319

” اور اب چترال "


افغانستان میں رہنے والے کلاش کو سرخ کافر  کہا جاتا ہے اور ان کی اکثریت کو دائرہ اسلام میں داخل کیا جا چکا ہے۔ مقامی طور پر پاکستانی کالاش کو سیاہ کالاش کہتے ہیں۔

 تحریر: جاوید احمد


 سوشل اور مین سٹریم میڈیا پر چترال پر طالبان کے حملے، ہلاکتوں اور پاکستانی فوج کے شہدا  کی  خبریں پڑھ اور سن کر تفصیلات جاننے کے لیے ہم نے چترال میں مقیم ساتھی انور ولی خان سے رابطہ کیا۔۔       

ان سے ملنے والی معلومات کے مطابق چند روز قبل  جدید اسلحہ سے لیس سینکڑوں طالبان نے چترال سکاؤٹس کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے پاکستان افغانستان کی بین الاقوامی سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کی جسے پاکستانی افواج نے مقابلہ کرتے ہوئے ناکام بنایا۔۔

جب ہم نے اس حملے کے اسباب جاننے کی کوشش کی تو ان کے بقول اس کے دو تین نکات ہیں۔۔                                                   

چترال میں صدیوں سے سنی، اسماعیلی اور کلاش  اکٹھے رہ رہے ہیں۔۔ افغانستان میں رہنے والے کلاش کو سرخ کافر  کہا جاتا ہے اور ان کی اکثریت کو دائرہ اسلام میں داخل کیا جا چکا ہے۔ مقامی طور پر پاکستانی کالاش کو سیاہ کالاش کہتے ہیں۔

طالبان چترال کے سرحدی علاقے میں اپنا دائرہ اثر بڑھانے کے لیے اب اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔۔

ایک دوسرا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ پاکستان کے دیگر شورش زدہ علاقوں کی طرح  یہاں پر بھی قیمتی معدنیات دریافت ہوئی ہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے علاوہ پاکستان، چین اور افغانستان کی نظریں  یہاں پر مستقبل میں حاصل ہونے والی ممکنہ آمدنی پر ہیں۔۔

ایک تیسرا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ پاکستان افغانستان اور چین کے درمیان واخان کی پٹی پر قبضہ کر کے تاجکستان کا راستہ سیدھا کر دیا جائے۔۔ جی بی میں مقیم چترال کے ایک نوجوان سے جب میں نے اس سلسلے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ طورخم بارڈر  پر صورت حال کافی تشویش ناک ہے اور آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اس صورت حال کے دباؤ کو بدلنے کے لیے یہ نیا محاذ کھولا گیا ہے۔۔  

کہ پاکستان کے دیگر شورش زدہ علاقوں کی طرح  یہاں پر بھی قیمتی معدنیات دریافت ہوئی ہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے علاوہ پاکستان، چین اور افغانستان کی نظریں  یہاں پر مستقبل میں حاصل ہونے والی ممکنہ آمدنی پر ہیں۔۔

یاد رہے کہ لوئر اور اپر چترال کو ملا کر تقریبا 5 لاکھ آبادی پر مشتمل یہ ایک غریب ترین ضلع ہے۔ یہ ایک سابقہ شاہی ریاست تھی جسے 70 کی دہائی میں پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔

سردیوں میں برف باری کی وجہ سے یہ علاقہ چھ مہینے تک پاکستان سے کٹ جاتا تھا اور خوراک و دیگر اشیاء ضرورت افغانستان کے ذریعے یہاں پہنچائی جاتی تھیں۔۔   

مگر اب طویل ترین لواری سرنگ کے کھل جانے سے یہ خطہ 12 مہینے پاکستان کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔۔

یہ بھی پڑھئے: چترال پر حملہ! حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت

یہ مضمون بھی پڑھ لیں:چترال میں دہشت گردوں کے حملے میں 4 جوان شہید ہو گئے

پاکستان کے دیگر علاقوں کے برعکس یہاں پر قومی  اور صوبائی اسمبلی کی  دونوں نشستیں  جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے قبضے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی تو ان کے بقول چترال میں غربت، جہالت اور  دھاندلی اس کے  اسباب ہیں۔۔

الیکشن سے ایک ادھ دن قبل جماعت اسلامی کے لوگ راشن سے لدی ٹرالیاں لوگوں کے گھر گھر پہنچانے کے  علاوہ مذہبی کارڈ استعمال کرتی  ہیں جس سے انہیں ووٹ ملنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔۔  

اب پی ٹی آئی کے علاوہ اے ڈبلیو پی کے ترقی پسند کارکن بھی خاص متحرک ہیں۔۔

یاد رہے کہ لوئر اور اپر چترال کو ملا کر تقریبا 5 لاکھ آبادی پر مشتمل یہ ایک غریب ترین ضلع ہے۔ یہ ایک سابقہ شاہی ریاست تھی جسے 70 کی دہائی میں پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 1970 کے الیکشن میں جماعت اسلامی کو پاکستان بھر میں چار سیٹیں ملی تھی جن کے بارے میں کچھ لوگ طنزیہ کہا کرتے تھے کہ جنازہ اٹھانے کے لیے چار افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔۔   

اس وقت اچانک چند باتیں یاد آگئیں ۔

1. کون کہتا تھا طالبان از مائی بے بی۔ بے نظیر۔  

2. اچھے اور برے طالبان کی اصطلاح  کس نے ایجاد کی؟۔

 3. افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر عمران سرکار نے بھرپور مدد کی اور اسے خوش آمدید کہا۔

4. ایک سابقہ وزیر دفاع بھی طالبان کو تحسین کی نظروں سے دیکھتے تھے۔۔

5. ہمسائے کے صحن میں سانپ پال کر یہ توقع مت رکھیں کہ وہ کبھی اپ کو نہیں ڈسے گا۔۔

6. اب تک کتنے ملکوں نے افغانستان کی طالبانی حکومت کو تسلیم کیا ہے۔ جواب زیرو۔

7 . دستیاب خبروں کے مطابق ان کی وجہ شہرت لڑکیوں کے سکول بند کرنا اور خواتین کے پارکوں پر پابندی لگانا ہے۔

8. لاسٹ بٹ ناٹ دی لیسٹ۔۔Last but not the least   تاریخ میں صرف ان کا  نام کرائے کے ایسے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے امریکی ڈالر لے کر اپنے ہے افغانستانی بہن بھائیوں کا خون بہا کر اس پورے خطے کو غیر مستحکم کیا۔

جنہوں نے اس خطے کے پہلے سوشلسٹ  انقلاب کو تباہ کرنے میں امریکیوں، سعودیوں، مصریوں اور اسرائیلیوں کے دلال کا کردار ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں