حیدر جاوید سید 126

ٹیسٹ ٹیوب سیاستدانوں سے کیا توقع کرنا


استحکام پاکستان پارٹی، پرویز خٹک کی پی ٹی آئی، سندھ سے جی ڈی  اے، بلوچستان سے بی اے پی ان چار گروپوں کا وسیع تر انتخابی سیاسی اتحاد بنوانے کے لئے صلاح مشورے ہو رہے ہیں۔ (ن) لیگ بلوچستان کی حد تک تو بی اے پی کے ساتھ انتخابی اشتراک عمل کے لئے آمادہ ہے اس سے آگے وہ کیا سوچ رہی ہے اس بارے واقفان حال کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اس کوشش میں ہیں کہ (ن) لیگ سندھ میں جی  ڈی  اے کی حمایت کرے۔

تحریر: حیدر جاوید سید


نگران وزیراعظم بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ ہوں گے۔ اس منصب کے لئے پچھلے ہفتہ بھر سے جتنے نام دوڑائے جا رہے تھے وہ ریس سے باہر ہو گئے اور جو ریس میں شامل ہی نہیں تھا اس نے "ڈربی” جیت لی۔

 انوار الحق کاکڑ کے نام کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا لطائف سے بھر گیا۔ انصافیوں نے بھی اس کی عمران خان کے ساتھ ایک پرانی تصویر لگا کر ’’رانجھا‘‘ راضی کیا۔ کچھ یوٹیوبرز نے بھی خوب اَت اٹھائی۔

 ساعت بھر کے لئے رکئے اپنے پڑھنے والوں کو یاد کروا دوں کہ تحریر نویس پچھلے سولہ ماہ سے تواتر کے ساتھ یہ عرض کرتا آ رہا ہے کہ پی ڈی ایم و اتحادیوں  نے اسٹیبلشمنٹ کو محفوظ راستہ دے کر فاش غلطی کی ہے ۔

 ہماری دانست  میں تحریک عدم اعتماد لانا عمران خان کی اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق تھا البتہ اس حق کے استعمال کا وقت درست نہیں تھا۔ پی ڈی ایم و اتحادی اس بارے جو بھی کہتے رہے ہم نے ان سطور میں مسلسل یہی عرض کیا کہ اگر تحریک عدم اعتماد نہ لائی جاتی تو کوئی قیامت برپا ہرگز نہ ہوتی بہت ہوتا تو  اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان منطقی انجام سے دوچار ہوتے۔

ایک غلطی پی ڈی ایم و اتحادیوں نے کی اسٹیبلشمنٹ کو محفوظ راستہ دیا دوسری غلطی عمران خان سے ہوئی جنہوں نے چند ریٹائر بابوں کے انقلاب کو دل دے دیا۔

ان کا  خیال تھا کہ یہ بابے اپنے پرانے شاگردوں اور ماتحتوں پر اثر انداز ہوں گے  اور انقلاب آ جائے گا۔

ہوا یہ کہ ناکام بغاوت کا وارث کوئی نہیں بنا  نتیجتاً  بہت ساری وجوہات کی بنا پر دس بیس قدم پسپا ہوئی اسٹیبلشمنٹ ایک سو دس قدم آگے بڑھ آئی۔ اب جو ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

نصف صدی سے قلم مزدوری کرتے ہوئے دوسری بار اسٹیبلشمنٹ کو اس قدر طاقت ور، توانا اور بااختیار دیکھ رہا ہوں۔ پہلا دور تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کا تھا۔ اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کے ڈھول پی ڈی ایم و اتحادیوں کو اب خود ہی بجانا ہوں گے۔ رہی سہی کسر انوار الحق کاکڑ کے نگران وزیراعظم بننے سے پوری ہوگی۔

شہباز شریف نے یہ کہہ کر جی بہلانے کی کوشش تو کی کہ ’’میں 30سال سے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں نیز یہ کہ مجھے اس پر فخر ہے‘‘ لیکن یہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی جیب میں جو دو عدد پرچیاں تھیں انہیں جیب سے نکالنے کا موقع بھی نہیں ملا لیکن میرا خیال ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے۔

درست بات یہ ہے کہ جولائی کے اوائل میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک وفد کی جام کمال کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف سے جو ملاقات ہوئی تھی معاملات اسی میں طے پاگئے تھے۔

نگران وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھانے  والے انوار الحق کاکڑ بارے اگر ہم رشید یوسفزئی کی تحریر کے مندرجات سے کامل اتفاق نہ بھی کریں تو  بھی اس سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کاکڑ کی صورت میں بلوچستان کی محرومیوں کا وقتی علاج کرنے کی بجائے بار دیگر یہ پیغام بھجوایا ہے کہ ’’ہمارا ملک ہماری مرضی‘‘

 پیپلز پارٹی لاکھ کہے کہ ہمیں اس اتفاق رائے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا لیکن سیاسی اتار چڑھاؤ کو سمجھنے والی جماعت کے ذمہ داران کو عبد القدوس بزنجو کے آصف علی زرداری کے نام لکھے گئے خط سے نہ صرف معاملات کو سمجھ لینا چاہیے تھا بلکہ اعتماد کی اس فضا کو بھی جس میں مسلم لیگ (ن)، بی اے پی اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر تھے۔

 ہم آگے بڑھتے ہیں نگران وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھانے  والے انوار الحق کاکڑ بارے اگر ہم رشید یوسفزئی کی تحریر کے مندرجات سے کامل اتفاق نہ بھی کریں تو  بھی اس سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کاکڑ کی صورت میں بلوچستان کی محرومیوں کا وقتی علاج کرنے کی بجائے بار دیگر یہ پیغام بھجوایا ہے کہ ’’ہمارا ملک ہماری مرضی‘‘

 یہ ہمارا ملک ہماری مرضی والی بات کا ترجمہ و تفسیر اپنے رسک پر کیجئے گا مترجمین و مفسرین کے خیالات سے ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کاکڑ کی  نامزدگی پر بلوچستان کے اسٹیبلشمنٹ نواز حلقوں کی خوشی فطری امر ہے۔ جہاں تک وائس آف بلوچستان کے نام سے قائم ان کی ایک این جی او کے بعض ناپسندیدہ معاملات کی 2021ء میں ہوئی نیب انکوائری کا تعلق ہے تو اس پر جواب اس وقت کی حکومت کو دینا چاہیے۔

تحریک انصاف کے جو  ہمدرد اور  یوٹیوبرز اس انکوائری لیٹر کو لہرالہرا کر سوال پوچھ رہے ہیں  انہیں  اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی محبوب قیادت سے پوچھنا چاہیے کہ اس انکوائری کا کیا انجام ہوا تھا۔

 یہ تو پھر ایک انکوائری کا معاملہ ہے قبل ازیں ایک بار بلوچستان سے وزیراعظم منتخب ہونے والے میر جبل خان نصر اللہ جمالی جب وزارت عظمیٰ کے منصب کا حلف اٹھا رہے تھے تو وہ گندم سکینڈل میں ہائی کورٹ کے مفرور تھے۔

 اسی دور میں سندھ میں وزیر اعلیٰ بننے والے لیاقت جتوئی بھی حلف اٹھاتے وقت مفرور تھے (یاد رہے کہ یہ حوالے صرف اس دور کے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے دور سمجھے جاتے ہیں) ویسے تو موجودہ صدر عارف علوی اور سابق وزیراعظم عمران خان بھی جب 2018ء میں اپنے عہدوں کا حلف لے رہے تھے اس وقت دونوں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اشتہاری تھے۔

 شہباز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو نصف درجن کرپشن کیسوں میں ضمانتوں پر تھے۔

معاملہ الزامات، مقدمات، مفروریوں وغیرہ کا نہیں نہ ہی یہ آج کے کالم کا موضوع ہے۔

 ہم تو یہ عرض کر رہے ہیں کہ اگر انوار الحق کاکڑ کے اسم گرامی پر مسلم لیگ (ن)، اسٹیبلشمنٹ اور بی اے پی تینوں ایک پیج پر ہیں تو پھر رونے دھونے کی ضرورت نہیں خصوصاً شہباز شریف کے اس کھلے اعتراف  کے بعد کہ "میں 30 سال سے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے” ۔

اس اعتراف کو ذہن میں رکھ کر سوچئے کیا شہباز شریف کاکڑ کا نام دیئے جانے پر یا اس نام پر اتفاق رائے کئے جانے دونوں میں سے کسی بھی ایک سے انکار کی جرات کر سکتے تھے؟

رشید یوسفزئی نے انوار الحق کاکڑ کے قیام لندن کے دوران ان کی ایک ملازمت کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ویسی ملازمت اب ملالہ یوسفزئی کے والد کر رہے ہیں۔ اپنی تحریر میں انہوں نے کاکڑ کی محمود اچکزئی سے ایک ملاقات اور محمود خان اچکزئی کے ردعمل کا ذکر بھی کیا۔

 کچھ پشتون دوست رشید یوسفزئی کو ڈینگیں مارنے والے ایسے شخص سے تعبیر کر رہے ہیں جو خود بھی ” کہیں "سے ملے احکامات کی بجا آوری کرتا ہے خیر  ان دو طرفہ الزامات کی اوکھلی میں سر دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔

البتہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ انتخابات نومبر کی بجائے مارچ 2024ء میں بھی نہ ہو پائیں گے۔ اس احساس کی ایک سے زائد وجوہات ہیں اور اسے  دو چند مقرر کردہ نگران وزیراعظم کی اس بات نے کیا کہ ’’مجھے کیا معلوم انتخابات کب ہونے ہیں‘‘ یہ جواب انہوں نے انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر دیا۔ جو منصب ہے ہی انتخابی عمل کی عبوری  مدت کے لئے اس پر فائز شخص اگر انتخابات کے انعقاد اور وقت سے لاعلم ہے تو سورۃ فاتحہ کی تلاوت رہنے ہی دیجئے۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ انتخابات نومبر کی بجائے مارچ 2024ء میں بھی نہ ہو پائیں گے۔ اس احساس کی ایک سے زائد وجوہات ہیں اور اسے  دو چند مقرر کردہ نگران وزیراعظم کی اس بات نے کیا کہ ’’مجھے کیا معلوم انتخابات کب ہونے ہیں‘‘ یہ جواب انہوں نے انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر دیا۔ جو منصب ہے ہی انتخابی عمل کی عبوری  مدت کے لئے اس پر فائز شخص اگر انتخابات کے انعقاد اور وقت سے لاعلم ہے تو سورۃ فاتحہ کی تلاوت رہنے ہی دیجئے۔

 کالم کے اس حصے میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کروں کہ استحکام پاکستان پارٹی، پرویز خٹک کی پی ٹی آئی، سندھ سے جی ڈی  اے، بلوچستان سے بی اے پی ان چار گروپوں کا وسیع تر انتخابی سیاسی اتحاد بنوانے کے لئے صلاح مشورے ہو رہے ہیں۔ (ن) لیگ بلوچستان کی حد تک تو بی اے پی کے ساتھ انتخابی اشتراک عمل کے لئے آمادہ ہے اس سے آگے وہ کیا سوچ رہی ہے اس بارے واقفان حال کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اس کوشش میں ہیں کہ (ن) لیگ سندھ میں جی  ڈی  اے کی حمایت کرے۔

 اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایسا ہونا مشکل لگ رہا ہے لیکن سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اس لئے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بالفرض پرویز خٹک کی پی ٹی آئی، علیم خان کی استحکام پارٹی، جی ڈی اے اور بی اے پی اپنی صوبائی سطح سے اوپر ایک اتحاد بناتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) اپنا وزن اتحاد کی قیادت کی قیمت پر اس کے پلڑے میں ڈالتی ہے تو مستقبل کی انتخابی سیاست کے میدان کا نقشہ بڑا دلچسپ ہوگا۔

 بہر حال سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو نگران وزارت عظمیٰ مبارک ہو۔ میں ان سے یہ  توقع نہیں کرسکتا کہ وہ تاریخ میں زندہ رہنا چاہیں گے یا تاریخ کی دھول میں گم ہونا پسند کریں گے کیونکہ کسی ٹیسٹ ٹیوب بے بی سیاستدان سے شعوری توقع بذات خود جرم ہے۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں