سخی احمد جان 110

فلک نور کے عظیم باپ کو خراج تحسین


تحریر۔ اسرارالدین اسرار


یہ وہ عظیم باپ ہے جس کے چہرے پر اپنی بیٹی کی جدائی کے غم کا کرب عیاں ہے مگر اس نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ دنیا کے ہر باپ کی طرح یہ بھی اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ اس کی بیٹی اس کی گود سے دو مہینے قبل چھینی گئی ہے۔  اس عظیم باپ نے اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے گلگت بلتستان کے نظام انصاف اور قانون کے رکھوالوں کا کوئی ایسا دروازہ نہیں ہے جو نہ کھٹکھٹایا ہو۔

 دو مہینے گزرے ہیں یہ اپنی ننی منی بیٹی، جس کو اس نے اپنی گود میں بیٹھا کر کھلایا پلایا ہے اس کو زندہ سلامت دیکھنے کے لئے دن رات تڑپ رہا ہے۔ بیٹی کی تصویر یا ویڈیو جب بھی سوشل میڈیا میں آتی ہے اس کا کلیجہ پھٹ کر منہ کو آتا ہے۔

اس باپ نے اپنی بیٹی کے اغواء کی ایف آئی دو مہینے قبل دنیور تھانے میں  درج کرائی تھی۔ مقامی پولیس محض اس مسئلے کو ٹالتی رہی لیکن ان کی بیٹی کو بازیاب نہیں کراسکی۔ یہ باپ کہتا ہے میری بیٹی خوف زدہ ہے وہ آغوا ء کاروں کے چنگل میں ہے، ان کی جان کو خطرہ ہے۔

 یہ باپ کہتا ہے ملکی قوانین کے مطابق  سولہ سال سے کم عمر کی بچی مرضی سے شادی نہیں کر سکتی۔   اس بچی کی عمر نادرا ریکارڈ کے مطابق بارہ سال ہے۔ پھر اس سے زبردستی  دلائے گئے بیان کو کیوں سوشل میڈیا میں پھیلا یا جا رہا ہے؟

وہ کہتا ہے میں اس کا باپ اور شرعی طور پر ولی ہوں ، میری رضامندی کے بغیر ان کی نکاح کیسے ہوگئی؟

یہ باپ کہتا ہے کہ اغواء  کار اگر سچ اور حق پر ہیں تو خود ہی کورٹ میں پیش کیوں نہیں ہوتے ہیں؟  یہ باپ ایسے متعدد سوالات پولیس، عدالت، وکلاء، صحافی، اساتذہ، علماء ، حکومت اور معاشرے کے ہر فرد سے پوچھتا ہے۔ لیکن سب کو سانپ سونگھ گیا ہے کہیں سے بھی تسلی بخش جواب نہیں ملتا ، جن کو ان کی بات سمجھ آتی ہے وہ شرمندہ ہیں ، جن کو ان کی بات سمجھ نہیں آتی ہے وہ بےحس ہیں اور جو اس باپ پر ہنستے ہیں وہ ظالم اور درندے ہیں ۔

یہ باپ کہتا ہے کہ اغواء  کار اگر سچ اور حق پر ہیں تو خود ہی کورٹ میں پیش کیوں نہیں ہوتے ہیں ؟  یہ باپ ایسے متعدد سوالات پولیس ، عدالت ، وکلاء ، صحافی ، اساتذہ ، علماء ، حکومت اور معاشرے کے ہر فرد سے پوچھتا ہے۔ لیکن سب کو سانپ سونگھ گیا ہے کہیں سے بھی تسلی بخش جواب نہیں ملتا ، جن کو ان کی بات سمجھ آتی ہے وہ شرمندہ ہیں

 اگر کسی کو یہ کرب محسوس نہیں ہوتا ہے تو وہ اپنے گھر میں موجود کسی بیٹی کی طرف غور سے دیکھ لیں اور ان کی معصوم اداوں پر غور کریں تو ان کو آسانی سے سمجھ آجائے گا کہ آخر یہ باپ کہتا کیا ہے اور مانگتا کیا ہے؟

یہ باپ دو مہینے سے ایک ہی مطالبہ دہرا رہا ہے وہ یہ کہ "میری بیٹی کو عدالت میں پیش کیا جائے اور مروجہ ملکی قوانین کی روشنی میں فیصلہ کیا جائ”ے۔  یہ باپ کہتا ہے پولیس نے اپنا کام نہیں کیا ورنہ میری بیٹی کو عدالت میں لانے میں اتنی تاخیر نہ ہوتی۔

یہ باپ جب جب اس بے حس معاشرہ کی باتیں سنتا ہے ایسے میں یہ ہر روز مر کر پھر زندہ ہوتا ہے۔  اس کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں درد ہے جس کا اظہار یہ میڈیا ، وکلاء اور سماجی کارکنوں کے سامنے کرتا ہے۔

 رمضان کے اس مقدس مہینے میں مسلمانوں کے اس دیس میں اس کا کرب محسوس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس کو قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے کے کسی جرات مند اہلکار  نے ایک بار گلے سے لگا کر یہ امید نہیں دلایا ہے کہ ہم آپ کی بیٹی کو آپ کے پاس لے کر آئیں گے، آپ سے ملائیں گے ، آپ کو اپنی بیٹی کو سینے سے لگانے کا موقع فراہم کریں گے۔

اس بے رخی کے باوجود اس خوفناک دردندہ صفت معاشرے میں اس باپ نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ مجھے  امید ہے کہ یہ عظیم باپ آخری دم تک ہمت نہیں ہارے گا۔ جو باپ اپنی بیٹیوں سے محبت کرتے ہیں ، جن کے گھروں میں ننی ننی پریاں جیسی بیٹیاں ہیں وہ اس باپ کے دکھ درد کو سمجھ سکتے ہیں۔

مجھے روز اس کا چہرہ دیکھ کر رونا آتا ہے۔ میں اس باپ کے لئے روز یہ دعا کرتا ہوں کہ اس کو اپنی بیٹی سے ملنا نصیب ہو۔ کتنے آس اور کتنی چاہت سے اس نے اپنی بیٹی کو پالا ہوگا ۔

اس باپ کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی ایک ہونہار طالبہ تھی، وہ قرآن پڑھتی تھی ، وہ روز عبادت کرتی تھی۔ وہ کہتا ہے میری بیٹی کو اغواء کیا گیا ہے ، میری بیٹی کو مجھ سے ملایا جائے ، میں ان کو سینے لگانا چاہتا ہوں۔

اس عظیم باپ نے دو مہینے سے نہ ڈھنگ سے کھایا پیا ہے ، نہ سویا ہے اور نہ سکون سے بیٹھا ہے۔ مگر ظالم معاشرہ اتنی بے حسی سے اس کے کرب کو نظر انداز کر رہا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔

کہتے ہیں کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا. یہ معاشرہ ٹھیک نہیں ہوا تو ایسے ہی کسی مظلوم اور بےبس کسی باپ کی بد دعا سے تباہ و برباد ہوگا۔ فلک نور کے والد سخی احمد جان کو میرا سلام ہو۔

ایسی صورتحال سے متعلق فیض احمد فیض نے بہت خوب کہا تھا۔

جس دیس سے ماؤں بہنوں کو

اغیار اٹھا کر لے جائیں

اس دیس کے ہر اک حاکم کو

سولی پہ چڑھانا واجب ہے

جس دیس میں قاتل غنڈوں کو

اشراف چھڑا کر لے جائیں

جس دیس کی کورٹ کچہری میں

انصاف ٹکوں پر بکتا ہو

جس دیس کا منشی قاضی بھی

مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو

جس دیس کے چپے چپے پر

پولیس کے ناکے ہوتے ہوں

جس دیس میں جاں کے رکھوالے

خود جانیں لیں معصوموں کی

جس دیس میں حاکم ظالم ہوں

سسکی نہ سنیں مجبوروں کی

جس دیس کے عادل بہرے ہوں

آہیں نہ سنیں معصوموں کی

جس دیس کی گلیوں کوچوں میں

ہر سمت فحاشی پھیلی ہو

جس دیس میں بنت حوا کی

چادر بھی داغ سے میلی ہو

جس دیس میں بجلی پانی کا

فقدان حلق تک جا پہنچے

جس دیس کے ہر چوراہے پر

دو چار بھکاری پھرتے ہوں

جس دیس میں دولت شرفاء سے

نا جائز کام کراتی ہو

جس دیس کے عہدیداروں سے

عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں

جس دیس کے سادہ لوح انساں

وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں

اس دیس کے ہر اک لیڈر پر

سوال اٹھانا واجب ہے

اس دیس کے ہر اک حاکم کو

سولی پہ چڑھانا واجب ہے


Israruddin Israr

اسرارالدین اسرار سینئر صحافی اور حقوق انسانی کمیشن پاکستان کے کوآرڈینیٹر برائے گلگت بلتستان ہیں۔ ان کے کالم بام جہاں میں قطرہ قطرہ کے عنوان سے شائع ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں