خدایا یہ تیرے بندے کدھر جائیں


بجلی کی پیداوار میں توانائی کی لاگت 29 فیصد تک محدود ہے باقی 71 فیصد کیپسٹی چارجز کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے 5 طرح کے ٹیکس وصول کرتی ہیں۔ اسی طرح پہلے بجلی کے کل استعمال  پر جی ایس ٹی ہے۔ دوسری بار فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز پر اور تیسری بار بجلی کے مجموعی بل پر جی ایس ٹی وصول کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بجلی کے مجموعی صارفین کی تعداد تین کروڑ  81 لاکھ ہے۔

تحریر: حیدر جاوید سید


حالیہ دنوں میں بجلی کے بھاری بھر کم بلوں کے خلاف ملک بھر میں شہری سراپا احتجاج ہیں۔ بعض شہروں میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے دفاتر پر حملے ہوئے دو تین جگہ ان کے اہلکاروں کو مشتعل صارفین نے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ دفاتر پر حملے اور اہلکاروں پر تشدد کی یقیناً کوئی ذی شعور شہری حمایت نہیں کرتا مگر بھاری بھر کم بلوں کی وجہ سے سارا شعور، ادب و آداب اور اخلاقیات دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے۔

 گزشتہ روز  نگران وزیر اعظم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوا۔ ہونا ہی تھا کیونکہ پالیسی سازوں نے اصل حقائق پر بات کرنے کی بجائے صرف آئی ایم ایف معاہدے کی شرائط کا ڈھول پیٹا اور نگرانوں کو خوف دلایا کہ کسی چیز کو نہ چھیڑیں ورنہ تباہی آجائے گی اس اجلاس کے بعد  48 گھنٹوں میں ریلیف کا لالی پاپ دیا گیا ہے۔

جس وقت یہ سطور لکھ رہا ہوں 48 میں سے 24 گھنٹے گزر چکے ہیں ان سطور کی اشاعت تک 40گھنٹے، 8 گھنٹے بعد کیا ہوگا؟ کم از کم مجھے یہی لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہونا سوائے زبانی جمع خرچ، طفل تسلیوں یا  زیادہ سے زیادہ بلوں کی اقساط کرا لو کے ڈرامے کے۔

کڑوا سچ یہ ہے  کہ حکومت بھاری بھر کم ٹیکسوں کے ذریعے عوام کو لوٹ رہی ہے صرف نگران حکومت نہیں پچھلی حکومتیں بھی اس لوٹ مار میں شامل رہیں۔ پہلے پہل کے بلوں میں پی ٹی وی فیس کا بھتہ لیا جاتا تھا اب ریڈیو فیس کا بھتہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے ایک بل میں 14 مختلف اقسام کے ٹیکس شامل ہیں۔ حکومت کی بدنیتی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ بجلی  کے ایک بل میں تین بار جی ایس ٹی شامل کرکے وصول کیا جاتا ہے۔

بجلی کی پیداوار میں توانائی کی لاگت 29 فیصد تک محدود ہے باقی 71 فیصد کیپسٹی چارجز کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے 5 طرح کے ٹیکس وصول کرتی ہیں۔ اسی طرح پہلے بجلی کے کل استعمال  پر جی ایس ٹی ہے۔ دوسری بار فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز پر اور تیسری بار بجلی کے مجموعی بل پر جی ایس ٹی وصول کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بجلی کے مجموعی صارفین کی تعداد تین کروڑ  81 لاکھ ہے۔

اب اگر (مثال کے طورپر) ایک صارف صرف ایک یونٹ استعمال کرے  تو انہیں 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ ایف سی سرچارجز، 20 پیسے فی یونٹ ایکسائز ڈیوٹی، ایک روپیہ 24 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، ہر ماہ مختلف فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور پھر اس پر جی ایس ٹی، 35 روپے ٹی وی فیس ماہانہ، 15 روپے ریڈیو فیس ماہانہ، یہ ساری رقم جمع کر کے پھر جنرل سیلز ٹیکس کی تلوار چلائی جاتی ہے۔ فی الوقت (سرکاری ریکارڈ کے مطابق) بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت 22 روپے 55 پیسے فی یونٹ  کا تخمینہ ہے۔ اس میں 16 روپے 22 پیسے کیپسٹی چارجز اور 6 روپے 73 پیسے انرجی چارجز ہوں گے۔

 ریکارڈ کے مطابق ایل این جی سے فی یونٹ بجلی 51 روپے 42 پیسے، فرنس آئل  سے 48 روپے 56 پیسے، مقامی کوئلے سے 23 روپے 52 پیسے، درآمدی کوئلے سے فی یونٹ 40 روپے 54 پیسے، ونڈ پاور سے 33روپے 64 پیسے، ایران سے لی گئی بجلی 24 روپے 74 پیسے، نیوکلیئر پلانٹ سے فی یونٹ  بجلی 8 روپے 36 پیسے یونٹ، سولر سے فی یونٹ بجلی 15 روپے 4 پسے میں پڑے گی۔ بگاس سے فی یونٹ 14 روپے 83 پیسے میں پڑتی ہے۔ گیس سے 13 روپے 2 پیسے اور پانی سے فی یونٹ بجلی 6 روپے 84 پیسے کی پیداواری لاگت ہے۔ مختلف ذرائع  سے پیدا ہونے والی بجلی کے نرخوں کو جمع تقسیم کے بعد 22 روپے 55 پیسے فی یونٹ کا تخمینہ ہے۔

حکومت بھاری بھر کم ٹیکسوں کے ذریعے عوام کو لوٹ رہی ہے صرف نگران حکومت نہیں پچھلی حکومتیں بھی اس لوٹ مار میں شامل رہیں۔ پہلے پہل کے بلوں میں پی ٹی وی فیس کا بھتہ لیا جاتا تھا اب ریڈیو فیس کا بھتہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے ایک بل میں 14 مختلف اقسام کے ٹیکس شامل ہیں۔ حکومت کی بدنیتی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ بجلی  کے ایک بل میں تین بار جی ایس ٹی شامل کرکے وصول کیا جاتا ہے۔

صارفین کی درجہ بندی کے نرخ گھریلو کمرشل صنعتی اور دیہی نرخ فیول ایڈجسٹمنٹ، مختلف ٹیکسز وغیرہ سادہ سے حساب کے مطابق گھریلو صارف کو فی یونٹ 50 سے 55 روپے، عام کمرشل صارف (دکاندار) کو اب  60 سے 63 روپے میں ایک یونٹ پڑتا ہے۔

بعض معاشی ماہرین اس امر سے متفق ہیں کہ جی ایس ٹی صرف ایک بار لیا جانا چاہیے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ حکومت اٹھائے کیونکہ جب عالمی منڈی سے فرنس آئل وغیرہ سستے ملتے ہیں تو صارف کو اس کا ریلیف نہیں ملتا۔

 اسی طرح لائن لاسز کا بوجھ صارف پر کیوں؟ عدلیہ، فوجی افسران اور بیوروکریسی کے تمام درجوں کے لئے مفت بجلی کی فراہمی وغیرہ بند ہونی چاہیے۔

بجلی چوروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو تاکہ  اس کا بوجھ بل دینے والوں پر منتقل نہ ہو ۔

 ہم اگر خواجہ آصف کے اس دعوے کو مان لیں کہ ملک میں سالانہ 650 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ ان بجلی چوروں کے خلاف خود ان کی  حکومتوں نے کیا کارروائی کی؟ نہیں کی تو کیوں۔

حالیہ دنوں میں بجلی کے بھاری بھر کم بلوں کے خلاف ملک بھر میں شہری سراپا احتجاج ہیں۔ بعض شہروں میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے دفاتر پر حملے ہوئے دو تین جگہ ان کے اہلکاروں کو مشتعل صارفین نے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ دفاتر پر حملے اور اہلکاروں پر تشدد کی یقیناً کوئی ذی شعور شہری حمایت نہیں کرتا مگر بھاری بھر کم بلوں کی وجہ سے سارا شعور، ادب و آداب اور اخلاقیات دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے۔

 گزشتہ روز  نگران وزیر اعظم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوا۔ ہونا ہی تھا کیونکہ پالیسی سازوں نے اصل حقائق پر بات کرنے کی بجائے صرف آئی ایم ایف معاہدے کی شرائط کا ڈھول پیٹا اور نگرانوں کو خوف دلایا کہ کسی چیز کو نہ چھیڑیں ورنہ تباہی آجائے گی اس اجلاس کے بعد  48 گھنٹوں میں ریلیف کا لالی پاپ دیا گیا ہے۔

جس وقت یہ سطور لکھ رہا ہوں 48 میں سے 24 گھنٹے گزر چکے ہیں ان سطور کی اشاعت تک 40گھنٹے، 8 گھنٹے بعد کیا ہوگا؟ کم از کم مجھے یہی لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہونا سوائے زبانی جمع خرچ، طفل تسلیوں یا  زیادہ سے زیادہ بلوں کی اقساط کرا لو کے ڈرامے کے۔

کڑوا سچ یہ ہے  کہ حکومت بھاری بھر کم ٹیکسوں کے ذریعے عوام کو لوٹ رہی ہے صرف نگران حکومت نہیں پچھلی حکومتیں بھی اس لوٹ مار میں شامل رہیں۔ پہلے پہل کے بلوں میں پی ٹی وی فیس کا بھتہ لیا جاتا تھا اب ریڈیو فیس کا بھتہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے ایک بل میں 14 مختلف اقسام کے ٹیکس شامل ہیں۔ حکومت کی بدنیتی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ بجلی  کے ایک بل میں تین بار جی ایس ٹی شامل کرکے وصول کیا جاتا ہے۔

بجلی کی پیداوار میں توانائی کی لاگت 29 فیصد تک محدود ہے باقی 71 فیصد کیپسٹی چارجز کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے 5 طرح کے ٹیکس وصول کرتی ہیں۔ اسی طرح پہلے بجلی کے کل استعمال  پر جی ایس ٹی ہے۔ دوسری بار فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز پر اور تیسری بار بجلی کے مجموعی بل پر جی ایس ٹی وصول کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بجلی کے مجموعی صارفین کی تعداد تین کروڑ  81 لاکھ ہے۔

مصنف کے دیگر مضامین پڑھئے

سانحہ جڑانوالہ۔ پس منظر اور ذمہ داری

قومی اعزازات سے الیکشن میں تاخیر تک

اب اگر (مثال کے طورپر) ایک صارف صرف ایک یونٹ استعمال کرے  تو انہیں 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ ایف سی سرچارجز، 20 پیسے فی یونٹ ایکسائز ڈیوٹی، ایک روپیہ 24 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، ہر ماہ مختلف فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور پھر اس پر جی ایس ٹی، 35 روپے ٹی وی فیس ماہانہ، 15 روپے ریڈیو فیس ماہانہ، یہ ساری رقم جمع کر کے پھر جنرل سیلز ٹیکس کی تلوار چلائی جاتی ہے۔ فی الوقت (سرکاری ریکارڈ کے مطابق) بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت 22 روپے 55 پیسے فی یونٹ  کا تخمینہ ہے۔ اس میں 16 روپے 22 پیسے کیپسٹی چارجز اور 6 روپے 73 پیسے انرجی چارجز ہوں گے۔

 ریکارڈ کے مطابق ایل این جی سے فی یونٹ بجلی 51 روپے 42 پیسے، فرنس آئل  سے 48 روپے 56 پیسے، مقامی کوئلے سے 23 روپے 52 پیسے، درآمدی کوئلے سے فی یونٹ 40 روپے 54 پیسے، ونڈ پاور سے 33روپے 64 پیسے، ایران سے لی گئی بجلی 24 روپے 74 پیسے، نیوکلیئر پلانٹ سے فی یونٹ  بجلی 8 روپے 36 پیسے یونٹ، سولر سے فی یونٹ بجلی 15 روپے 4 پسے میں پڑے گی۔ بگاس سے فی یونٹ 14 روپے 83 پیسے میں پڑتی ہے۔ گیس سے 13 روپے 2 پیسے اور پانی سے فی یونٹ بجلی 6 روپے 84 پیسے کی پیداواری لاگت ہے۔ مختلف ذرائع  سے پیدا ہونے والی بجلی کے نرخوں کو جمع تقسیم کے بعد 22 روپے 55 پیسے فی یونٹ کا تخمینہ ہے۔

صارفین کی درجہ بندی کے نرخ گھریلو کمرشل صنعتی اور دیہی نرخ فیول ایڈجسٹمنٹ، مختلف ٹیکسز وغیرہ سادہ سے حساب کے مطابق گھریلو صارف کو فی یونٹ 50 سے 55 روپے، عام کمرشل صارف (دکاندار) کو اب  60 سے 63 روپے میں ایک یونٹ پڑتا ہے۔

بعض معاشی ماہرین اس امر سے متفق ہیں کہ جی ایس ٹی صرف ایک بار لیا جانا چاہیے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ حکومت اٹھائے کیونکہ جب عالمی منڈی سے فرنس آئل وغیرہ سستے ملتے ہیں تو صارف کو اس کا ریلیف نہیں ملتا۔

 اسی طرح لائن لاسز کا بوجھ صارف پر کیوں؟ عدلیہ، فوجی افسران اور بیوروکریسی کے تمام درجوں کے لئے مفت بجلی کی فراہمی وغیرہ بند ہونی چاہیے۔

بجلی چوروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو تاکہ  اس کا بوجھ بل دینے والوں پر منتقل نہ ہو ۔

 ہم اگر خواجہ آصف کے اس دعوے کو مان لیں کہ ملک میں سالانہ 650 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ ان بجلی چوروں کے خلاف خود ان کی  حکومتوں نے کیا کارروائی کی؟ نہیں کی تو کیوں۔

حالیہ دنوں میں بجلی کے بھاری بھر کم بلوں کے خلاف ملک بھر میں شہری سراپا احتجاج ہیں۔ بعض شہروں میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے دفاتر پر حملے ہوئے دو تین جگہ ان کے اہلکاروں کو مشتعل صارفین نے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ دفاتر پر حملے اور اہلکاروں پر تشدد کی یقیناً کوئی ذی شعور شہری حمایت نہیں کرتا مگر بھاری بھر کم بلوں کی وجہ سے سارا شعور، ادب و آداب اور اخلاقیات دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:

عام انتخابات، ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟

 گزشتہ روز  نگران وزیر اعظم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوا۔ ہونا ہی تھا کیونکہ پالیسی سازوں نے اصل حقائق پر بات کرنے کی بجائے صرف آئی ایم ایف معاہدے کی شرائط کا ڈھول پیٹا اور نگرانوں کو خوف دلایا کہ کسی چیز کو نہ چھیڑیں ورنہ تباہی آجائے گی اس اجلاس کے بعد  48 گھنٹوں میں ریلیف کا لالی پاپ دیا گیا ہے۔

جس وقت یہ سطور لکھ رہا ہوں 48 میں سے 24 گھنٹے گزر چکے ہیں ان سطور کی اشاعت تک 40گھنٹے، 8 گھنٹے بعد کیا ہوگا؟ کم از کم مجھے یہی لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہونا سوائے زبانی جمع خرچ، طفل تسلیوں یا  زیادہ سے زیادہ بلوں کی اقساط کرا لو کے ڈرامے کے۔

کڑوا سچ یہ ہے  کہ حکومت بھاری بھر کم ٹیکسوں کے ذریعے عوام کو لوٹ رہی ہے صرف نگران حکومت نہیں پچھلی حکومتیں بھی اس لوٹ مار میں شامل رہیں۔ پہلے پہل کے بلوں میں پی ٹی وی فیس کا بھتہ لیا جاتا تھا اب ریڈیو فیس کا بھتہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے ایک بل میں 14 مختلف اقسام کے ٹیکس شامل ہیں۔ حکومت کی بدنیتی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ بجلی  کے ایک بل میں تین بار جی ایس ٹی شامل کرکے وصول کیا جاتا ہے۔

بجلی کی پیداوار میں توانائی کی لاگت 29 فیصد تک محدود ہے باقی 71 فیصد کیپسٹی چارجز کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے 5 طرح کے ٹیکس وصول کرتی ہیں۔ اسی طرح پہلے بجلی کے کل استعمال  پر جی ایس ٹی ہے۔ دوسری بار فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز پر اور تیسری بار بجلی کے مجموعی بل پر جی ایس ٹی وصول کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بجلی کے مجموعی صارفین کی تعداد تین کروڑ  81 لاکھ ہے۔

ریکارڈ کے مطابق ایل این جی سے فی یونٹ بجلی 51 روپے 42 پیسے، فرنس آئل  سے 48 روپے 56 پیسے، مقامی کوئلے سے 23 روپے 52 پیسے، درآمدی کوئلے سے فی یونٹ 40 روپے 54 پیسے، ونڈ پاور سے 33روپے 64 پیسے، ایران سے لی گئی بجلی 24 روپے 74 پیسے، نیوکلیئر پلانٹ سے فی یونٹ  بجلی 8 روپے 36 پیسے یونٹ، سولر سے فی یونٹ بجلی 15 روپے 4 پسے میں پڑے گی۔ بگاس سے فی یونٹ 14 روپے 83 پیسے میں پڑتی ہے۔ گیس سے 13 روپے 2 پیسے اور پانی سے فی یونٹ بجلی 6 روپے 84 پیسے کی پیداواری لاگت ہے۔ مختلف ذرائع  سے پیدا ہونے والی بجلی کے نرخوں کو جمع تقسیم کے بعد 22 روپے 55 پیسے فی یونٹ کا تخمینہ ہے۔

اب اگر (مثال کے طورپر) ایک صارف صرف ایک یونٹ استعمال کرے  تو انہیں 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ ایف سی سرچارجز، 20 پیسے فی یونٹ ایکسائز ڈیوٹی، ایک روپیہ 24 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، ہر ماہ مختلف فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور پھر اس پر جی ایس ٹی، 35 روپے ٹی وی فیس ماہانہ، 15 روپے ریڈیو فیس ماہانہ، یہ ساری رقم جمع کر کے پھر جنرل سیلز ٹیکس کی تلوار چلائی جاتی ہے۔ فی الوقت (سرکاری ریکارڈ کے مطابق) بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت 22 روپے 55 پیسے فی یونٹ  کا تخمینہ ہے۔ اس میں 16 روپے 22 پیسے کیپسٹی چارجز اور 6 روپے 73 پیسے انرجی چارجز ہوں گے۔

 ریکارڈ کے مطابق ایل این جی سے فی یونٹ بجلی 51 روپے 42 پیسے، فرنس آئل  سے 48 روپے 56 پیسے، مقامی کوئلے سے 23 روپے 52 پیسے، درآمدی کوئلے سے فی یونٹ 40 روپے 54 پیسے، ونڈ پاور سے 33روپے 64 پیسے، ایران سے لی گئی بجلی 24 روپے 74 پیسے، نیوکلیئر پلانٹ سے فی یونٹ  بجلی 8 روپے 36 پیسے یونٹ، سولر سے فی یونٹ بجلی 15 روپے 4 پسے میں پڑے گی۔ بگاس سے فی یونٹ 14 روپے 83 پیسے میں پڑتی ہے۔ گیس سے 13 روپے 2 پیسے اور پانی سے فی یونٹ بجلی 6 روپے 84 پیسے کی پیداواری لاگت ہے۔ مختلف ذرائع  سے پیدا ہونے والی بجلی کے نرخوں کو جمع تقسیم کے بعد 22 روپے 55 پیسے فی یونٹ کا تخمینہ ہے۔

صارفین کی درجہ بندی کے نرخ گھریلو کمرشل صنعتی اور دیہی نرخ فیول ایڈجسٹمنٹ، مختلف ٹیکسز وغیرہ سادہ سے حساب کے مطابق گھریلو صارف کو فی یونٹ 50 سے 55 روپے، عام کمرشل صارف (دکاندار) کو اب  60 سے 63 روپے میں ایک یونٹ پڑتا ہے۔

بعض معاشی ماہرین اس امر سے متفق ہیں کہ جی ایس ٹی صرف ایک بار لیا جانا چاہیے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ حکومت اٹھائے کیونکہ جب عالمی منڈی سے فرنس آئل وغیرہ سستے ملتے ہیں تو صارف کو اس کا ریلیف نہیں ملتا۔

 اسی طرح لائن لاسز کا بوجھ صارف پر کیوں؟ عدلیہ، فوجی افسران اور بیوروکریسی کے تمام درجوں کے لئے مفت بجلی کی فراہمی وغیرہ بند ہونی چاہیے۔

بجلی چوروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو تاکہ  اس کا بوجھ بل دینے والوں پر منتقل نہ ہو ۔

 ہم اگر خواجہ آصف کے اس دعوے کو مان لیں کہ ملک میں سالانہ 650 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ ان بجلی چوروں کے خلاف خود ان کی  حکومتوں نے کیا کارروائی کی؟ نہیں کی تو کیوں۔

حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ  بجلی کی فی یونٹ قیمت عام صارف کی قوت خرید سے بہت زیادہ ہے اس  پر نظرثانی کرنا  ہوگی تاکہ تنگ آمد بجنگ آمد والی صورتحال پیدا نہ ہونے پائے۔

حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ  بجلی کی فی یونٹ قیمت عام صارف کی قوت خرید سے بہت زیادہ ہے اس  پر نظرثانی کرنا  ہوگی تاکہ تنگ آمد بجنگ آمد والی صورتحال پیدا نہ ہونے پائے۔

حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ  بجلی کی فی یونٹ قیمت عام صارف کی قوت خرید سے بہت زیادہ ہے اس  پر نظرثانی کرنا  ہوگی تاکہ تنگ آمد بجنگ آمد والی صورتحال پیدا نہ ہونے پائے۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں