس کو بھر پور انداز سے پیش کیا گیا۔

تفصیلات اس لنک میں :وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کے قانون کی ڈگری جعلی نکلی

طویل قانونی ماشگافیوں کے بعد 4 جولائی 2023ء کو وزیر اعلی خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہوگئے۔ یوں وہ وزارت اعلی کے ساتھ ساتھ اپنی نشست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔

تفصیلات اس لنک پر: وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل

یہ بھی پڑھئے: کیا گلگت بلتستان حکومت  ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔؟

اس کے بعد گلگت بلتستان میں سیاسی جوڑ توڑ اور ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ پی ٹی آئی دو سے تین گروپوں میں منقسم ہو گئی ان میں سے دو مضبوط منحرف گروپ سامنے آگئے ان میں سے ایک فارورڈ بلاگ اور دوسرا ہم خیال گروپ بن گئے۔ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر  13 جولائی 2023ء کو دیامیر سے منتخب قانون ساز اسمبلی حاجی گلبر خان کو  وزیر اعلی بنا دیا گیا۔ جبکہ پی ٹی آئی ہم خیال گروپ نے اس انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر ایوان میں موجود  20 میں سے 19 ارکان نے حاجی گلبر خان کو ووٹ دیا۔

اس سے قبل بھی گلگت بلتستان اسمبلی میں اس وقت ڈرامائی صورت حال پیدا ہو گئی تھی جب پی ٹی آئی کے اپنے ڈپٹی اسپیکر نزیر احمد ایڈوکیٹ نے اپنے ہی پارٹی کے اسپیکر امجد زیدی کے خلاف عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہوئے تھے جس میں پی ٹی  آئی کے وزیر اعلی خالد خورشید سمیت متعدد اراکین کی انہیں حمایت حاصل تھی اور اس کے بعد وہ بلامقابلہ اسپیکر منتخب  ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

جبکہ اب پی ٹی آئی کے اپنے اراکین ہی ٹوٹ پھوٹ کر دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔

درحقیقت 2020ء کے انتخابات کے بعد جس انداز سے چون چون کا مربہ بنا کے گلگت بلتستان کی حکومت بنائی گئی تھی اسی کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔

مصنف کے بارے میں :

کریم اللہ  عرصہ پندرہ سالوں سے صحافت سے شعبے سے منسلک ہے اس کے علاوہ وہ کالم نویس، وی لاگر اور وڈیو جرنلزم کر رہے ہیں۔

چترال اور گلگت بلتستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل و مشکلات اور روزمرہ کے واقعات پر لکھتے ہیں۔ جبکہ وہ بام دنیا کے ایڈیٹر ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں