مارکسزم، مذہب اور کلچر


تاریخ ہمیں کسی مخصوص صورت حال میں سماجی تعلقات، ریاستی ڈھانچے، جغرافیائی سیاست، ثقافتی اظہار اور سیاسی تنازعات کا سخت احساس دلاتی ہے۔ تھیوری کا عمل (Practice)  کیا ہے؟  کسی ٹھوس صورت حال کو سمجھنے کے لیے تھیوری کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اسے تبدیل کیا جاسکے۔ دوسرے لفظوں میں مارکسزم استحصال زدہ طبقات کے نقطہ نظر سے دنیا کو بدلنے کا عمل ہے۔ یہ کام روشن خیالی (Enlightenment) کے دور کے فلسفیوں سے بہت مختلف ہے جن کا خیال تھا کہ انفرادی تفکّر اور غور و فکر انسان کو عقل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، مارکسزم پورے معاشرے کو بدلنے کی بات کرتا ہے، ایک ایسا اجتماعی عمل جس میں عوام بیک وقت فلسفیوں کے طالب علم اور اساتذہ دونوں ہوتے ہیں، کیونکہ یہ عوام ہیں نہ کہ عظیم شخصیات جو تاریخ بناتے ہیں۔

تحریر: عمار علی جان


آج جب میں نے ہماری سیاسی کیمپین کا ایک پوسٹر سوشل میڈیا پر شئیر کیا جس میں امام حسین (ع) کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا، اس کے بعد بائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے اس پر زبردست بحث شروع ہوگئی۔ دراصل وہ پوسٹر ہمارے حلقے کے ایک محنت کش ساتھی نے بنایا تھا اور مجھے درخواست کی تھی کہ میں اسے اپنی فیس بک وال پر لگا دوں۔ میرے لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کہ کچھ عناصر نے بغیر کسی سیاق و سباق اس پوسٹ کو غداری کی علامت سمجھ کر حملے کرنا شروع کر دئیے۔ ان کی یہی لاعلمی پاکستانی مارکسزم میں بدنیتی اور غیر سنجیدگی کی علامت ہے، جو کہ عوامی ثقافت (Mass culture) اور مقبول سیاست (Popular Politics) سے شدید بیگانگی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

اس بحث کے آغاز کی دو مختلف سطحیں ہیں جن پر مارکسزم کام کرتا ہے یعنی نظریاتی (Theoretical)  اور تاریخی  (Historical)۔  جدلیاتی مادیت (Dialectical Materialism)  میں تھیوری ہمیں معاشرے کو اس کے تضادات تلاش کرنے کا طریقہ فراہم کرتی ہے، خاص طور پر طبقاتی جدوجہد جو کہ انسانیت کی ترقی کے لیے محرک ہے۔ تاریخ ہمیں کسی مخصوص صورت حال میں سماجی تعلقات، ریاستی ڈھانچے، جغرافیائی سیاست، ثقافتی اظہار اور سیاسی تنازعات کا سخت احساس دلاتی ہے۔ تھیوری کا عمل (Practice)  کیا ہے؟  کسی ٹھوس صورت حال کو سمجھنے کے لیے تھیوری کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اسے تبدیل کیا جاسکے۔ دوسرے لفظوں میں مارکسزم استحصال زدہ طبقات کے نقطہ نظر سے دنیا کو بدلنے کا عمل ہے۔ یہ کام روشن خیالی (Enlightenment) کے دور کے فلسفیوں سے بہت مختلف ہے جن کا خیال تھا کہ انفرادی تفکّر اور غور و فکر انسان کو عقل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، مارکسزم پورے معاشرے کو بدلنے کی بات کرتا ہے، ایک ایسا اجتماعی عمل جس میں عوام بیک وقت فلسفیوں کے طالب علم اور اساتذہ دونوں ہوتے ہیں، کیونکہ یہ عوام ہیں نہ کہ عظیم شخصیات جو تاریخ بناتے ہیں۔ چنانچہ عوامی شعور سے جڑے بغیر، "انقلابی طبقہ” 19 ویں صدی کے ان لبرل مفکرین سے بہتر نہیں جو عوام کو بے وقوف اور غیر معقول قرار دیتے ہوئے اپنی "روشن خیالی” کے بارے میں متکبر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سوشلسٹ مفکرین کی ایک بڑی تعداد نے مارکسزم کی ایک ایسی پریکٹس تیار کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جو عوام کے تاریخی شعور سے بات کرتی ہے۔ عوامی کلچر کو سمجھنے کے سب سے اہم حامیوں میں سے ایک اطالوی مفکر انتونیو گرامچی تھا۔ مسولینی کی فاشسٹ حکومت کی قید کے دوران لکھتے ہوئے اس نے مارکسسٹوں سے استدعا کی کہ وہ اطالوی تاریخ کے اندر اجتماعی ثقافت یعنی ماس کلچر (Mass Culture) اور تاریخی تفصیلات پر توجہ دیں۔ اس کا نظریہ تسلط/ تھیوری آف ہیجمانی ( Theory of Hegemony)  سماجی/ثقافتی طریقوں کی ایک وسیع رینج کو سمجھنے کا اصول تھا جسے بائیں بازو نے نظر انداز کر دیا جس میں اسکول، گرجا گھر، اسپورٹس کلب، ثقافتی تہوار وغیرہ شامل ہیں۔ ثقافت, طبقاتی جدوجہد کا ایک اہم عنصر تھا جس سے جڑے بغیر بایاں بازو فاشسٹ اور بنیاد پرست سے باآسانی  شکست کھا جاتا تھا۔

گرامچی کے نظریات پہلے سے ہی پوری دنیا کی انقلابی تحریکوں میں رائج تھے۔ لینن کے سوویت یونین میں ریاست نے وسطی ایشیا کے مسلمانوں کے ساتھ ایک وسیع رشتہ استوار کیا، انہیں مذہبی آزادی، شرعی عدالتیں، اور بالشویک انقلاب کو مسلمانوں کے مذہبی طریقوں کا محافظ قرار دیا۔ سوویت وسطی ایشیا میں رہنے والے مولوی برکت اللہ اور شوکت عثمانی جیسے ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے تفصیلی مضامین لکھے ہیں کہ کس طرح وسطی ایشیا میں جاگیرداری کو شکست دینے کے لیے اسلام اور مارکسزم دونوں کو بیک وقت استعمال کیا گیا۔ اسی طرح 1920 میں باکو کانفرنس میں سوویت یونین نے برطانوی استعمار کے خلاف مسلمانوں کے ’’جہاد‘‘ کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ "اسلامی سوشلزم” نہیں تھا بلکہ ایک ایسی لغت تیار کرنے کی کوشش تھی جس میں استعمار اور جاگیرداری کے خلاف بغاوت کا اظہار مسلم دنیا کی مقبول زبان میں کیا جا سکے۔ گویا 1920 کی دہائی میں مرکزی ایشیا میں مارکسزم کی مقبول پریکٹس ایک ٹھوس تاریخ کے ساتھ ساتھ تھیوری کا امتزاج تھا۔

یہ طریقہ کمیونسٹ تحریک کی پوری تاریخ میں دہرایا گیا۔ مثال کے طور پر، ماؤ نے چینی انقلاب میں تاؤ ازم (Taoism ) کا قدیم فلسفہ استعمال کیا جس طرح ڈینگ ژیاؤپنگ نے کنفیوشس (Confucius) کا فلسفہ استعمال کیا۔ ان میں نہ ہی کوئی تاؤسٹ تھا اور نہ ہی کنفیوشس، لیکن انہوں نے اپنی بحث کو عوام کے سامنے واضح کرنے کے لیے مقامی طور پر جڑی ہوئی زبان کا استعمال کیا۔ اسی طرح ویتنام میں ویت کونگ (مسلح کمیونسٹ تنظیم) بدھ مت کے ساتھ اتحاد میں تھی جب ملک پر امریکی قبضے کے دوران بدھ مت ویتنام کے کسانوں کا سب سے طاقتور ثقافتی اظہار تھا۔ انہوں نے اپنی حساسیت کو ٹھیس پہنچانے کے بجائے فیصلہ کیا کہ آزادی کی جنگ جیتنے کے لیے انہیں عوامی شعور سے جڑنا ہوگا، خاص طور پر اس میں موجود ان عناصر کے ساتھ جو نظام کے خلاف بغاوت کے مارکسی نظریہ کے قریب ہیں۔

سوشلسٹ مفکرین کی ایک بڑی تعداد نے مارکسزم کی ایک ایسی پریکٹس تیار کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جو عوام کے تاریخی شعور سے بات کرتی ہے۔ عوامی کلچر کو سمجھنے کے سب سے اہم حامیوں میں سے ایک اطالوی مفکر انتونیو گرامچی تھا۔

ہم پورے لاطینی امریکہ میں بھی اس طرح کے رجحانات دیکھتے ہیں جہاں مارکسی عمل کی رہنمائی میں آزادی الہیات کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ نکاراگوا میں سینڈینسٹاس نے اپنی طاقت مارکسزم اور عیسائیت کے امتزاج سے حاصل کی، یہ نظریہ لبریشن تھیولوجی (Liberation Theology) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح ہیوگو شاویز نے ہمیشہ کہا کہ اس کا انصاف کا احساس مارکس سے نہیں بلکہ مسیح اور سائمن بولیور سے ہے، یعنی مذہب اور حب الوطنی سے۔ لیکن شاویز عالمی سوشلزم کی تعمیر نو میں ان سینکڑوں چھوٹے ٹراٹسکائی گروپوں کے مقابلے میں زیادہ بااثر ثابت ہوئے جو صرف سٹالنزم کے نقصانات پر بحث کر سکتے ہیں لیکن دنیا کو تبدیل کرنے میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کی مزید مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں لیکن ابھی کے لیے یہی کافی ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا لیفٹ کیوں ہے جسے ثقافتی اظہار (Cultural Expressions)  سے ٹھیس پہنچتی ہے۔  وہ روس، چین اور لاطینی امریکہ کی مثالیں دیتے ہیں جہاں مذہبی یا قبل از انقلاب ثقافتی اظہار وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا۔ پھر ان کا اپنا عمل ان ممالک میں ٹھوس جدوجہد/پالیسیوں سے انتہائی مختلف کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں بائیں بازو کو اس کے ابتدائی سالوں میں ہی ناکام بنا دیا گیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ اس معاشرے میں لیفٹ کا رجحان کبھی بھی بڑے پیمانے پر نہیں بن سکا، یعنی بائیں بازو کی سیاست اس ملک میں کبھی سیاسی قوت نہیں بن سکی۔ خالص مارکسی سیاست (Politics of Purity)  اس کی پسپائی کا باعث بنی یعنی مارکسی نظریہ کے لیے ہر ممکن حد تک خالص رہنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قدرتی طور پر کوئی بھی حقیقی سیاسی عمل تھیوری اور اس کے کھرے پن کو بدل دے گا۔ لینن کا انقلاب ایسا کچھ بھی نہیں تھا جیسا کہ مارکس نے سوچا تھا، نہ چینی انقلاب روسی انقلاب جیسا تھا اور نہ ہی بولیورین انقلاب (شاویز) چین جیسا تھا، وغیرہ۔ پریکٹس ہمیشہ تھیوری کو اس میں مخصوص تاریخ کے عناصر حاصل کرکے تبدیل کرتی ہے، ایسے عناصر جو خالص تھیوری پر اثر انداز نہیں ہوتے۔

پاکستانی بائیں بازو کے کچھ طبقے اس منطق میں پھنسے ہوئے ہیں کہ اگر حقیقت تھیوری سے مطابقت نہیں رکھتی تو حقیقت کے لیے برا ہے، ہم تو تھیوری پر ہی قائم رہیں گے۔ جب ان کی چھوٹی سی نظریاتی یا تھیوریٹیکل دنیا کو کوئی پریشان کرتا ہے تو وہاں سے ان کے اپنے ساتھیوں کے صفائے یا چھانٹیوں کا عمل شروع ہو جاتا ہے خاص طور پر جب وہ 100 سے زیادہ اراکین تک پہنچ جاتے ہیں۔ بائیں بازو کی کچھ تنظیموں میں حالیہ ٹوٹ پھوٹ اس خالص پن کی سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ معروف فلاسفر ہیگل نے اسے "خوبصورت روح”  کہا، ایک ایسی روح جو اپنی پاکیزگی کھونے سے اتنی خوفزدہ ہے کہ وہ معاشرے میں داخل ہونے سے انکار کر دیتی ہے اور اس طرح معاشرے میں غیر متعلقہ ہو کر رہ جاتی ہے۔

بائیں بازو کی سیاست کے اس برانڈ کے چند نام ہیں۔ "اکیڈمک مارکسزم” (Academic Marxism )      جو تھیوری پر قائم رہتا ہے لیکن حقیقت سے کٹ جاتا ہے۔ کوئی اسے "جمالیاتی مارکسزم” (Aesthetic Marxism) بھی کہہ سکتا ہے جس میں معاشرے کی ثقافتی تنقید عوام کے ساتھ سیاسی تعلق کو توڑ دیتی ہے، ایک ایسی شکل جس میں ایک انقلابی، سعادت حسن منٹو میں تبدیل ہو جائے (منٹو ایک عظیم ثقافتی نقاد تھے، لیکن وہ کوئی سیاسی منتظم نہیں تھے)۔ جبکہ کوئی اسے "تماشائی مارکسز” (Spectatorial Marxism)  کہہ سکتا ہے جس میں انقلابی ہر چیز کے "بنیاد پرست نقاد” بن جاتے ہیں، اور ان کے درمیان اس بات پر مقابلہ (اور تقسیم) ہوتی ہے کہ کسی مخصوص صورت حال پر کون زیادہ بنیاد پرست پوزیشن لیتا ہے۔ اس کے باوجود ان میں سے وہ پوزیشن کوئی بھی عوام میں منتقل نہیں کرتا جنہیں ان کے وجود کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ چنانچہ ‘مارکسسٹ’ تاریخ میں تماشائی بن جاتے ہیں، اس امید پر کہ ایک سیاسی حکومت کا زوال عوام کو ان کی طرف لے جائے گا، لیکن آخر میں وہ عوام سے مایوس ہوجاتے ہیں جو انہیں بار بار نظر انداز کردیتے ہیں۔

تاہم، یہ پاکستانی بائیں بازو کا مقدر نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ معاشرے کے حاشیے پر رہیں۔ ہم مزید غیر متعلقہ رہنے کے لیے اپنے آپ سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ جب تک ہم سیاست کے اس تھیولوجیکل (Theological) اور پیوریٹن (Puritan) نقطہ نظر کو نہیں چھوڑتے تب تک ہم ناراض آدمیوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ ہی رہیں گے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ باقی انسان ہمارے نظریات کی تصدیق کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ ہمیں بڑے پیمانے پر سیاسی متبادل بنانے کے لیے اپنی پریکٹس اور تھیوری دونوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا لیفٹ کیوں ہے جسے ثقافتی اظہار (Cultural Expressions)  سے ٹھیس پہنچتی ہے۔  وہ روس، چین اور لاطینی امریکہ کی مثالیں دیتے ہیں جہاں مذہبی یا قبل از انقلاب ثقافتی اظہار وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا۔ پھر ان کا اپنا عمل ان ممالک میں ٹھوس جدوجہد/پالیسیوں سے انتہائی مختلف کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں بائیں بازو کو اس کے ابتدائی سالوں میں ہی ناکام بنا دیا گیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ اس معاشرے میں لیفٹ کا رجحان کبھی بھی بڑے پیمانے پر نہیں بن سکا،

حرف آخر یہ کہ مذہبی اظہار دنیا بھر کے تمام معاشروں کا حصہ ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تمام کامیاب کمیونسٹ تحریکوں نے فسطائی طاقتوں کے خلاف عوامی اتحاد بنانے کے لیے مذہبی اظہار کے ساتھ کام کیا ہے۔ پاکستان بھی مختلف نہیں ہوگا۔ جو چیز ہمیں فاشسٹوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو تقسیم کرنے کے لئے مذہب کا استعمال نہیں کرتے بلکہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مساجد، امام بارگاہوں، مندروں اور گرجا گھروں میں جاتے ہیں۔ ہم دنیا میں مصائب کو قبول کرنے کے پیغام پر زور نہیں دیتے بلکہ اپنے مذہب، تاریخ اور ظلم کے خلاف بغاوت کی مثالیں ڈھونڈتے ہیں۔ ہم ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے کوئی کارڈ استعمال نہیں کرتے بلکہ ریاست کی نو آبادیاتی نوعیت کے خلاف عوامی طاقتوں کو متحد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم شریعت کا وعدہ نہیں کرتے لیکن زمینی اصلاحات، سامراج مخالف اور سماجی آزادی کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے اپنے ماضی کی مثالیں استعمال کرتے ہیں۔ ہم مذہب کو مسترد نہیں کرتے، ہم تھیوکریٹک ریاستوں اور مذہبی بنیاد پرستی کو مسترد کرتے ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ بائیں بازو کی سیاست اپنے خالص نظریاتی جنون سے باہر آئے اور عوامی شعور کے ساتھ رابطہ استوار کرے۔ سیاسی خلا بہت بڑا ہے اور ہم اسے پر کر سکتے ہیں۔ شاید ہم کسی بھی تخلیقی عمل کی طرح اس عمل میں بھی غلطیاں کریں گے۔ لیکن لوگوں کو بدلنے کے لیے ہمیں خود کو بدلنے اور خطرات مول لینے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر، ہم تاریخ میں تماشائی بنے رہیں گے جو اشرافیہ سے نفرت کرتے ہیں لیکن عوام سے ہمیشہ مایوس ہوتے ہیں، یہ نقطہ نظر انقلابیوں کی نسبت طعنہ زنوں یا ناقدین کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں