156

دروس میں دو افراد کا بہمانہ قتل


کڑدام گول دوش میں جنگل تنازعے میں  شاہ نگر دروش کے رہائشی اشرف گل اور احسان الدین کو آتشین اسلحہ سے فائر کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا

رپورٹ: ہائی ایشیاء ہیرالڈ


گزشتہ روز روز صبح آٹھ بجے کے قریب لوئر چترال کے تحصیل دروس کے حدود میں واقع جنگل کڑدام گول میں جنگل کے تنازع پر گوجر برادری سے تعلق رکھنے والے شخص نے شاہ نگر دروس کے رہائشی اشرف گل ولد گل نیاب اور احسان الدین ولد محراب الدین کو آتشین اسلحہ سے فائر کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

 ایس پی انوسٹی گیشن لوئر چترال عبدالستار خان نے میڈیا کو بتایا کہ وقوعہ کے فوری بعد ملزم نے اپنے بال بچوں کے ساتھ روپوش ہوگئے ہیں جبکہ مقامی پولیس ان کی تلاش شروع کر دی ہے اور تمام متوقع مقامات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ مقتولین کڑدام گول جنگل سے خشک سوختنی لکڑی اپنے گھروں کو لانے کے لئے گئے ہوئے تھے۔

 انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ کڑدام کا جنگل دروس شہر سے 11کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کی بنا پر ملزم روپوش ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ تھانہ دروش میں ملزم نور عالم کے خلاف تعزیرات پاکستان کے دفعہ 302کے تحت قتل کا مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔

 دریں اثناء مقتولین کی لاشیں دروس پہنچائے جانے پر مقامی افراد نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں لاشیں دروس چوک میں رکھ کر کئی گھنٹوں تک احتجاجی دھرنا دیا۔

تاہم  اسسٹنٹ کمشنر دروس کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاجی  پرامن طریقے سے منتشر ہو گئے جس نے دو دنوں کے اندر قاتل کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔

 احتجاجی قاتل کے ساتھ ساتھ گوجر برادری کے رہنما حاجی انذر گل کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔

 کڑدام گول کے جنگل پر دروش کے مقامی لوگوں اور گوجر برادری میں گزشتہ کئی سالوں سے تنازعہ چلی آرہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں