چترال، ذہنی صحت، چترال لائرز فورم 117

چترال میں خود کشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جامع تحقیقات ہونی چاہئے۔ رحمت علی، چترال لائز فورم پشاور ہائی کورٹ


چترال میں خود کشیوں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چترال لائرز فورم پشاور ہائی کورٹ ہر قسم کی قانونی معاونت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ شکیل دورانی ایڈوکیٹ و دیگر وکلاء کا موقف

چترال میں خود کشیوں کے اکثر واقعات کے پس پردہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد مل رہے ہیں۔ کریم اللہ


چترال میں خود کشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اکثر ایسے واقعات کے  پس پردہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد مل رہے ہیں جن کی روک تھام اور ایسے واقعات کی جامع تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکیں اور ایسے دل خراش واقعات کی روک تھام ہو سکیں۔

ان خیالات کا اظہار چترال سے تعلق رکھنے والے ماہر قانون اور چترال لائرز فورم پشاور ہائی کورٹ کے صدر رحمت علی نے کیا ان کا کہنا تھا کہ خود کشی کے واقعات کی جامع چھان بین اور ان کے پس پردہ محرکات پر تحقیقات ہونی چاہئے اور اگر کہیں کوئی ویکٹمز کو کسی بھی قسم کی قانونی مدد کی ضرورت پڑے تو چترال لائرز فورم پشاور ہائی کورٹ اس سلسلے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

آج پشاور ہائی کورٹ بار میں چترال لائرز فورم پشاور ہائی کورٹ اور ہائیو پاکستان /  کمیونٹی اینویشن لیب کے پراجیکٹ Chitral Hope: Youth Life Resilience initiative کے پراجیکٹ لیڈ کریم اللہ کے درمیان میٹنگ کے بعد  ایک یاد داشت پر دسختط کئے گئے۔ جس کا مقصد چترال میں ذہنی صحت، خود کشیوں اور اس کے پس پردہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں وغیرہ کے حوالے سے مل کر کام کرنا تھا۔

اس موقع پر چترال لائرز فورم کے سینئر نائب صدر شکیل  درانی ایڈوکیٹ، نائب صدر اشتیاق احمد چیف پیٹرن جناب شاکر الدین جنرل سیکرٹری خادم  السلام  پرس سیکرٹری محمد نذیر فئانس سیکرٹری سیلم الدین  ، افتخار احمد اور قاسم ایڈوکیٹ  جوائنٹ سیکریٹری موجود تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے Chitral Hope: Youth Life Resilience Initiative کے پراجیکٹ لیڈ کریم اللہ کا کہنا تھا کہ چترال میں ذہنی صحت اور خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویش ناک ہے اور خود کشی کے اکثر واقعات کے پیچھے دیگر محرکات جیسا کہ گھریلو تشدد، قتل، ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں جن کے خلاف موثر انداز سے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری پاکستان کا سب سے منظم اور طاقت ور سول سوسائیٹی کا ادارہ ہے جو کہ آئین اور قانون سے واقف ہونے کی بنا ایسے سماجی مسائل کے حوالے سے آواز اٹھانے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے اس لئے چترال کے اس ابھرتے ہوئے مسئلے پر بھی وکلاء برادری کو آگے آکر نہ صرف ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ ویکٹمز کے لئے قانونی معاونت بھی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر چترال لائرز فورم پشاور ہائی کورٹ رحمت علی، نائب صدر شکیل درانی اور دیگر جملہ اراکین نے وغدہ کیا کہ چترال کے وکلاء نے پہلے بھی ان مسائل پر آواز بلند کرتے آئے ہیں اور آئندہ  بھی ایسے واقعات کے حوالے سے نہ صرف آواز اٹھائی جائے گی بلکہ کم دست متاثرین کو مکمل فری قانونی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس موقع پر یہ بھی فیصلہ ہوا کہ چترال میں خود کشیوں کی روک تھام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے مستقبل میں مل کر کام کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں