49

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں


ممتاز گوہر

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں یہاں کے کچھ تنگ نظر لوگوں اور باقی دنیا کو بتا دیا کہ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں. انھوں نے بتا دیا کہ بچوں کے حقوق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی ہو تو مسلک، ذات پات اور علاقائیت سے نکل کر آواز اٹھانا سب کی اولین ترجیح ہونی چاہئے.

گلگت بلتستان کے مسلکی طور پر زخم شدہ معاشرے میں فلک نور کیس جو کہ ایک اغواء و کم عمری میں شادی کی ایک قانونی اور بنیادی انسانی حقوق کی مضبوط کیس ہے. یہاں کے کچھ ناعاقبت اندیش اس کیس کو بھی کھینچ کر اسی زخموں سے چور مسلکی کھاتے میں ڈالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

نادرا کے سرکاری دستاویزات کے مطابق فلک نور کی تاریخ پیدائش اٹھارہ جنوری 2012 ہے. اس حساب سے فلک نور کی عمر آج چھ اپریل 2024 کو بارہ سال دو مہینے اور انیس دن بن جاتے ہیں. اگر ہم کہیں کہ والد نے دو سال کم عمر لکھوالی ہے تو پھر بھی شادی کے لئے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے. لڑکی کا قد اور جسامت سے اس کا عمر تعین نہیں کیا جا سکتا۔

چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (سی ایم آر اے) 1929 کے تحت لڑکی کی شادی کے لیے کم از کم عمر کی حد 16 سال جبکہ لڑکے کی اٹھارہ سال مقرر ہے۔

اب جو لوگ اس کم عمری کی شادی کے حق میں آواز اٹھا رہے ان سے سوال ہے کیا آپ اپنی بہن یا بیٹی کا اس عمر میں شادی کرائیں گے؟ وہ بھاگ جائے اسے قبول کرنا تو دور کی بات، اگر وہ اس عمر میں کسی کو پسند کرے اور شادی کی اجازت مانگے تو آپ شادی کرا دیں گے؟ اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو مانیں یا نہ مانیں فلک نور کیس میں آپ لوگ کھل کر منافقت کر رہے ہے۔

معصوم بچیوں کو بہلا پھسلا کر کم عمری میں بھگایا جائے یا کم عمری میں شادی کی جائے یہ کسی بھی مذہب یا مسلک میں پسندیدہ عمل نہیں ہے. بہتر ہے کہ ایک خاندانی نظام کے تحت خوبصورت علاقائی و قانونی تقاضوں کے مطابق یہ رسم ادا کی جائے. بچوں کی تربیت (پیرنٹنگ) کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور اس فیلڈ میں بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔

گگت بلتستان میں مختلف مسالک کے لوگوں کی آپس میں شادیاں ہوتی رہی ہیں. فلک نور کا کیس پہلا ہے نہ ہی آخری. ایک ذمہ دار ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں ڈیڑھ ماہ میں اٹھارہ سال سے زائد عمر کی پانچ لڑکیوں نے بھاگ کر شادیاں کی ہیں. ان میں سے چار نے دیگر مسالک میں شادیاں کی ہیں. کسی نے اس پر کوئی آواز نہیں اٹھائی. کیوں کہ ملکی اور عالمی قوانین کے مطابق وہ ایسا کر سکتی ہے۔ وہ اپنے فیصلوں پر آزاد ہیں۔

فلک نور کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو مسلک کے ساتھ جوڑنے والو اگر ایسا ہی ہوتا تو ایسے تمام واقعات میں فلک نور کی طرح آواز اٹھایا جاتا. لیکن ایسا نہیں ہے. بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ (یو این سی آر سی) ہو یا ملکی قوانین کم عمری کی شادی غیر قانونی ہے. اور غیر قانونی اقدام کو مسلک کے کھاتے میں ڈال کر اسے جائز بنانے اور اس کے حق میں آواز اٹھانا بھی تعصب اور مسلکی انتہا پسندی ہے۔

لڑکی بھاگ جائے، پسندی کی شادی کرے یا اغوا ہو جائے، ہر بار لڑکی کے کریکٹر اور اس کے خاندان پر ہی سوال اٹھائے جاتے ہیں. لیکن جو لڑکا یہ حرکت کرتا ہے وہ کریکٹر میں دودھ کا دھلا اور اس کے خاندان والے پارسا اور "کنفرم جنّتی” ڈکلیرڈ ہوئے ہیں. جتنی بات لڑکی اور اس کے والدین اور خاندان پر ہوتی ہے. اسی طرح سے بات لڑکے کی تربیت، والدین اور خاندان پر بھی ہونی چاہئے۔

نادرا کے سرکاری دستاویزات کے مطابق فلک نور کی تاریخ پیدائش اٹھارہ جنوری 2012 ہے. اس حساب سے فلک نور کی عمر آج چھ اپریل 2024 کو بارہ سال دو مہینے اور انیس دن بن جاتے ہیں. اگر ہم کہیں کہ والد نے دو سال کم عمر لکھوالی ہے تو پھر بھی شادی کے لئے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے. لڑکی کا قد اور جسامت سے اس کا عمر تعین نہیں کیا جا سکتا۔

مجھے گلگت بلتستان کی گجر کمیونٹی سے خاص طورپر ہمددری ہے یہ ابتداء سے اب تک غربت اور مشکل حالات سے نبرد آزما ہیں. اگر اس کیس میں مبینہ طور پر کم عمری میں شادی کرنے والے فرید اگر اٹھارہ سال سے کم عمر ہے تو بچہ ہونے کے ناطے اس کا تحفظ اور سیکورٹی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی فلک نور کی. اگر دستاویزات سے ثابت ہو کہ فرید اٹھارہ سال سے کم عمر ہے تو عالمی اور ملکی قوانین کے تحت دونوں بچے ہیں. ایسے میں فرید کی شادی ممکن ہے نہ ہی فلک نور کی۔

فلک نور کے کیس میں سب سے بہترین کردار اس کے والد سخی احمد جان نے ادا کیا ہے. وہ اس وقت صرف اپنی بچی کا کیس نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے پانچ لاکھ کے قریب بچوں کا کیس لڑھ رہے ہیں. اگر سخی احمد جان یہ کیس جیت جاتے ہیں اور کم عمری کی شادی رکوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ صرف سخی احمد جان کی جیت نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے لاکھوں کم عمر بچوں کی جیت ہے۔

سخی احمد جان جیسے لوگ گلگت بلتستان میں ہزاروں ہوں گے جو اس طرح کے واقعات میں اپنی کم عمر بچیوں کے کھیلنے کودنے اور پڑھنے کی عمر میں غیر قانونی طور پر شادیاں کر وا دی ہوں. یا ایسے واقعات میں قانون کا سہارا لینے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کی ہو. سلام ہو سخی احمد جان کو جو ایک مزدور اور کم پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کے لئے ہر قانونی اقدام اٹھانے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے. سخی احمد جان دعا زہرہ کے والد کی طرح ایک ہیرو ہے۔

امید ہے وہ اس قانونی جنگ میں پیچھے نہیں ہٹے گا اور سرخرو ہوگا۔

کچھ لوگ سوال اٹھا رہے تھے کہ فلک نور کے کیس میں اتنا شور اور واویلا کیوں مچایا جا رہا ہے جبکہ ایسے واقعات آئے روز ہوتے ہیں. اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جو بھی باپ یا ماں اپنے بچوں سے ہونے والی زیادتی کے خلاف سخی احمد جان کی طرح اٹھ کھڑا ہوگا اس کا حسب استطاعت ساتھ دیا جائے گا. جو ایسے واقعات کے بعد دیت کے پیسے لیں، کورٹ کے باہر معاملات کو نمٹا لیں تو ایسے لوگوں کا سول سوسائٹی اور دیگر سٹیک ہولڈر کیسے ساتھ دیں گے.

فلک نور کے کیس کو سامنے رکھتے ہوئے گلگت بلتستان اسمبلی میں بھی کم عمری کی شادی روکنے کے حوالے سے سخت قانون سازی کرنی ہوگی. عوام کو کم عمری کی شادی کے نقصانات کے حوالے سے آگہی دینی ہوگی اور باقی زیادہ تر اسلامی ممالک کی طرح شادی کی عمر کو لڑکا اور لڑکی دونوں کے لئے کم از کم اٹھارہ سال مقرر کرنا ہوگا. گلگت بلتستان کے اکثر اضلاع میں کم عمری کی غیر قانونی شادی کو کھلے عام انجام دیا جاتا ہے. اس کے لئے متعلقہ اداروں کو متحرک اور قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا ہوگا.

اس کیس میں گلگت بلتستان پولیس نے جس طرح کی بے حسی اور غیر پیشہ وارانہ کردار ادا کیا ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے. تیرہ سال کی بچی کو ڈھائی ماہ تک ڈھونڈ نہ سکے. گلگت بلتستان کے حددود سے نکل کر ہزارہ جاتے ہیں وہاں آرام سے رہتے ہیں واپس خود ہی اسی راستے گلگت آ جاتے ہیں اور خود ہی عدالت پیشی کے لئے آ جاتے ہیں. اور پولیس کہتی کہ ہم نے ڈھونڈ لیا. اتنا عرصہ آپ نے کیا کیا. آپ کی ٹیمیں ناکام کیوں ہوئیں؟ راستے کی چیک پوسٹوں میں سہولت کار یا پولیس اہلکار تھے؟ یقیناً اسی سے جڑھے کئی سوال جواب طلب ہے.

 
فلک نور کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو مسلک کے ساتھ جوڑنے والو اگر ایسا ہی ہوتا تو ایسے تمام واقعات میں فلک نور کی طرح آواز اٹھایا جاتا. لیکن ایسا نہیں ہے. بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ (یو این سی آر سی) ہو یا ملکی قوانین کم عمری کی شادی غیر قانونی ہے. اور غیر قانونی اقدام کو مسلک کے کھاتے میں ڈال کر اسے جائز بنانے اور اس کے حق میں آواز اٹھانا بھی تعصب اور مسلکی انتہا پسندی ہے۔

مگر گلگت بلتستان پولیس کے پاسس ناکامی اور سہولت کاری کے سوا کچھ نہیں. ساتھ ساتھ وزیر داخلہ، ترجمان اور دیگر حکومتی ذمہ دار بھی سہولت کاری کی یہ ذمہ داری بطریق احسن انجام دے رہے ہیں.

فلک نور کیس میں ہر مسلک اور ہر مذہب کا بندہ ایک ہی پیج پر ہے. جن کی صبح اور شام ہی مسلکی چورن کی خرید و فورخت سے ہو وہ تو ہر چیز کو اسی عینک سے ہی دیکھیں گے. یا پھر وہ لوگ مخالف ہیں جو اس کیس کے قانونی پہلوؤں سے لا علم ہیں. مجھے یاد ہے گلگت سکار کوئی کی معصوم زینب زیادتی کیس کے لئے بھی ایسے ہی آواز اٹھایا گیا تھا مگر اس کیس کو بھی انصاف فراہمی کے بجائے مسلکی کارندوں نے دبا دیا. لہذا یہ ایسے کیسز میں یہ مسلک مسلک کا کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا. حق سچ، جھوٹ تعصب سب کھل کے سامنے آجاتے ہیں.

اگر کوئی اٹھارہ سال سے زائد عمر کی بچی کو پسند کی شادی پر غیرت کے نام پر قتل کرتا ہے اور فلک نور کے کیس میں مبینہ طور بھاگنے اور کم عمری میں شادی کی حمایت کرتا ہے تو وہ سب سے بڑا منافق ہے. قانون کا ساتھ دیں اور اسے مضبوط کریں. خواتین کو قتل کرنا غیرت نہیں بلکہ سب سے بڑی بے غیرتی اور بزدلی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں