عابد حسن منٹو کی کتاب "قصہ پون صدی کا" 182

” قصہ پون صدی کا”


(معروف قانون دان، ترقی پسند مفکر، مارکسی دانشور اور عوامی ورکرز پارٹی کے بانی صدر جناب عابد حسن منٹو کی دوسری کتاب "قصہ پون صدی کا” شائع ہو گیا ہے۔

ان کی پہلی کتاب، "اپنی جنگ جاری رہے گی” تین سال قبل شائع ہو گئی تھی۔)


"’’’قصّہ پون صدی کا ‘‘ نامی اپنے حالیہ شائع شدہ کتاب کے حوالے سے مصنف کا کہنا ہے کہ

یہ کتاب کوئی باقاعدہ، سال بہ سال خودنوشت یا سوانح عمری نہیں ہے۔ عام طور پہ خودنوشت یا سوانح میں زندگی کے مختلف ادوار صفائی سے علیحدہ علیحدہ بیان کیے جاتے ہیں اور قریب قریب ایک باقاعدہ تاریخ وار ترتیب میں ہوتے ہیں۔

اس کتاب میں میں نے اپنی زندگی کے ایسے تجربات و واقعات کو بیان کیا ہے جنھیں میں اہمیت دیتا ہوں یا سمجھتا ہوں کہ ان کے اثرات میری زندگی پہ مرتب ہوئے۔ اس میں میرے بچپن سے لے کر اب تک کی خاندانی زندگی کا بیان بھی ہے اور ملکی و غیر ملکی سیاست کا بھی۔ کچھ وکالت اور وکلا سے جڑی جمہوری جدوجہد کے قصے ہیں اور کچھ مقدمات کا ذکر ہے۔

اس وقت، یہ پیش لفظ تحریر کرتے وقت میری عمر 91 برس ہے۔ کتاب کے لکھنے اور ترتیب دینے میں بہت سی دشواریوں اور مسائل کا سامنا رہا اور کئی وجوہات کی بنا پہ اس کا لکھا جانا اور اشاعت تاخیر کا شکار ہوئے۔ گو کچھ وجہ یہ بھی تھی کہ وکالت کے پیشے سے ریٹائرمنٹ کے بعد میں خود کو کچھ سُست پاتا تھا، ایک بڑی وجہ کووڈ کی وبا تھی جو اپنے طویل دورانیے میں طرح طرح سے ہماری ذاتی اور معاشرتی زندگیوں پر اثر انداز ہوئی۔

اس کتاب کے ابواب کچھ واقعاتی ہیں کچھ تجزیاتی، اور یہ دونوں، لامحالہ، میرے مخصوص سیاسی اور معاشرتی نظریات کے پس منظر میں تشکیل پائے ہیں۔ ملکی، معاشرتی اور سیاسی حالات کا بیان اور تجزیہ ہو یا بین الاقوامی سیاست میں رونما ہونے والے پچھلی کچھ دہائیوں کے واقعات، سوویت یونین کا ٹوٹ جانا ہو یا دُنیا بھر کی بائیں بازو کی سیاست پر اس کے ٹوٹنے کے اثرات، سوویت یونین اور چین کی کشمکش ہو یا چین کا اپنے تئیں آج بھی کمیونسٹ سمجھنا، پاکستان کا معرضِ وجود میں آنا ہو یا اس کا دو حصوں میں تقسیم ہونا، پاکستان میں جاری رکھے گئے نِت نئے سیاسی اور فوجی تجربات ہوں یا اعلیٰ عدالتوں کے مجرمانہ حد تک برے سیاسی فیصلے، ترقی پسند ادب کی تحریک ہو یا جنرل ضیاء کے دور میں وکلا کی بحالیِ جمہوریت کی تحریک … ظاہر ہے کہ سب کے ذکر اور تجزیے کے پس منظر میں میرے مخصوص خیالات اور نظریات ہیں۔

 پاکستان بننے کے بعد کالج کے زمانے میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کا رکن بننے سے لے کر آج تک میں خود کو کمیونسٹ اور مارکسسٹ ہی سمجھتا ہوں اور اِسی زاویے سے ان سب معاملات کو دیکھتا رہا ہوں۔

مجھے امید ہے کہ اس کتاب میں کی گئی گفتگو نہ صرف ان قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگی جو بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں، بلکہ شاید ان کے لیے بھی جو پاکستان کی سیاسی اساس و تاریخ، آئین، معاشرتی انصاف اور انسانی حقوق کے مسائل سے اپنے غور و فکر کا تعلّق جوڑتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں