عوامی ایکشن کمیٹی یاسین کا گرینڈ مشاورتی اجلاس 96

19 نومبر کو زبردست احتجاجی مظاہرے کا اعلان، عوامی ایکشن کمیٹی یسین


گندم سبسڈی خاتمہ عوام کے ساتھ ظلم، 5200 کا بوری کسی صورت قابل قبول نہیں۔ بہادر امان، شیر نادر شاہی

عوام اپنے حقوق کے لئے میدان میں نکلے، حکمرانوں کو چھپنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اسلم انقلابی، علی غلام شاہ وزیر، گری خان، آدینہ محمد و دیگر کا خطاب


عوامی ایکشن کمیٹی یاسین کا گرینڈ مشاورتی اجلاس طاوس میں زیر صدارت بہادر امان منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ویلیجز کے سربراہان، نمائندگان، ممبران کے علاوہ ایکشن کمیٹی یسین کے رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایکشن کمیٹی یسین کے صدر بہادر آمان، سابق امیدوار جی بی اے یاسین و رہنما عوامی ایکشن کمیٹی شیر نادر شاہی، جنرل سکرٹری شکور، آدینہ محمد، پی پی کے رہنما علی غلام، سیاسی و سماجی رہنما عبد المجید، اسلم انقلابی، شاہ وزیر، میر اکبر، محمد سیاہ، گری خان، راجہ میر ولی، حاصل امان، و دیگر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے گندم فی بوری 5200 ریٹ مقرر کرنا عوام کو بھوکا مارنے کی سازش ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے عوام دشمن پالیسیوں کو عوام ہر گز قبول نہیں کریں گے، ایک طرف مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے تو دوسری طرف سالانہ گندم ریٹس میں اضافہ اور سبسڈی خاتمہ ظلم عظیم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے یہاں کے عوام کو نہ صرف گندم بلکہ دیگر اشیاء خورد و نوش، تیل، چینی، وغیرہ پر بھی سبسڈی بحال کی جائے۔

 اجلاس میں ایکشن کمیٹی ممبران اور ولیجز کے نمائندگان نے متفقہ قرار داد پاس کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ 19 نومبر کو طاوس چوک میں یسین کے عوام کا حکومتی فیصلے کے خلاف شدید احتجاج ہوگا اور احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت اپنے غلط اور عوام دشمن فیصلے واپس نہیں لیتا۔

 اجلاس میں تمام ویلجز کے زمہ داران کو احتجاج میں عوام کی جم غفیر اکھٹا کرنے کے لئے زمہ داریاں دی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر اس احتجاج سے مسئلہ حل نہیں ہوا تو دھرنا سمیت لانگ مارچ کا آپشن موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں