131

قراقرم یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف انتقامی کارروائی


 یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی کو فوری طور پر  واپس لے لیں اور ان کو تعلیم جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کرنے کے عمل سے اجتناب کرے۔

تحریر: اسرار الدین اسرار


قراقرم انٹرنیشل یونیورسٹی میں فیس بڑھائے جانے پر احتجاج کرنے والے طلباء و طالبات کے خلاف کارروائی کرنا غیر قانونی ہے۔

پاکستان کی مختلف جامعات سمیت دنیا بھر میں طلبہ اپنے جائز مطالبات کے حق میں پر امن احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔ اگر ان طلبہ نے کوئی توڑ پھوڑ یا شرپسندی نہیں کی ہے اور اپنے مطالبات کے حق میں محض ایک پر امن احتجاج کیا ہے تو یہ ان کا آئینی و انسانی حق ہے۔ یہ حق ان کو آئین پاکستان کا  آرٹیکل 16 فراہم کرتا ہے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کے بین الاقوامی منشور کے آرٹیکل 26 میں کہا گیا ہے کہ ممالک پر لازم ہے کہ وہ سکول کی سطح پر تعلیم مفت اور لازمی قرار دیں جبکہ پروفیشنل اور اعلی تعلیم کو عام لوگوں کے بچوں کے لئے قابل رسائی بنا دیں۔

مذکورہ احتجاج کے بعد ان طلباء و طالبات کے مطالبات سننے اور ان کا مناسب حل نکالنے کی بجائے یونیورسٹی انتظامیہ نے حسب روایت ان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

 یہ بات حقیقت ہے کہ یونیورسٹی مالی بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ بھی دباؤ کا شکار ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ سارا بوجھ طلبہ پر ڈالا جائے اور وہ اگر اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں تو ان کی آواز کو بھی دبایا جائے۔

وی سی قراقرم یونیورسٹی نے ادارے کے مالی بحران  کے مسئلے کو سلجھانے کے لئے  وزیر اعلی گلگت بلتستان اور  نگران وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات بھی کی ہے جس کے بعد حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے میں مدد فراہم کرے گی۔

وی سی قراقرم یونیورسٹی نے ادارے کے مالی بحران  کے مسئلے کو سلجھانے کے لئے  وزیر اعلی گلگت بلتستان اور  نگران وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات بھی کی ہے جس کے بعد حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے میں مدد فراہم کرے گی۔

 یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی کو فوری طور پر  واپس لے لیں اور ان کو تعلیم جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کرنے کے عمل سے اجتناب کرے۔

یہ بھی پڑھئے: شاہراہ بلتستان موت کا کنواں کیسے بنی؟

یہ مضمون بھی پڑھ لیں: کام کی جگہ پر خواتین کی ہراسانی

شنید ہے کہ زیر تعلیم طلبہ کے علاوہ یونیورسٹی سے فارغ طالب علم راہنما، طلبہ حقوق کی توانا آواز اور سماجی ایکٹوسٹ تجمل مرحوم کو بھی طلبہ کو اکسانے اور وی سی کے خلاف لکھنے کے الزام میں پابند سلسل کیا گیا ہے جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے تجمل مرحوم کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

ستم یہ ہے کہ پاکستان کی جامعات میں طلبہ کی یونین سازی پر پابندی ہے جس کی وجہ سے طلبہ آپس میں مل بیٹھ کر اپنے مسائل کے حل پر بات کرنے کی بجائے شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات میں طلبہ یونین سازی کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے جائز مطالبات جمہوری طریقوں سے متعلقہ فورمز میں بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے قابل ہوسکیں۔

مصنف کے بارے میں :

اسرار الدین اسرار انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے کا نمائندہ ہے۔ اسرار بام جہان کے ریگولر لکھاری ہے ان کی دلچسپی کے موضات سماجی مسائل، گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔

اسرار الدین اسرار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں