73

چترال میں کتب نویسی کا المیہ


تحریر: کریم اللہ 

چترال کی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہاں پر زمانہ قدیم سے لکھنے پڑھنے کا رواج رائج تھا ایک اندازے کے مطابق چترال میں تحریری مواد یا سندات کی تاریخ کم و بیش چار سو سال پرانی ہے۔ رئیس دور کے سندات چترال میں اکثر ملتے ہیں جن سے اس دور کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں کلاش ریسرچر سید گل کلاش نے ایک پوٹ کاسٹ  میں دعوی کیا تھا کہ جب چترال میں کلاش دور حکمرانی رائج تھی تو اس دور میں باقاعدہ لکھنے پڑھنے کا رواج تھا۔ ان کے مطابق اسی دور میں کلاش برادری کی لکھی ہوئی مقدس کتابین اور تاریخی مواد موجود تھے۔

پھر سولہویں صدی میں یارقند کے مغل  میرزہ محمد حیدر دوغلات کا حملہ ہوتا ہے جس کی تفصیلات ان کی اپنی کتاب تاریخ رشیدی میں ملتی ہے۔

1620ء میں بدخشان کے شاہ بابر رئیس چترال پر حملہ اوور ہو کر یہاں ایک مرکزی حکومت قائم کرتے ہیں جن کی حکمرانی شمال مشرق میں یسین بلکہ گلگت سے لے کر چترال کے انتہائی جنوبی علاقوں بلکہ بشگال و کنڑ تک پھیلا ہوا تھا (ہدایت الرحمن، مورخ، انوازنیوز) اسی کے بعد ان کے بیٹوں اور پوتوں کی حکومت قائم ہوتی ہے جو کہ اگلے ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصہ تک جاری رہتی ہے تاانکہ آٹھارہویں صدی میں یہاں کٹوریہ اور خوشوختیہ دور حکومت کا آغاز ہوتا ہے۔

رئیس دور میں بھی لکھنے کا رواج تھا اور پھر کٹور دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف چترال کے کھوسل کے اندر پندرہ ہزار سے زائد فارسی زبان کے ڈاکومنٹس موجود ہیں۔ (ہدایت الرحمن، مورخ،)

اس سب کے باؤجود دور جدید میں جب بھی کسی چترالی مصنف نے قلم اٹھایا تو ان میں سے بیشتر نے حوالہ جات کا استعمال کرنے اور اپنی تحقیق کو موثر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

چترال میں اسلام کی آمد کے حوالے سے بھی پرانی تاریخ چترال، نئی تاریخ چترال سمیت زبانی روایات کم و بیش متروک ہو چکے ہیں اور جدید محقیقیں کے مطابق چترال میں 1550ء سے قبل اسلام کے آثار دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دے رہے ہیں( ہدایت الرحمن، مورخ، انوازنیوز)

مگر ہمارے مورخین آج بھی جب قلم اٹھاتے ہیں تو ناصر خسرو کی چترال میں تبلیغ کا حوالہ  ضرور دیتے ہیں وہ بھی صرف گرم چشمہ کے علاقوں کی زبانی روایات پر۔ حالانکہ  اس حوالے سے کوئی مستند دستایزات موجود نہیں۔

یہی نہیں بلکہ اٹھویں و نویں صدی عیسوی میں سنی علماء کی تبلیغ کی کہانیاں بھی زبان زد عام ہے۔ حالانکہ نامور سیاح مارکوپولو جب تیرہویں صدی عیسوی میں واخان سے ہو کر چین جا رہے تھے تو انہوں نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ واخان کے لوگ اسماعیلی ہے مگر بلور (موجودہ چترال و غذر و گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں کا قدیم نام) کے لوگ کسی مذہب کے پیرو کار نہیں۔ (سفر نامہ مارکوپولو)۔

دور جدید کے دو نامور محقیقیں یعنی البرٹو کوکو پارڈو اور اگسٹو کوکو پارڈو نے اپنی کتاب ” گیٹ آف پارستان” میں بھی مارکوپو کو بطور حوالہ استعمال کیا ہے۔ ( دی گیٹ آف پارستان)

اتنے سارے تاریخی دستاویزات کے باؤجود جب چترال کے محقیقیں کوئی کتاب یا آرٹیکل لکھتے ہیں تو بعض اوقات پوری کتاب میں بھی ایک ریفرنس استعمال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ چترال کے مصنفیں کی کتابیں پڑھنے کے بعد محض قصے کہانیوں کا گمان ہوتا ہے۔ البتہ  دور جدید میں چند ایک محقیقیں تحقیق کے اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

مصنف کے بارے میں :

کریم اللہ  عرصہ پندرہ سالوں سے صحافت سے شعبے سے منسلک ہے اس کے علاوہ وہ کالم نویس، وی لاگر اور وڈیو جرنلزم کر رہے ہیں۔

چترال اور گلگت بلتستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل و مشکلات اور روزمرہ کے واقعات پر لکھتے ہیں۔ جبکہ وہ بام دنیا کے ایڈیٹر ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں