پانی کا پائپ لائن 142

گولین گول چترال پائپ لائن کو تباہی سے بچایا جائے۔ عوامی حلقے


رپورٹ: گل حماد فاروقی


چترال ٹاؤن کے پچاس ہزار  آبادی کو پینے کی صاف پانی فراہم کرنے کے لئے بارہ سال پہلے 44 کروڑ روپے کی لاگت سے  گولین سے پائپ لائن کے ذریعے  قدرتی چشمے سے صاف پانی لایا گیا تھا۔ اس وقت  سڑک صرف بارہ فٹ تارکول تھا اس پائپ لاین کو سڑک کے کنارے پہاڑ کے جانب لایا گیا تھا مگر اب یہ سڑک نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو حوالہ ہوا  ہے جو اسے کشادہ کرکے اب اس پر تارکول ڈالے گا جس کی وجہ سے یہ پائپ لائن سڑک کے بیچ میں آ گیا ہے ۔

  ماہرین کے مطابق اگر ٹھیکدار اس پائپ کو محفوظ جگہ منتقل کرنے سے پہلے سڑک کو پکا کرتا ہے اور اس پر تارکول ڈالتا ہے تو اس صورت میں اگر پائپ سے پانی لیک ہوجائے تو تارکولی سڑک کو بہت نقصان پہنچائے گا اگر محکمہ پبلک ہیلتھ انجئنیرنگ والے اس پائپ لائن کی مرمت بھی کرنا چاہے تو اس صورت میں بھی سڑک کو توڑنا پڑے گا اور ٹھیکدار پھر پبلک ہیلتھ والوں سے اس کا تاوان مانگے گا۔

سماجی اور سیاسی شخصیت شریف حسین کا کہنا ہے کہ بارہ سال پہلے اس پائپ لائن کے لئے صوبائی حکومت نے 44 کروڑ روپے دئیے تھے  جو چترال ٹاؤن کے پچاس ہزار گھرانوں  کو پینے کی صاف پانی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ  اے کے ٹھیکدار کا کام ویسے بھی دو سال تاخیر کا شکار ہے اور چترال سے لے کر بونی تک 75 کلومیٹر سڑک اس کے ذمے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکدار اب راغ کے مقام پر اس سڑک پر اسی جگہ کنکریٹ ڈال رہا ہے جہاں سے پائپ لائن گزرا ہوا ہے حالانکہ اس سے آگے بھی 50 کلومیٹر سڑک باقی ہے وہاں بھی کام کرسکتا ہے اور ویسے بھی اس پائپ لائن کو نکال کر محفوظ جگہ منتقل کرنے کے لئے 29 کروڑ روپے منظور ہوئے ہیں اور اس کا ٹنڈر بھی ہوا ہے۔

شریف حسین نے کہا کہ اس ٹھیکدار کے کام پر ہم نے بار ہا اعتراض اٹھایا مگر لگتا ہے کہ اس کے بہت لمبے ہاتھ ہیں اور کسی نے اس سے پوچھا تک نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ اس طریقے سے محکمہ پبلک ہیلتھ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ان کی پائپ لائن کو سڑک کی بیچ سے  نکالنے سے پہلے اس نے  اسی جگہ کنکریٹ کا کام شروع کیا اور جب اس پائپ لائن  کو محکمہ پبلک ہیلتھ نکالے  گا تو ٹھیکدار ان سے تاوان کا مطالبہ کرے گا۔

اس سلسلے میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجئنیرنگ کے دفتر سے رابطہ کیا گیا جن کے ترجمان نے کہا کہ جب یہ پائپ لائن گولین سے لایا جا رہا تھا اس وقت سڑک چھوٹا تھا اور اسے محفوظ جگہ یعنی پہاڑ کے دامن سے گزار کر لایا گیا اب سڑک  کشادہ ہوا تو پائپ اس کے درمیان میں آگیا۔ اس  کو نکالنے کے لئے ہم نے باقاعدہ ٹینڈر کیا ہوا ہے اور 29 کروڑ روپے اس کے لئے منظور ہوئے ہیں  ہماری کوشش ہوگی کہ تین مہینے کے اندر اسے سڑک کے درمیان سے نکال کر سڑ ک کے کنارے محفوظ جگہ منتقل کرکے وہاں سے گزارا جائے تاکہ اگر پائپ سے پانی نکلنا  شروع ہوجائے تو وہ تارکولی سڑک کو نقصان پہنچانے کا بھی باعث نہ بنے اور اگر ہمیں اس کی مرمت کی ضرورت پڑے تو اس کے لئے پھر دوبارہ سڑک کو نہ توڑنا پڑے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں