عوامی ورکرز پارٹی ہر قسم کی بدمعاشی کی مذمت کرتی ہے


مشکوک افراد آتشین اسلحہ سمیت ۶۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے درجنون سیکورٹی چیک پوسٹوں سے گزر کر کس طرح گلگت بلتستان پہنچے۔ یہ سیکوریٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔


نیوز ڈیسک

سیاسی و سماجی حلقوں اور سماجی رابطہ کے کارکنوں نے گزشتہ دنوں گوجال ہنزہ بالا میں کھلے عام آتشین اسلحہ سے فاِئرنگ کرتے ہوئے مشہور سیاحتی مقام عطا آباد جھیل پہنچے۔ اس غیر مقامی شخص جن کا تعلق خیبر پختونخواہ سے بتایا جاتا ہے، کو جب کچھ مقامی لوگوں نے روکنے کی کوشیش کیں تو اس نے مبینہ طور پر ان پر بھی فائرنگ کیں مگر وہ محفوظ رہے اس پر وہاں موجود لوگوں نے نے پولیس کو اطلاع دی اور انہوں نے اس شکص کو گرفتار کرکے اسلحہ ضبط کیا۔

پولیس نے اس بااثر شکص کے ایما پر مزاھمت کرنے والے نوجوانون پر بھی ایف آئی آر کاٹا۔ جس کی وجہ سے علاقہ میں شدید خوف وہراس اور نوجوانوں میں غم و غصہ پحیل گیا۔

سیاسی ا و سماجی حلقوں نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت کیں اور مل؛زومں کو سکٹ سزا کا مطالبہ کیا۔

کچھ عناصر نے اس واقعے سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لِئے سوشل میڈیا پہ سابق ایم این اے محسن داور اور عوامی وکرز پارٹی کے رہنما بابا جان کو اس واقعہ سے جوڑنے کی کوشیش کیں۔

یاد رہے محسن داوڑ دو سال پہلے بابا جان کی شادی میں ناصر آباد آئے تھے۔ اس وجہ سے کچھ عناصر جو مشکوک اکاونٹ سے ترقی پسند قوم پرست سیاسی کارکنوں کے خلاف ایک مخصوص ایجنڈا کے تحت پروپگنڈہ کرتے رہتے ہیں، نے اس واقعہ کو محض اس بنیاد پر بہانا بنا کرک بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو نشانہ بانے اور اس واقعی پر کاموشی اختیار کرنے پر سوال اٹھایا کہ محسن داوڑ بابا جان کی شادی میں آئے تھے۔

لیکن بعد میں پتہ چلا کی ملزم کا محسن داوڑ سے کوئی رشتہ تعلو نہیں۔ اس پر لوگوں نے جھوٹے پرہپگنڈہ کرنے والوں کو شدید تنقید کا نشانی بنایا، اور مطالبہ کیا کہ مزکورہ شکص کو سکٹ سے سخت سزا دی جائے اور افواہ ]حیلانے والوں کے کلاف بھی کاروایئی کی جائے۔

عوامی ورکرز پارٹی نے اس سلسلے میں ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اس واقعہ اور اس کی اڑ میں مخالفین کا ان کی پارٹی اور ان کے چِئرمین کے خلاف بے بنیاد پرہپگنڈہ کی مزمت کیں۔

بیان میں عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نے مبینہ دہشت گرد کو سابق ایم این اے محسن داوڑ کا رشتہ دار ثابت کرنے اور اس کی آڑ میں عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں کو نشانہ بنانے کی غلیظ مہم پر شدید مذمت کیا گیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ 600 کلومیٹر طویل شاہراہ قراقرم پر درجنوں سیکورٹی چیک پوسٹوں سے بلا روک ٹوک گزر کر ایک شخص بحاری اسلحہ سمیت عطا آباد جھیل کیسے پہنچا؟ یہ سیکورٹی اہلکاروں کی کارکردگی پر ایک سوال نشان ہے۔ جب مذکورہ شخص کے سامنے مقامی نوجوانوں نے مذاحمت کیا تو ان کے اوپر کس کے ایما پر ایف آئی آر درج ہوا؟

پارٹی بیان میں کہا گیا کہ اس شخص کو بلاوجہ محسن داوڑ کا رشتہ دار ثابت کرنا اور اسے بابا جان کے ساتھ جوڑنا ایک غلیظ، بیمار اور شکست خوردہ ذہن کی عکاسی ہے۔ ان نوسربازوں کو نہ ہنزہ کے عوام سے کوئی ہمدردی ہے اور نہ ان کے مسائل کی شدبد اور نہ ان کے حل کے لئے جدوجہد کی ہمت اور طاقت۔ یہ صرف نفرتوں اور انتہا پسند بیانوں اور مسخرہ حرکتوں سے سیدھے سادے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔’

‘ان میں نہ اتنی ہمت کہ وہ عوامی مسائل پر عملی جدوجہد کریں اور تھانوں اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کریں۔ ان کی یہ ہمت کہ اس انقلابی پر انگلی اٹھائیں جس نے اپنے بہادر ساتھیوں کے ساتھ اپنی جوانی کے قیمتی دس سال جیل میں گزاریں۔ یہ فیس بکی جعل ساز، نوسرباز مفاد پرست عناصر کن کے اشاروں پہ اس وقت متحرک ہوئے ہیں یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔

اس وقت بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوتے ہی ان کو اپنی شکست یقینی نظر آرہی ہے اس لئے یہ سیاسی یتیم اصولوں اور عوامی مسائل پر مخالفین کا مقابلہ کرنے کی بجائے اوچھے ہھتکنڈوں پہ اتر آئے ہیں۔

ہم سیاسی نوسربازوں، فسطائی پاپولسٹ بیانیوں کے پرچارکوں، سیاسی نظریہ، اصول، اور شعور سے عاری مداریوں اور ان کے سرپرستوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اوچھے ہھتکنڈوں سے بعض آجائیں؛ ہنزہ کے پرامن ماحول کو پراگندہ نہ کریں، رواداری، سیاسی شعور، اور ایک دوسرے کے نظریات کا احترام،  شائستگی اور دلائل سے جواب دینے اور مکالمہ کے کلچر کو پروان چڑھانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نے ہمیشہ اصولوں اور عوامی مسائل پر سیاست کی ہے اور اشرافیہ، بااثر طبقات، اور ریاستی اداروں کی دھونس دھاندلی، غنڈہ گردی، زمینوں اور قدرتی وسائل پر قبضہ، اورجبر کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ ان کے سامنے سینہ سپر ہو کر مذاحمت کی ہے۔

ہم اپنی روایات کے مطابق ان طاقتور حکمرانوں، اداروں اور افراد کے سامنے ہمیشہ مذاحمتی سیاست کو جاری رکھیں گے۔ اور ان عناصر کو بے نقاب کرتے رہیں گے جو کبھی مذہب کی آڑ میں اور کبھی علاقائیت اور لسانیات کی آڑ میں سادہ لوح عوام کو ورغلاتے ہیں اور نفرت کی سیاست کو پروان چڑھاتے ہیں۔

ہم ان مقامی سہولت کاروں کی بھی مذمت کرتے ہیں جووقتی مفادات کی خاطر غیر مقامی سرمایہ داروں، اور ریاستی اداروں کے اہلکاروں کی دلالی کرکے انہیں اپنی زمین، اور قدرتی وسائل کو بیچتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں