65

یہ تالیاں کون بجا رہا ہے؟


تحریر: ظفراقبال


ان دنوں بلتستان کا ننھا وی لاگر شیراز اپنی منفرد انداز اور دیہاتی طرز زندگی کی بدولت سوشل میڈیا پہ بہت مقبول ہیں اور ARY کے شان رمضان پروگرام کا حصہ بھی ہیں۔ ان سے متعلق گوگل کی طرف سے امریکی دعوت کی خبر گردش کر رہی تھی۔ تاہم ان کے والد نے اس خبر سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔

شیراز کی شان رمضان میں شرکت پہ سوشل میڈیا کے بہت سارے صارفین نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور یوں شیراز کی سادی اور دیہاتی زندگی پہ شہری زندگی کا حملہ قرار دیا۔ کیونکہ وہ بلتستان کی خوبصورتی کو بے غیر کسی بناوٹ کے دنیا کو دیکھا رہا تھا۔

 وہ بلتستان کی ثقافت، رہن سہن اور بود و باش کو اجاگر کر رہا تھا۔ اور حقیقتا ایسا ہی ہوا وہ اچانک قدرتی ماحول سے نکل کر کراچی جیسے شہر میں شان رمضان کا حصہ بنا۔ ان کی لباس تبدیل ہوئی، زبان تبدیل ہوگی جو اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو سے لوگوں کو انٹرٹین کر رہا تھا۔

 آہستہ آہستہ شیراز کی سوچ تبدیل ہوگی جس کا بناوٹ، ملاوٹ اور مصنوعی خوشی سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ وہ جس ماحول میں پیدا ہوا ہے وہاں بناوٹ، جھوٹ، دھوکہ، مصنوعی خوشی، جعلی ہنسی، جعلی تالیاں، اور چوری چکاری جیسے خیالات کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وہاں ہر چیز خالص ہے، قدرتی ہے اور سادی ہے۔

ان کی معصومیت پہ قربان جاؤں کہ وہ جہاز کے عملے کو ڈرائیور پکارتے ہیں۔ شیراز کی خود اعتمادی دیکھئے جس انداز سے وہ میڈیا کو فیس کرتا ہے کمال ہے۔ یقینا یہ خود اعتمادی، پرفضا اور قدرتی ماحول ہی کی بدولت ہے۔

شیراز نے تیسرے ہی روز اپنی معصومیت سےARY  میں ریٹنگ کی خاطر "جھوٹی تالیوں” کا پردہ فاش کروایا کہ ” یہ تالیاں کون بجا رہا ہے”؟  کیونکہ وہ تالیاں ریکارڈیڈ تھیں۔ شیراز نے محسوس کیا اور بلا خوف کہنے لگا۔”یہ تالیاں کون بجا رہا ہے”؟

 یقینا یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اس جعلی بناوٹی نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں ہر چیز جعلی اور دھوکہ پہ مبنی ہے۔ اس نظام میں مینڈیٹ جعلی، حکومت جعلی، پارلیمنٹ جعلی، عدلیہ جعلی، ادویات جعلی، حتی کہ رمضان کے مہینے میں شان رمضان کی نشریات بھی جعلی۔ شیراز کے خون میں جعلسازی، دو نمبری اور سستی شہرت شامل نہیں وہ کراچی کو بلتستان کی عینک سے دیکھ رہا ہے کیونکہ انہوں نے جو بھی دیکھا ہے حقیقت دیکھا ہے، سچ دیکھا ہے اور اس پہ وہ مطمئن بھی ہیں۔ یقینا یہ گاؤں کی سیدھی سادی زندگی کی وجہ سے ہے۔ اللہ پاک شیراز کو جعلسازوں سے دور رکھے۔ دوسری بات شیراز کی سوشل میڈیا میں شہرت کے بعد بہت سارے والدین اپنے بچوں کو وی لاگر بنانے کے چکر میں ہیں اور ننھے منے بچے سوشل میڈیا پہ نظر آرہے ہیں۔ والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو زبردستی کسی اور کی نقل کرنے پہ مجبور نہ کریں۔ بچے کی دلچسپی، سکل اور ذہانت کے مطابق رہنمائی کریں۔ اگر ہر والد اپنے بچے کو شیراز بنانے کی کوشش کرے گا تو وہ نہیں بن پائے گا بچہ مایوس ہوگا اور زندگی سے بیزار ہوگا۔ بچے کو مختلف آپشنز دیں تاکہ اس کے پاس بہتر چوائسس ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں