54

فلک نور ایشو : کیس اسٹڈی کی ضرورت


خاطرات :امیرجان حقانی

فلک نور نے کم عمری میں والدین اور فیملی کی اجازت کے بے غیر، اپنی مرضی سے جا کر شادی کی، اور بار بار ویڈیو پیغامات اور عدالت کے سامنے بیان ریکارڈ کروایا۔ سب کچھ پرنٹ، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا میں وائرل ہوچکا ہے ایسا کرنا گلگت بلتستان کی سماجی و اخلاقی اور دینی روایات نہیں۔ ہمارا سماج کسی صورت اس کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔

بہرحال یہ سب کچھ قابل مذمت و افسوس ہے۔ عدالت میں پیش ہونے کے بعد یہ کیس بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

یہ پہلا کیس بھی نہیں ہے گھر، فیملی ، روایات اور علاقائی کلچر سے بغاوت کرکے شادی کرنے کے سینکڑوں رجسٹر کیسز ہیں۔ مخصوص علاقوں یا مذہب کے ساتھ بھی اس کا تعلق نہیں ہے، تاہم کچھ علاقوں میں کیسز کی تعداد زیادہ ہے اور ان کا میڈیا انفلوئنز بھی زیادہ ہے اس لیے ایسی کیسز ہائی لائٹ زیادہ ہوتی ہیں۔

یہ پہلا کیس بھی نہیں ہے گھر، فیملی ، روایات اور علاقائی کلچر سے بغاوت کرکے شادی کرنے کے سینکڑوں رجسٹر کیسز ہیں۔ مخصوص علاقوں یا مذہب کے ساتھ بھی اس کا تعلق نہیں ہے، تاہم کچھ علاقوں میں کیسز کی تعداد زیادہ ہے اور ان کا میڈیا انفلوئنز بھی زیادہ ہے اس لیے ایسی کیسز ہائی لائٹ زیادہ ہوتی ہیں۔

 کم عمری میں ایسا کرنے کی بھی درجنوں مثالیں موجود ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اہم سماجی ایشو پر تحقیق کیا جائ۔

کوئی مفکر، ریسرچر کوئی تحقیقی ادارہ یا یونیورسٹی اس کو بطور کیس اسٹڈی مطالعہ کے لئے چُنے اور کام شروع کرے، مذہبی تعلیمی ادارے اور این جی اوز بھی اس سمت میں تحقیق کرسکتی ہیں یا تحقیق میں ممد و معاون بن سکتی ہیں۔

ہمارے ہاں یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے سیاسی و مذہبی فسادات اور غیر ضروری امور میں پڑے ہوتے ہیں۔ اصل کرنے کے یہی کام ہیں جن سے درگزر کیا جاتا ہے۔ موجود فنڈ کو اللوں تللوں میں ضائع کیا جاتا ہے۔

ریسرچر اور یونیورسٹیز کے لئے گلگت بلتستان جیسے روایتی سماج کی لڑکیوں کا بھاگ کر شادی کرنا، بالخصوص کم عمری میں ایسا کرنا بہت ہی اہم اور ہارٹ ٹاپک ہے۔

اس اہم موضوع پر کیس اسٹڈی کا خاکہ تیار کرتے وقت درج ذیل اہم سوالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے.

1۔درست معلومات:

لڑکیوں کی اصل عمر اور ڈاکومنٹس کی عمر کیا ہے تعلیمی سطح، خاندانی ماحول، اور معاشرتی حالات کیا اور کیسے ہیں۔

2۔ بھاگ کر شادی کی وجوہات:

آخر وہ کونسی خاص وجوہات ہیں جن کی وجہ سےلڑکیاں بھاگ کر، بالخصوص کم عمری میں شادیاں کرنے پر مجبور ہوئی ہیں؟

کیا یہ والدین کی روش ہے؟

بہلانا پھسلانا ہے، نفسیاتی جذبات اور عشق و محبت کے چونچلے ہیں.

دھمکانا اور ڈرانا ہ۔

سماجی رویوں سے بغاوت ہے۔

لڑکیوں پر بے جا سختی یا بے جا آزادی ہے۔

شوق یا فیشن ہے۔

اپنے مذہب سے بغاوت ہے۔

غربت یا کسمپرسی ہے۔

شعور و تربیت کی کمی ہے۔

جدید اور مخلوط تعلیم کا شاخسانہ ہے۔

3۔ معاشرتی اثرات:

بھاگ کر شادی کے بعد معاشرتی اثرات کیا ہوں گے؟ بالخصوص کم عمری میں بھاگ کر شادی سے مستقبل کے سماجی سٹرکچر پر کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے؟

فیملی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

4: قانونی مسائل و پیچیدگیاں :

بھاگ کر شادی اور کم عمری میں ایسا کرنے کی صورت میں قانونی مسائل کیا ہوں گے؟

5:صحت و تعلیم پر اثرات:

کم عمری میں شادی کرنے سے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر کیسا اثر ہوگا؟ اور صحت بالخصوص زچکی معاملات میں کیا برے اثرات مرتب ہوں گے؟

6:  فوائد و نقصانات کا موازنہ:

بھاگ کر شادی کرنے اور بالخصوص کم عمری میں ایسا کرنے کے فوائد اور نقصانات کا تفصیلی موازنہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً خاندانی تشہیر، قتل و غارت، مستقل دشمنیاں، اسی انداز میں بدلہ لے کر ایک اور ٹریجڈی کو جنم دینا، اخلاقی اصول، اور معاشی حالات وغیرہ

اس کیس اسٹڈی میں ان جیسے دیگر اہم سوالات کے جوابات شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ مختلف جہات کو مد نظر رکھ کر اس اہم موضوع پر غیر جانبدار ہو کر، مکمل تجزیہ و تحقیق کیا جا سکے۔ اور بہترین سفارشات مرتب کرکے سماج، اداروں بالخصوص میڈیا انفلوئنسرز اور سرکاری عمال کو بھی ایسے ایشوز پر تعصبات سے پاک ہوکر ہینڈل کرنے کا راستہ دکھایا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں