88

گلگت بلتستان کی نوکر شاہی نوجوان نسل کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔ آصف سخی


اس نظام میں کروڑوں روپے سیاحت اور کھیلوں  کے نام پر چند افراد کی تفریح، عیاشی اور کرپشن کے ذریعے مال بنوانے کے لئے مختص کی جاتی ہے لیکن گوجال میں سرکاری سکول کے طالب علموں کے لئے ایک بس چلانے کے لئے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ آصف سخی


سابق امیدوار حلقہ 6 ہنزہ آصف سخی نے میڈیا کو جاری اپنے  بیان میں کہا ہے کہ گلگت  بلتستان کے افسر شاہی، حکمران اور بیوروکریٹس کی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا جا رہا ہے، اس نظام میں کروڑوں روپے سیاحت اور کھیلوں  کے نام پر چند افراد کی تفریح، عیاشی اور کرپشن کے ذریعے مال بنوانے کے لئے مختص کی جاتی ہے لیکن گوجال میں سرکاری سکول کے طالب علموں کے لئے ایک بس چلانے کے لئے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے، جب عوام ان سرمایہ دار حکمرانوں سے اپنے بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں تو بیانات دیتے ہیں کہ حکومت کے پاس زہر کھانے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔  

انہوں نے کہا کہ گوجال میں سکول بس کے لئے پیٹرول کے پیسے نہیں ہونے کی وجہ سے 2 ہفتے سے بند ہے، حکمران خواب خرگوش کی نیند سوئے ہوئے ہیں، بہت آفسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چیف سیکریٹری تعلیم اور سیاحت کے نام پر اسلام آباد میں روڈ شوز جیسے ڈرامے کر کے گلگت  بلتستان کے بجٹ سے کروڑوں روپے خرچ کر سکتا ہے لیکن دوسری طرف اس کے ناک کے نیچے ضلع ہنزہ کے سب ڈویژن گوجال میں 100 سے زائد طالب علم ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے سکول جانے سے قاصر ہیں، لیکن مجال ہے کہ چیف سیکرٹری کوئی نوٹس لیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ  ہم کھیلوں  اور سیاحت کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے چند لوگ فیض یاب ہوتے ہیں اور چند لوگ خاص کر بیوروکریٹس کا ان چیزوں میں دلچسپی لینا اور لوگوں کی بنیادی مسائل کو نظر انداز کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایسے پروگراموں کے لئے  نوجوانوں کے نام پر فنڈز لے کر کرپشن کے نظر کرنا ہے،

انہوں نے کہا کہ  ہم سمجھتے ہیں کہ گلگت  بلتستان کے نوجوانوں کو ایک ایجنڈے کے تحت مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے وطن سے دور پاکستان کے دوسرے شہروں کا رخ کریں تاکہ یہاں کے حکمران یہاں کے زمینوں اور وسائل کا بندر بانٹ کر سکیں اور یہاں کوئی حقیقی تحریک جنم نہ لے۔

 ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعلیم، روزگار اور صحت جیسے بنیادی ضروریات نہ ملنے کی وجہ سے آئے روز گلگت بلتستان کے غریب عوام شاہراہ قراقرم پر مر رہے ہیں اور جس کی ذمہ دار یہاں کے  حکمران اشرافیہ ہیں، عوامی ورکرز پارٹی گلگت  بلتستان کی حکومت کو متنبہ کرتی ہے کہ جلد از جلد گوجال کے طالب علموں کے مسائل حل کیا جائے ورنہ حکومت کو سخت مذاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں