122

گلگت بلتستان میں ذہنی صحت سے متعلق اعلامیہ


ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان جی بی کے اہم اجلاس میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی منشور و معاہدوں، آئین پاکستان اور پاکستان کے مروجہ قوانین کی روشنی میں ذہنی صحت کو ایک اہم انسانی حق قرار دیا گیا اور اس حق کے تحفظ کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل جل کر کوششیں تیز کرنے اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لانے کا اعادہ کیا گیا۔

تحریر: اسرار الدین اسرار


گلگت بلتستان میں ذہنی صحت جیسے اہم بنیادی انسانی حق کے تحفظ کے سلسلے میں ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے زیر اہتمام سٹیک ہولڈرز کا ایک مشاورتی اجلاس مقامی ہوٹل میں مورخہ 22    جولائی 2023ء  کو منعقد ہوا جس میں محققین، سماجی کارکنوں، سرکاری و غیر سرکاری محکموں اور گلگت بلتستان میں ذہنی صحت پر کام کرنے والے مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی منشور و معاہدوں ، آئین پاکستان اور پاکستان کے مروجہ قوانین کی روشنی میں ذہنی صحت کو ایک اہم انسانی حق قرار دیا گیا اور اس حق کے تحفظ کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل جل کر کوششیں تیز کرنے اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لانے کا اعادہ کیا گیا۔

اجلاس میں قرار دیا گیا کہ گلگت بلتستان میں گھریلو تشدد، خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے تشدد و ناانصافیوں، سکولوں میں ہونے والے تشدد، جرائم، منشیات کا استعمال اور خودکشیوں سمیت کئی سماجی مسائل کے پس پردہ دیگر عوامل کے ساتھ ذہنی بیماریوں کا ایک بڑا عمل دخل ہے۔ اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ذہنی صحت جیسے اہم شعبے کی طرف پورے پاکستان بشمول گلگت بلتستان کے کھبی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے اعداد و شمار کے مطابق آبادی کا ایک بڑا حصہ ذہنی بیماریوں، ذہنی دباؤ، انگزائٹی سمیت دیگر امراض کا شکار ہے۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ذہنی امراض کے علاج پر مکمل توجہ دئیے بے غیر ایک پرامن، خوشحال، محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ ذہنی بیمار معاشرے کھبی بھی ترقی نہیں کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں اس امر سےآگاہ کیا گیا کہ کوڈ 19، حالیہ مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری سمیت معاشی و سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ذہنی امراض میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اجلاس میں اتفاق رائے سے مندرجہ ذیل اعلامیہ منظور کیا گیا۔

1۔ گلگت بلتستان میں ذہنی صحت سے متعلق ایمرجنسی نافذ کر کے بڑھتے ہوئے ذہنی امراض کو ایک اہم اور حل طلب مسئلہ قرار دیا جائے۔

2۔ گلگت بلتستان  میں مقامی ریسرچرز، ماہرین اور سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ذہنی صحت  کے امور کی بہتری کے لئے باضابطہ قانون اور جامع پالیسی بنائی جائے کیونکہ پنجاب اور سندھ میں اس حوالے سے پہلے ہی قانون سازی ہوچکی ہے۔

3۔ یہ کہ ذہنی صحت کو جسمانی صحت کے مساوی اہمیت دے کر اس کے لئے فوری طور پر تمام تر دستیاب انسانی و مالی وسائل فرا ہم کئے جائیں ۔

4۔ تحصیل سطح پر ذہنی صحت کی آگاہی سے متعلق کمیونٹی سپورٹ سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ نیز ذہنی صحت کے تمام پروگراموں میں مقامی لوگوں کو شامل کیا جائے تاکہ ذہنی صحت کے تمام پروگراموں  کو پائیدار اور خالصتا مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ مقامی سطح پر یوتھ کونسلرز کو تعینات کیا جائے اور پہلے سے موجود یوتھ یا عام کونسلرز کو ایک مربوط پروگرام کے ماتحت لایا جائے۔

5۔ غیر مقامی این جی اوز یا اداروں کے افراد کو بے غیر این او سی اور ذہنی صحت سے متعلق خاص مہارت کے ذہنی صحت پر کام کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ یہ ایک حساس نوعیت کا کام ہے جس میں مقامی حساسیت کو پیش نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔

6۔ گلگت بلتستان میں ذہنی امراض کے علاج کے لئے ایک جدید اور مکمل الگ ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جس میں جدید سہولیات موجود ہوں۔

7۔ ذہنی  صحت سے متعلق آگاہی کے لئے عبادت گاہوں اور کمیونٹی لیول پر ہنگامی بنیادوں پر آگاہی پروگرام منعقد کئے جائیں۔ جن میں ذہنی صحت سے متعلق توہمات اور خرافات کے تدارک کے لئے سائنسی نکات  شامل کئے جائیں۔

8۔ گلگت بلتستان کے تمام تعلیمی اداروں  اور تھانوں میں ایک ایک سائیکالوجسٹ اور ہسپتالوں  میں ایک ایک سائیکاٹرسٹ اور سائیکالوجسٹ  کی تعیناتی فوری طور پر عمل میں لائی جائے اور  ضلعی سطح پر ذہنی امراض کے شکار افراد کے لئے جدید وارڈز بنائے جائیں۔

10۔ تعلیمی اداروں، اساتذہ کی تربیت گاہوں، ہیلتھ ورکرز اور پولیس کی ٹریننگ میں لائف سکلز، ذہنی صحت اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی افادیت و اہمیت سے متعلق کورسسز شامل کئے جائیں۔

11۔ ذہنی معذوری کے شکار افراد کے لئے وظیفہ کا اجراء کرنے  کے علاوہ ان کی دیکھ بھال اور بحالی کے لئے ایک بڑے سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔

12۔ گلگت بلتستان میں  ذہنی صحت سے متعلق کام کرنے والے تمام سرکاری و غیر سرکاری محکموں پر مشتمل ورکنگ گروپ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جس میں ریسرچرز، ماہرین، سماجی ورکرز، انسانی حقوق کے کارکن اور ذہنی صحت پر کام کرنے والے اداروں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ آئندہ ذہنی صحت کے ہر پروگرام کونتیجہ خیز بنانے کے لئے اس ورکنگ گروپ کی مشاورت کو اولیت دی  جاسکے۔ نیز اس ورکنگ گروپ کی مدد سے ذہنی صحت پر کام کرنے والے تمام محکموں اور اداروں کو ایک دوسرے کے کام سے واقفیت اور ایک چھتری تلے ذہنی صحت کے مربوط پروگرامز ترتیب دینےکا موقع ملے گا۔

13۔ ذہنی صحت پر کام کرنے والے محکموں ، افراد اور این جی اوز اور میڈیا کے لئے کوڈ آف کنڈیکٹ بنایا جائے اور اس پر سختی سے عملدر آمد کرایا جائے۔

14۔ مقامی سطح پر ذہنی صحت سے متعلق امور پر تحقیق کے عمل کو فروغ دیا جائے۔ نیز پہلے سے گلگت بلتستان میں خودکشیوں اور ذہنی امراض اور ان سے منسلک جن جن موضوعات پر تحقیقی کام کیا گیا ہے اس کو ایک جگہ جمع کر کے اس سے استفادہ حاصل کیا جائے۔

15۔ ذہنی صحت سے متعلق خرافات اور توہم پرستی کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر دینی علماء، کمیونٹی لیڈرز، اساتذہ اور ہیلتھ ورکرز کی مدد سے مہم چلائی جائے۔

16۔ افراد باہم معذوری کے لئے اسپشل ایجوکیشن کمپلیکس ناکافی ہے اس لئے ان کے اعلی تعلیم کے لئے ضلعی سطح پر اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ نیز خاص طور سے ذہنی معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک جامع پالیسی بنا کر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

17۔ منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لئے فوری طور پر ٹریٹمنٹ اور بحالی سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔

مصنف کے بارے میں :

اسرار الدین اسرار انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے کا نمائندہ ہے۔ اسرار بام جہان کے ریگولر لکھاری ہے ان کی دلچسپی کے موضات سماجی مسائل، گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں