حیدر جاوید سید 64

آئین کا آرٹیکل 254/ پوری دال ہی کالی ہے کیا؟


مرتضیٰ سولنگی کا آئین کا آرٹیکل 254 پڑھنے کا مشورہ بلا وجہ نہیں ابتداً یہ بتایا گیا تھا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بیچوں بیچ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں انتخابی مہم کو نشانہ بنا سکتی ہیں اس لئے سوچا جا رہا ہے کہ ملک میں صدارتی فرمان کے ذریعے ایمرجنسی لگا کر انسداد دہشت گردی مہم مکمل کی جائے اور پھر انتخابات کرائے جائیں۔ بعدازاں بعض ذرائع سے خبر فراہم کی گئی کہ انتخابات فروری کی بجائے اپریل میں  کرانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔

تحریر: حیدر جاوید سید


گو کہ ذاتی طور پر اب بھی پر امید ہوں کہ عام انتخابات فروری 2024ء میں منعقد ہوجائیں گے۔ اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ مارچ میں سینیٹ کے نصف ارکان کی مدت کا ختم ہونا ہے جس سے ایوان بالا کی کارروائی آگے نہیں بڑھ پائے گی۔

 ریٹائر ہونے والے پچاس فیصد سینیٹرز  کے انتخاب کا الیکٹوریل کالج چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ قومی اسمبلی ہے (قومی اسمبلی نے اسلام آباد سے خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست سے منتخب کرنا ہے) آئین میں بعض وجوہات پر قومی اسمبلی کی مدت میں اضافے کا ذکر اور طریقہ کار موجود ہے لیکن سینیٹ کی مدت بڑھانے کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔

مارچ میں پچاس فیصد سینیٹرز صاحبان کی رخصتی (ریٹائرمنٹ) ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر پچھلے ڈیڑھ برس سے ان سطور میں عرض کرتا آ رہا تھا کہ عام انتخابات 10 فروری سے 10 مارچ کے درمیان ہوں گے۔ ایک دو دن آگے پیچھے مسئلہ نہیں۔ مسئلہ عام انتخابات سے انحراف سے پیدا ہوگا۔

دستور نے مجھ طالب علم کی اس ضمن میں رہنمائی نہیں کی کہ پچاس فیصد سینیٹروں سے محروم سینیٹ جسے اگلی تین سالہ مدت کے لئے چیئرمین و وائس چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی کرنا ہے عام انتخابات نہ ہونے کی صورت میں جس آئینی بحران کا شکار ہو گی اس کا علاج کیا ہے؟

بالائی سطور میں عرض کی باتیں ذہن پر پچھلے دو دنوں سے دستک دے رہی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسلام آباد میں مالکان کی قربت سے سرشار ایک دو صحافیوں کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے سکہ بند حامی ایک صحافی بھی اپنی تحریروں اور حالیہ دنوں میں کی گئی گفتگو میں یہ تاثر دیتے پائے گئے کہ عین ممکن ہے انتخابات کی تاریخ کچھ آگے ہوجائے۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے چند سینئر رہنماؤں کی گفتگو سے بھی اسی طرح کے اشارے ملے تھے۔

مزید آگے بڑھیں تو گزشتہ روز نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا تازہ بیان ہے۔ سولنگی کہتے ہیں، ’’آئین میں صرف 90 دن کے اندر انتخابات کا ذکر نہیں آرٹیکل 254 بھی پڑھ لیں‘‘۔

یہ اطلاع بھی ہے کہ نگران سیٹ اپ میں کچھ مزید توسیع اور انتخابات کے التواء کے لئے نگران وفاقی کابینہ میں ہلکے پھلکے صلاح مشورے بھی ہوئے ہیں۔ ساعت بھر کے لئے رکئے آپ آئین کا آرٹیکل 254 پڑھ لیجئے۔

یہ آرٹیکل کہتا ہے ’’جب کوئی فعل یا امر دستور کی رو سے ایک خاص مدت میں کرنا مطلوب ہو اور اس مدت میں نہ کیا جائے تو اس فعل یا امر کا کرنا صرف اس ایک وجہ سے کالعدم نہ ہوگا یا بصورت دیگر غیر موثر نہ ہوگا کہ یہ مذکورہ مدت میں نہیں کیا گیا تھا‘‘۔

یہاں ایک ضمنی بات عرض کردوں۔ میں سال بھر سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی نگران حکومتوں کی دستوری و قانونی حیثیت پر ان سطور میں سوالات اٹھاتے ہوئے عرض کرتا آرہا  ہوں کہ بھلے ان دو صوبوں کی اسمبلیاں بدنیتی سے توڑی گئیں لیکن نگران حکومت کے لئے جو وقت مقرر ہے اس سے تجاوز ہو رہا ہے دستور، قانون اور جمہوری حقوق کی بالادستی کا رونا رونے والوں کی زبانیں اس مسئلہ پر پتہ نہیں کیوں تالو سے لگ جاتی ہیں؟ اسی طرح چند دن قبل ان سطور میں عرض کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں وفاقی اور مزید دو صوبوں سندھ اور بلوچستان کی نگران حکومتوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جانے  لگیں گے۔

فروری میں ملک کے بعض علاقوں میں موسم شدید ترین سرد ہوگا۔ اسی دوران مسلم لیگ (ن) سمیت چند دیگر ہم خیال رہنما یہ کہتے سنائی دیئے کہ مختصر مدت کے اصلاحی پروگرام میں اگر شدت پسندی اور ایک دو دوسرے سنگین مسائل حل ہو جاتے ہیں تو ڈیڑھ سے دو ماہ کے لئے انتخابات کے التواء کو برداشت کر لیا جائے گا۔

 مرتضیٰ سولنگی کا آئین کا آرٹیکل 254 پڑھنے کا مشورہ بلا وجہ نہیں ابتداً یہ بتایا گیا تھا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بیچوں بیچ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں انتخابی مہم کو نشانہ بنا سکتی ہیں اس لئے سوچا جا رہا ہے کہ ملک میں صدارتی فرمان کے ذریعے ایمرجنسی لگا کر انسداد دہشت گردی مہم مکمل کی جائے اور پھر انتخابات کرائے جائیں۔ بعدازاں بعض ذرائع سے خبر فراہم کی گئی کہ انتخابات فروری کی بجائے اپریل میں  کرانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔

فروری میں ملک کے بعض علاقوں میں موسم شدید ترین سرد ہوگا۔ اسی دوران مسلم لیگ (ن) سمیت چند دیگر ہم خیال رہنما یہ کہتے سنائی دیئے کہ مختصر مدت کے اصلاحی پروگرام میں اگر شدت پسندی اور ایک دو دوسرے سنگین مسائل حل ہو جاتے ہیں تو ڈیڑھ سے دو ماہ کے لئے انتخابات کے التواء کو برداشت کر لیا جائے گا۔

یہ شدت پسندی عرف عام میں دہشت گردی ہی ہے  یہ یقیناً ایک مسئلہ ہے۔ جہاں تک عام انتخابات کے لئے انتخابی مہم کو کالعدم  ٹی ٹی پی کے مختلف گروپوں اور اسی ذہنیت کے دوسرے عناصر کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کا تعلق ہے تو ان اطلاعات کو رواں  سال اکتوبر کے مہینے میں افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک اہم مرکز پر ہونے والے دھماکے (کالعدم تنظیم اس دھماکے کو کارروائی قرار دیتی ہے) میں اہم کمانڈروں کے ساتھ مجموعی طور پر 80 افراد کی ہلاکت سے الگ کر کے نہیں  دیکھنا چاہیے۔

اکتوبر کے اس واقعہ کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی نے اس کا جواب مناسب وقت پر دینے کا اعلان کیا تھا گو دو تین دن بعد مناسب وقت پر جواب والے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا لیکن ٹی ٹی پی کے لوگوں کی ’’ذہنیت‘‘ سے بخوبی واقف صحافی اور تجزیہ نگار اس امر پر متفق تھے کہ ٹی ٹی پی کا یہ مناسب وقت انتخابی مہم کا عرصہ ہی ہوگا۔

ان ساری باتوں، خدشات، اطلاعات اور ٹی ٹی پی کے عزائم کے درمیان ایک اور بات بھی ہوتی رہی بلکہ اب بھی ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ درست یا غلط عمران خان کی مقبولیت کا علاج کئے بغیر انتخابی نتائج کا منظر نامہ کیا ہوگا؟

یہ کہ کیا  2018ء وغیرہ کی طرح مینجمنٹ سے حاصل ہونے والے نتائج عمومی طور پر قبول کر لئے جائیں  گے۔ اسی عرصہ میں ایک ذریعہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے شہباز شریف، اسحق ڈار اور خواجہ آصف کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ 2018ء میں بوئی  گئی اپنی فصل کا انتظام خود کرے۔

"یعنی تحریک انصاف کا بندوبست خود کرے” ۔

مسلم لیگ (ن) ایسے کسی پیغام کی تردید کر رہی ہے لیکن ذرائع اس پیغام رسانی کے ہونے پر مُصر ہیں۔

بار دیگر عرض کردوں کہ مجھے اب بھی امید ہے کہ عام انتخابات فروری میں ہوجائیں گے نہ ہونے کی صورت میں جنم لینے والے آئینی بحران کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ 8 فروری کی بجائے اتوار 6 اپریل 2024ء کو منعقد کرانے کے لئے قانونی راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔

بالفرض آئین کے آرٹیکل 254 کے الفاظ انتخابات کے التوا میں محفوظ راستہ دے سکتے ہیں؟   یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ الیکشن تو رہے اپنی جگہ خود نگران حکومتوں کی دستوری حیثیت چیلنج ہوگئی تو کیا ہو گا۔ کیا سپریم کورٹ آف پاکستان ریلیف دے پائے گی؟

میاں نوازشریف کے پچھلے قیام مری کے دوران ان سے اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن کے ’’بااعتماد‘‘ لوگوں کی ملاقات اور صلاح مشورے کس لئے تھے؟ یہ ملاقاتیں ’’وسیع تر ملکی مفاد‘‘ میں تھیں تو دوسری سیاسی جماعتوں سے کیوں نہیں؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ انتخابات فروری میں کرانے کی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں برتی جانی چاہیے۔

بظاہر یہ خوش آئند بات ہے کہ میاں نوازشریف کے بااعتماد ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ (ن) لیگ انتخابات کا التواء برداشت نہیں کرے گی۔ ہم ایسی کسی بھی کوشش کا راستہ روکیں گے لیکن پھر ایک سوال منہ پھاڑے کھڑا ہے۔

میاں نوازشریف کے پچھلے قیام مری کے دوران ان سے اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن کے ’’بااعتماد‘‘ لوگوں کی ملاقات اور صلاح مشورے کس لئے تھے؟ یہ ملاقاتیں ’’وسیع تر ملکی مفاد‘‘ میں تھیں تو دوسری سیاسی جماعتوں سے کیوں نہیں؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ انتخابات فروری میں کرانے کی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں برتی جانی چاہیے۔

دو ماہ کے التواء یا اکتوبر 2024ء میں کرانے کا مشورہ دینے والے درست مشورہ نہیں دے رہے۔ اس مشورے پر عمل کی صورت میں مسائل جنم لیں گے۔

ائین کا آرٹیکل 254 سر آنکھوں پر، لیکن آئین میں صرف یہی واحد آرٹیکل نہیں ہے۔ خود الیکشن کمیشن آرٹیکل 218۔ (3) کے تحت شفاف انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ نگران حکومت روزمرہ کے امور کی انجام دہی اور شفاف انتخابات میں معاونت کے کردار کے لئے ہے۔

بدقسمتی کہہ لیجئے کہ جب جولائی میں (رخصت ہونے سے چند دن قبل) قومی اسمبلی اور سینیٹ سے نگران وفاقی حکومت کے اختیارات میں اضافے کے لئے قانون سازی کرائی جا رہی تھی تو ان سطور میں عرض کیا تھا کہ  دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔ آج کے حالات میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی نکلی ہے۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں