181

معدومیت کے خطرے سے دو چار مرغ زرین کی فریاد


ستمبر سے ہمارے ہاں شکار کا سیزن شروع ہونے والا ہے۔ یہ پانچ سال پرانی تحریر اس امید سے دوبارہ شیئر کر رہا ہوں کہ ہوسکتا ہے کوئی اسے پڑھئے اور مرغ زریں جیسے نایاب پرندوں کا شکار کرنا چھوڑ دے۔


تحریر: گمنام کوہستانی


ستمبر سے ہمارے ہاں شکار کا سیزن شروع ہونے والا ہے۔ یہ پانچ سال پرانی تحریر اس امید سے دوبارہ شیئر کر رہا ہوں کہ ہوسکتا ہے کوئی اسے پڑھئے اور مرغ زریں جیسے نایاب پرندوں کا شکار کرنا چھوڑ دے۔

میرا نام "لوو زروں فونڈ ہے یعنی (زرنگار پھول)”۔ یہ نام مجھے میری برادری نے دیا ہے، انسان مجھے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں جیسے کوئی ہمیں مرغ زریں کہتے ہیں تو کوئی ہمیں لویٹ کے نام سے پکارتے ہیں، جہاں میں رہتا ہوں یعنی دیر کوہستان تو یہاں کے لوگ مجھے لویش کے نام سے جانتے ہیں۔

مجھے معلوم نہیں میری عمر کتنی ہے لیکن اتنا معلوم ہے کہ اپنی برادری میں میری عمر سب سے زیادہ ہے۔ جب میں پیدا ہوا تو اپنے اردگرد برف سے لپٹی فلک بوس چوٹیاں، شور مچاتے، گیت گاتے ندی نالوں اور ہر طرف لہلہاتے سبزہ زاروں کو دیکھ کر بہت خوش تھا. ہمارے آس پاس بہت سارے درخت تھے، جب ہوا چلتی تھی تو ہم ایک دوسرے کو تھام کر درختوں کے شاخوں پر جھومتے تھے، میں اور میرے دوسرے ساتھی آس پاس موجود قدرت کے ان حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اسی دوران آس پاس موجود دوسرے جانور ہم سے بچھڑ گئے، کہاں گئے مجھے نہیں معلوم کیونکہ اس وقت دنیا کے بارے میں ہمارا علم محدود تھا ہمیں دور تک گھومنے کی اجازت نہیں تھی بس اپنے علاقے میں ارگرد گھومتے تھے۔

پہلے ہم سارے لویش بہت خوش تھے کیونکہ دنیا بہت خوبصورت تھی اور ہم بھی اس خوبصورتی کا حصہ تھے، بارش اور بہار کے موسم میں خوب ناچتے اور شور مچاتے ہوئے زندگی بہت مزے سے گزر رہی تھی۔

لیکن ایک دن میں نے ایک عجیب جانور دیکھا، ہمارے اس جنگل میں انواع و اقسام کے جانور تھے لیکن یہ جانور ان سب سے مختلف تھا۔ اس کے کندھے پر ایک عجیب و غریب چمکدار چیز تھی۔ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ یہ کونسا جانور ہے؟۔ ساتھی نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ یہ انسان ہے اسے آدمی بھی کہا جاتا ہے۔ میں نے اُس سے ڈرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے سرگوشی میں کچھ کہا جو میں ہوا کے شور کے وجہ سے سن نہ سکا۔ میں نے دوبارہ پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اچانک زور دار آواز آئی، آسمانی بجلی گرنے کی آواز کی طرح جو کبھی کبھار ہمارے اس پر سکون جنگل میں سنائی دیتی ہے۔ میں نے اپنی ساتھی کی طرف پلٹ کر دیکھا، وہ زمین پر گر کر تڑپ رہا تھا اور وہ انسان اس کی گلے پر چھری پھیر رہا تھا۔

اس دن کے بعد میں انسان نامی اس جانور سے بہت ڈرتا ہوں، اس کو دیکھتے ہی مجھے اپنا ساتھی یاد آتا ہے۔ اسی طرح ایک ایک کرکے یہ انسان ہمیں شکار کے نام پر قتل کرنے لگے، ہم ڈر گئے اور خود کو بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ میرے ساتھی ڈر کے مارے انجان علاقوں کے طرف نکل گئے، انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن میں نے جانے سے انکار کیا، میں اس جگہ کو چھوڑ نہیں جا سکتا، اس جگہ میں پیدا ہوا ہوں یہ میرا وطن ہے میں اپنے وطن کو نہیں چھوڑ سکتا۔ میں اب بھی یہاں رہتا ہوں اکیلا نہیں ہوں بلکہ گنتی کے دوچار ساتھی بھی میرے ساتھ ہیں لیکن اب یہاں دوسرے جانور نہیں آتے شاید انھیں بھی قتل کر دیا گیا ہے۔ ہم بھی اسی خوف میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کسی دن انسان نامی یہ جانور آئے گا اور ہمیں بھی قتل کرے گا۔

یہ دھرتی آپ انسانوں کی طرح ہماری بھی ہے صاحب، اس پر جتنا حق آپ انسانوں کا ہے اتنا حق ہمارا بھی ہے۔ یہ دنیا بہت خوبصورت ہے لیکن ہمارے بغیر یہ بدصورت ہوگی۔ گھنے جنگل، وسیع سرسبز میدان اور گرتے آبشاریں صرف حسن کے استعارے نہیں ہوسکتے بلکہ ہم بھی اس خوبصورت جادوئی دنیا کا لازمی حصہ ہیں۔ اس لئے ہم جینا چاہتے ہیں ہم بھی جینے کا حق رکھتے ہیں، ہمیں بھی جینے دیں۔ اس وقت ہم اپنے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ہماری نسل ختم ہو رہی ہے۔ آپ انسان ہمیں نہیں بچائیں گے تو ہمیں کون بچائے گا ؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں