102

ہمیں اپنے آپ سے ہی خطرہ ہے!


فلسطینی عوام کے قتلِ عام پر دنیا بھر میں جو عوامی ردِعمل آیا ہے اس سے ہمیں پاکستان میں بھی سبق لینا چاہیے کہ دنیا کی محکوم اقوام و محنت کش عوام اگر منظم ہیں تو پھر ہی تمام انسانوں کی آزادی کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر عاصم سجاد اختر 


اسرائیل اور اس کے سامراجی سرپرستوں نے غزہ کو انسانوں کا قبرستان بنا دیا ہے۔ مغربی میڈیا، اسرائیل کی ننگی جارحیت کو مسلسل جائز قرار دینے پر تن من دھن لگا رہا ہے جبکہ مغربی حکمران یکے بعد دیگرے علانیہ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کا حق ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنا دفاع کرے۔

 دوسری طرف دنیا کے عوام ہیں، بشمول مغربی ممالک کے اندر، جو ایک ماہ سے جاری نسل کشی کی شدید مذمت حتیٰ کہ مسلسل احتجاجات کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ عوامی لہر فلسطینی بچوں کا قتلِ عام روک نہیں سکتی، اس نے یہ ثابت تو کیا ہے کہ دورِ حاضر میں انسان دوستی، ترقی پسندی اور بین الاقوامیت کی روایات زندہ ہیں۔

پاکستان کے اندر بھی عوامی سطح پر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی بربریت پر گہری رنجش پائی جاتی ہے۔ جس کا اظہار عوام کی مختلف پرتیں سڑک پر نکل کر بھی کر رہی ہیں۔ سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے مذہبی جماعتوں کی جانب سے ہوئے ہیں مگر بائیں بازو اور ترقی پسند حلقے بھی اپنی بساط کے مطابق عوامی اجتماعات منظم کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ تین سے چار دہائیوں میں مغربی سامراج اور ہماری اپنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر فلسطین کے مسئلے کو کیسے ”اسلامی“ بنایا اور دائیں بازو کے حوالے کیا گیا۔

 یہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ تمام مسلمان اکثریتی ممالک کی کہانی ہے۔ خود فلسطین کی قومی آزادی کی تحریک کی قیادت آج سے 30 سال قبل تک سیکولر، بائیں بازو کی قوتوں کے پاس تھی اور آج حماس جیسی تنظیمیں سب سے نمایاں کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔

اس وقت اسرائیل سب کچھ حماس کو کچلنے کے نام پر کر رہا ہے۔ ترقی پسندوں کا مذہبی دائیں بازو کے ساتھ تضاد اپنی جگہ تاہم یہ قطعی طور پر ممکن نہیں ہے کہ اسرائیل اور مجموعی طور پر مغرب کی جانب کے جرائم میں حماس کو تباہ کرنے کی آڑ میں حصہ دار بنیں۔ بلکہ ہمیں اس وقت بڑھ چڑھ کر کہنا چاہیے کہ حماس جیسی تنظیموں کو اسی لیے تو تقویت ملتی ہے کہ سیکولر اور لبرل اقدار کے نعرے لگانے والے مغرب کے حکمران خود مذہب کو ہتھیار بناتے آ رہے ہیں۔ صیہونی ریاست نے گزشتہ 75 برس سے فلسطین کی سر زمین پر یہودیوں کے بچاؤ کے نام پر قبضہ کیا ہے چنانچہ یہ اتنی حیرت کی بات نہیں ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ مذہب ہی کے نام پر مذاحمت کی جائے۔ لیکن یہ لازم بھی نہیں تھا اور اگر ایسا ہوا بھی ہے تو اس کی بڑی وجہ وہ سامراجی حکمتِ عملی تھی جس کے تحت سرد جنگ کے دوران دائیں بازو کی قوتوں کو ابھارا گیا۔

 2001ء کے بعد نام نہاد ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ نے اس ”کلچر وار“ کے رجحان کو اور زیادہ مضبوط کیا، چاہے عراق اور افغانستان کی سامراجی جنگوں کی مثال لی جائے یا فلسطین میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت کی۔

اس وقت اسرائیل سب کچھ حماس کو کچلنے کے نام پر کر رہا ہے۔ ترقی پسندوں کا مذہبی دائیں بازو کے ساتھ تضاد اپنی جگہ تاہم یہ قطعی طور پر ممکن نہیں ہے کہ اسرائیل اور مجموعی طور پر مغرب کی جانب کے جرائم میں حماس کو تباہ کرنے کی آڑ میں حصہ دار بنیں۔ بلکہ ہمیں اس وقت بڑھ چڑھ کر کہنا چاہیے کہ حماس جیسی تنظیموں کو اسی لیے تو تقویت ملتی ہے کہ سیکولر اور لبرل اقدار کے نعرے لگانے والے مغرب کے حکمران خود مذہب کو ہتھیار بناتے آ رہے ہیں۔

لیکن معاملہ صرف یہاں ختم نہیں ہوتا۔ اگر ایک طرف ہمارا کام دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو سامراجی تسلط کے ساتھ جوڑ کر دکھانا ہے تو دوسری طرف ہمیں عوامی سطح پر فلسطین اور دیگر ایسے سوالوں کو ”اسلامی“ کی بجائے انقلابی بین الاقوامیت کے اصولوں کے گرد شعور اجاگر کرنا ہے۔ آخر کار اپنے آپ کو غلامی کے خلاف اور انسانی آزادی کے لیے لڑنے والے تمام انسان دوست ترقی پسند حلقوں کا ہدف یہی تو ہے۔

 ہمارے بہت سے دوست یہ جائز تنقید کرتے ہیں کہ پاکستان کے مرکزی دھارے میں فلسطین اور کشمیر جیسے خطوں میں ظلم کی بہت بات ہوتی ہے مگر بلوچ، پشتون، سندھی اور پاکستان کے اندر دیگر محکوم اقوام کے حق میں بات کیا بلکہ ریاستی بیانیہ کو ہی تقویت ملتی ہے کہ لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشیں، نوجوانوں کی پروفائلنگ، معدنیات، پانی، زمینیں اور دیگر قیمتی قدرتی وسائل پر قبضے پر میڈیا اور بہت سے سیاسی حلقے خاموش ہیں بلکہ اس سب کچھ کو ”قومی سلامتی“ اور ”پاکستان کی ترقی“ کے لیے لازم قرار دیا جاتا ہے۔ یقیناً ایسا ہی ہے اور بہت عرصے ایسا ہی ہو رہا ہے۔

 بنگالیوں نے 24 سال چیخ و پکار کرنے کے بعد علیحدگی کا رستہ اختیار کیا کیونکہ ان کے حقِ خودارادیت کے مطالبات کے بدلے ان کو الزام دیا جاتا تھا کہ ان میں وہ ایمان نہیں جو حب الوطن پاکستانیوں میں ہونا چاہیے۔

اس ریاستی بیانیے کے تسلط کو 1971 کے بعد اور بھی مضبوط کیا گیا۔ مطالعہ پاکستان کا باقاعدہ مضمون بنایا گیا۔ بلوچوں پر فوج کشی کی گئی۔ بلکہ پاکستان کے اندر محکوم اقوام کے سوال پر بات کرنے والوں پر وہی غداری اور ایمان کے فقدان کے الزامات لگائے گئے جو بنگالیوں پر لگتے تھے۔ جبکہ باقی دنیا میں فلسطین جیسی قومی آزادی کی تحاریک کو ”اسلامی“ بنا کر پیش کیا گیا اور اسی بنیاد پر ان کو پاکستانیوں کی حمایت کا حقدار ثابت کیا گیا۔

 آج ہمیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ سامراج اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، کامیابی سے پاکستان کے بیشتر عوام کے تصورِ کائنات کو ”اسلامی“ بنا چکے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سماجی شعور کو پھر سے بدلا نہیں جا سکتا کہ پاکستان کے اندر بھی قومی سوال کو طبقاتی اور دیگر سوالوں کے ساتھ جوڑ کر ترقی پسند نظریات کو مرکزی دھارے کی سیاست میں پھر سے دھکیلا نہیں جا سکتا۔ اور اسی طرح عالمی سطح پر انقلابی بین الاقوامیت کو اجاگر نہیں کیا جا سکتا۔

سچ تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے اندر محکوم اقوام بھی مشترکہ جدوجہد نہیں کرتیں۔ حالیہ سندھی اور پشتون و افغان قومی سوالوں پر ترقی پسند دوستوں کا شدید تناؤ اس کا تازہ ترین ثبوت ہے۔ مجموعی طور پر ہر قومی سوال کا دوسرے کے ساتھ کہیں نہ کہیں سمجھ اور عملی سیاست میں تضاد ابھرتا رہتا ہے۔ نسبتاً کھلے ڈھلے ماحول والے تعلیمی اداروں کے اندر، جیسا کہ قائداعظم یونیورسٹی، ہر تھوڑے عرصے بعد بند اس لیے ہوتے ہیں کہ بلوچ، سندھی، پشتون، پنجابی، سرائیکی، جی بی وغیرہ کی بنیاد پر بنی ہوئی طلبہ کونسلیں ایک دوسرے پر تشدد پر اتر آتی ہیں۔

اسی طرح گاہے بگاہے فیمینسٹ حلقوں کے درمیان جھگڑا، بائیں بازو کی مختلف پارٹیوں کے درمیان (اور پارٹیوں کے اندر بھی) کھینچا تانی ہوتی ہے۔

 ہمارے بہت سے دوست یہ جائز تنقید کرتے ہیں کہ پاکستان کے مرکزی دھارے میں فلسطین اور کشمیر جیسے خطوں میں ظلم کی بہت بات ہوتی ہے مگر بلوچ، پشتون، سندھی اور پاکستان کے اندر دیگر محکوم اقوام کے حق میں بات کیا بلکہ ریاستی بیانیہ کو ہی تقویت ملتی ہے کہ لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشیں، نوجوانوں کی پروفائلنگ، معدنیات، پانی، زمینیں اور دیگر قیمتی قدرتی وسائل پر قبضے پر میڈیا اور بہت سے سیاسی حلقے خاموش ہیں بلکہ اس سب کچھ کو ”قومی سلامتی“ اور ”پاکستان کی ترقی“ کے لیے لازم قرار دیا جاتا ہے۔ یقیناً ایسا ہی ہے اور بہت عرصے ایسا ہی ہو رہا ہے۔

ترقی پسند حلقے اتنے کمزور ہونے کے باوجود اتنے منتشر کیوں ہیں؟ کیا بنیادی نکتۂ نظر اتنا مختلف ہے کہ اکٹھے مل کر سیاست کرنا ممکن ہی نہیں؟ یا وجہ یہ ہے کہ ترقی پسند سیاسی حلقے شعوری یا لاشعوری طور پر دورِ حاضر کی نفرت انگیز سیاست، انا پرستی اور سوشل میڈیا کی انتہاء پسند پوسٹوں کو وائرل کرنے والی منطق میں جکڑے جا چکے ہیں؟

اگر ترقی پسندی اور بائیں بازو کا مطلب طبقاتی، سامراجی، صنفی، قومی تضادات کو سمجھنا اور استحصال کی ہر شکل کو ختم کرنے کی جد و جہد کرنا ہے تو ترقی پسندوں کے مختلف حلقوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں اتنی دقت نہیں ہونی چاہیے۔ ریاست کے ”اسلامی“ بیانیہ کو چیلنج اور پاکستان کی حدود کے اندر محکوم اقوام کی جدوجہد کا حصہ بنتے ہوئے بھی فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جا سکتی ہے۔

اپنے مخصوص شناخت کے گروہی مسئلے کو زبردستی دوسری شناخت کے گروہوں سے فرق کرنا ترقی پسندی نہیں ہے۔ محکوم اقوام اور بالادست خطہ پنجاب کے اندر استحصال زدہ محنت کش طبقات بھی ایک ہی نظام کا شکار ہیں بے شک فرق انداز میں۔ لہٰذا اتنا ہی فرق کرنا چاہیے کہ خود نظام کو مضبوط نہ کریں۔

فلسطینی عوام کے قتلِ عام پر دنیا بھر میں جو عوامی ردِعمل آیا ہے اس سے ہمیں پاکستان میں بھی سبق لینا چاہیے کہ دنیا کی محکوم اقوام و محنت کش عوام اگر منظم ہیں تو پھر ہی تمام انسانوں کی آزادی کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے۔

یقیناً فلسطینیوں کی غلامی اتنی جلدی ختم نہیں ہو گی۔ اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی بربادی 75 برس سے جاری ہے۔ بلکہ صیہونی تحریک کو مغربی سامراج کی حمایت کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔

اسی طرح ترکی کی ریاست کردوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ ہندوستان میں مودی سرکار اور آر ایس ایس جیسی فاشسٹ تنظیموں کی سربراہی میں مسلمانوں، دلتوں، اسامی، کشمیری اور دیگر محکوم اقوام پر آئے روز ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں۔ سعودی عرب کی ریاست ہر تھوڑے عرصے بعد یمن پر بمباری کرتی ہے۔ فرانس نے حال میں مغربی افریقہ کے اندر اپنی سابقہ نو آبادیوں میں من مرضی کی حکومتیں ایک بار پھر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے، اکثر اوقات وحشی فوجی جرنیلوں کے ذریعے۔

 مزید مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں، کیونکہ عالمی سامراجی نظام اور نام نہاد جمہوری ریاستوں کے ہوتے ہوئے دنیا کے بیشتر لوگ غلامی میں جکڑے رہیں گے۔ انقلابی بین الاقوامیت ہی وہ نظریاتی ڈھانچہ ہے جو اس نظام سے نجات دلوا سکتا ہے۔ یہ کب ہو گا، کہا نہیں جا سکتا۔ مگر اپنے ہی فطری اتحادیوں سے کٹے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی منافرت اور لبرل سامراج نوازی کی کلچر وارز ہی سیاست کا محور بنی رہیں گی۔

ڈاکٹر عاصم سجاد اختر

ڈاکٹر عاصم سجاد اختر قائد اعظم یونیورسٹی ا سلام آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ بایاں بازو کی سب سے بڑی پارٹی عوامی ورکرز پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری اور تین کتابوں کے مصنف ہیں اور ڈان اخبار میں کالم لکھتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں