کامریڈ بابا جان احتجاجی مظاہرے میں شامل 85

بارہ سالہ فلک نور کے اغواء کے خلاف احتجاجی مظاہرہ


12 سالہ مغویہ فلک نور کی عدم بازیابی کے خلاف آج گلگت پریس کلب کے باہر سول سوسائٹی گلگت بلتستان کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ ہاؤس تک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چیف کوآرڈینیٹر احسان علی ایڈووکیٹ ، فلک نور کے والد سخی احمد جان، کامریڈ بابا جان، یاسمین کریم سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کیا۔

اس موقع پر مختلف  سیاسی و سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں  نے دو مہینے قبل گلگت شہر سے اغوا ہونے والی  کمسن طالبہ فلک نور کی فوری بازیابی، پولیس کی غفلت سمیت نامزد ملزمان کے خلاف قانون کاروائی کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے اگر 2 اپریل تک فلک نور کو بازیاب کرا کے عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تو مظاہرہ دھرنے کی صورت اختیار کرے گا۔

مظاہرین نے پولیس کی غفلت سمیت چند اعلی حکام کے اس کیس میں مبینہ کردار پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

یاد رہے کہ 13 سال کے فلک نور 20 جنوری کو گھر سے درس گاہ جاتے ہوئے اغواء ہوا تھا جسے مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے مقامی افراد کی مدد سے اغواء کر کے مانسہرہ پہنچایا تھا۔ اس اغواء کے خلاف مغویہ فلک نور کے والد سخی احمد جان نے مختلف پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ تک کا دروازہ کٹھکٹھایا مگر ان کی کوئی شنوائی ہوئی اور نہ ہی فلک نور کا کوئی اتہ پتہ چلا۔

مگر مارچ کے تیسرے ہفتے میں گلگت بلتستان کے بعض سماجی کارکنان اور سول سوسائیٹی نے ایک مرتبہ پھر بڑے شدت کے ساتھ اس مسئلے کو اجاگر کیا اور جب بات سوشل میڈیا سے نکل کر ملکی و بین الاقوامی میڈیا تک پہنچی تو نامعلوم مقام سے فلک نور کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ انہیں کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ وہ خود اس لڑکے کے ساتھ آئی ہے۔

مگر لڑکی کے والد نے اس بیان کو دھونس دھمکیوں اور بلیک میلنگ کا نتیجہ قرار دے کر اسے مسترد کر دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ان کی نافہم بیٹی پر دباؤ ڈال کر ان سے زبردستی بیان ریکارڈ کروایا گیا ہے۔

تب سے لے کر اب تک گلگت بلتستان کی سول سوسائیٹی سراپا احتجاج ہے اس سلسلے میں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ گلگت، یسین اور ہنزہ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے وکلاء کی ٹیم اس کیس کو عدلیہ میں بھی لے کر گئے ہیں۔

یاد رہے کہ نادرا ریکارڈ اور ان کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے مطابق فلک نور کی عمر ساڑھے بارہ سے تیرہ سال کے درمیان ہے جبکہ وڈیو میں ان سے ان کی عمر سولہ سال بیان کی جا رہی ہے جبکہ وہ ابھی صرف چھٹی جماعت کی طالبہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں